Wed, September 16, 2026

 خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں کی واپسی میں سست روی، 43 کیمپ ابھی فعال

 خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں کی واپسی میں سست روی، 43 کیمپ ابھی فعال

پشاور: وفاقی حکومت کی Illegal Foreigner Repatriation Plan (IFRP) کے تحت ملک بھر میں غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی جاری ہے، تاہم خیبرپختونخوا میں عمل سست رہنے کے باعث تشویش پائی جاتی ہے۔

IFRP کے فیز 3 کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں 54 افغان مہاجر کیمپوں کو قانونی طور پر غیر فعال قرار دیا گیا، جن میں 43 کیمپ خیبرپختونخوا، 10 بلوچستان اور 1 پنجاب میں تھے۔ پنجاب اور بلوچستان میں پالیسی پر بروقت عمل درآمد ہوا، اور ہزاروں افغان شہری واپس اپنے وطن روانہ کیے گئے، لیکن خیبرپختونخوا میں صرف دو کیمپوں سے واپسی ممکن ہوئی ہے جبکہ باقی 41 کیمپ بدستور فعال ہیں۔

صوبائی حکومت ان کیمپوں میں رہائش پذیر افغان باشندوں کو بجلی، پانی، صحت اور دیگر سہولیات فراہم کر رہی ہے، جس سے صوبے کے محدود وسائل پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ صورتحال دہشت گردی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خطرات کو بھی بڑھا رہی ہے۔

وفاقی حکومت کی ہدایات کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت IFRP پر مؤثر عمل درآمد کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، جس پر قومی سلامتی اور صوبائی انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ٹیگز: