Wed, September 16, 2026

پنجاب حکومت کا غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں اور غیر ملکیوں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں اور غیر ملکیوں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

لاہور: پنجاب حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں اور دیگر غیر ملکیوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت امن و امان پر ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں اور غیر ملکیوں کو کرائے پر پراپرٹی دینے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

اجلاس میں ہدایت دی گئی کہ مساجد میں اعلانات کرائے جائیں تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی شناخت کی جا سکے۔ علاوہ ازیں، پٹواریوں، نمبرداروں اور ایس ایچ اوز کو غیر ملکیوں کو دی گئی پراپرٹی کی رپورٹ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی شناخت کے لیے جدید چہرہ شناسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ، وزٹ ویزہ پر آنے والے یا غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو کر کام کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو افغان یا غیر ملکی کو پراپرٹی کرائے پر دینے کی صورت میں سخت ایکشن لیا جائے گا۔

پنجاب میں 45 ہولڈنگ سنٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں افغان باشندوں کو قیام و طعام کے علاوہ طورخم بارڈر تک ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی اسلحہ کے خلاف مہم بھی جاری ہے اور سوشل میڈیا پر انتہاپسندوں کی حمایت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے تمام حکام کو ہدایت کی ہے کہ یہ اقدامات ذمہ داری سے کیے جائیں اور کسی بھی بے گناہ شخص کو نقصان نہ پہنچے۔

ٹیگز: