رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ بہت تیزی سے اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عیدالفطر میں اب صرف ایک ہفتہ باقی ہے۔ دو طاق راتیں گزر چکی ہیں، تین باقی رہ گئی ہیں۔ اس مقدس مہینے میں سب اہل ایمان زیادہ سے زیادہ فیوض و برکات سمیٹنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور سب کا اپنا اپنا انداز ہے۔ کوئی عبادت میں اپنا وقت گزارتا ہے تو کوئی زیادہ سے زیادہ صدقہ خیرات کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کچھ لوگ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے حجاز مقدس کا رخ کرتے ہیں۔ اسی طرح قلم سے تعلق رکھنے والے بھی معمول کے تخلیقی عمل کو موخر کر کے تقدیسی کلام کہنے کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ حمد، نعت اور مناقب لکھے جاتے ہیں۔ نعتیہ مشاعرے اور محافل نعت کثرت سے منعقد کرائی جاتی ہیں۔
ایسے ہی اہل قلم میں ابوالحسن خاور بھی شامل ہیں جنھوں نے خود کو نعت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے اور نعت ورثہ کے نام سے ایک ادبی تنظیم بھی چلا رہے ہیں۔ ابوالحسن خاور نعت ورثہ کے زیر اہتمام ہر سال نعت کا ایک بہت عظیم الشان طرحی مشاعرہ منعقد کراتے ہیں۔ اس مشاعرے کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ کسی زمینی مقام پر نہیں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر ہوتا ہے اور پورا مہینہ جاری رہتا ہے۔ یہ ایک عالمی سطح کا مشاعرہ ہوتا ہے جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے اردو شعرا حصہ لیتے ہیں۔
اس بار بھی ابوالحسن خاور نے یہ مشاعرہ سجا رکھا ہے جو اس وقت بھی فیس بک گروپ نعت ورثہ پر جاری ہے اور تادم تحریر اس میں440 شعرا کی نعتیں آویزاں کی جا چکی ہیں جبکہ مزید نعتوں کی آمد کا سلسلہ ابھی جاری۔ دیکھتے ہیں کہ یہ کمند کہا جا کر ٹوٹتی ہے۔ مشاعرے میں نوآموز شعرا سے لے کر بڑے بڑے مشاہیر بھی حصہ لے رہے ہیں جن میں عصر حاضر کے دو سب سے معتبر نام ڈاکٹر خورشید رضوی اور ڈاکٹر ریاض مجید بھی شامل ہیں۔ مشاعرے کی پہلی نعت نامور شاعر سعود عثمانی اور دوسری نعت جلیل عالی کی ہے جبکہ انتظامیہ کے اعلان کے مطابق آخری نعت ممتاز شاعر سحر انصاری کی ہو گی۔ مشاعرے میں شاعرات کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، گوجرانوالا، ملتان، میانوالی، حیدر آباد، گلگت، ایبٹ آباد بنوں اور مظفر آباد سمیت ملک کے کم و بیش تمام شہروں سے شعرا اس مشاعرے میں حصہ لے رہے ہیں۔ بیرون ملک مقیم شعرا میں امریکہ، کینیڈا، ملائشیا، دوبئی، اٹلی، سپین، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، سعودی عرب، سکاٹ لینڈ، بھارت اور آسٹریلیا سمیت مختلف ملکوں کے اہل قلم شامل ہیں۔ راقم الحروف کی خوش بختی ہے کہ اسے بھی اس خوبصورت مشاعرے کا حصہ بننے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
مشاعرے کا اعلان رمضان المبارک سے قبل کیا گیا تھا جبکہ نعتیں وصول ہونے کی تاریخ 20رمضان المبارک مقرر کی گئی تھی۔ فیس بک پر نعتیں آویزاں کرنے کا سلسلہ یکم رمضان المبارک کو شروع کیا گیا تھا جو ابھی تک چل رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ اب تک کم و بیش500نعتیں موصول ہو چکی ہیں۔ اس طرح اس مشاعرے کو زمینی مشاعروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کامیاب کہا جا سکتا ہے کہ زمین پر منعقد ہونے والے مشاعروں میں تو عام طور پر زیادہ سے زیادہ تیس چالیس شاعر شرکت کرپاتے ہیں اور یہ مشاعرے بھی زیادہ سے زیادہ تین چار گھنٹے چلتے ہیں۔ ان مشاعروں میں شعرا کو صرف واہ واہ سبحان اللہ کی داد دی جاتی ہے جبکہ نعت ورثہ کے مشاعرے میں اشعار پر فنی حوالوں سے بھی سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے اور نئے سیکھنے والوں کو بہت کچھ ملتا ہے۔
اس بار مشاعرے کے لیے جو طرح مصرع دیا گیا وہ کچھ یوں ہے "قریہءمدحتِ سرکار میں آ جاتے ہیں"۔ اس طرح مصرع پر بہت شاندار گرہیں بھی دیکھنے کو ملی ہیں اور اس زمین میں بہت عمدہ اشعار بھی سامنے آئے ہیں۔ یوں تو اس مشاعرے میں شامل ہر شعر ہی لاجواب ہیں تاہم چند چنیدہ اشعار آپ کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
عہد موجود کی ظلمت سے نکل کر خورشید
پھر اسی عہدِ پر± انوار میں آ جاتے ہیں
(ڈاکٹر خورشید رضوی)
ڈھونڈ نعت اہلِ غزل میں کہ کبھی پھول بھی کچھ
خس و خاشاک کے انبار میں آ جاتے ہیں
(ڈاکٹر ریاض مجید)
نعت کہتا ہوں تو لگتا ہے کوئی دیکھتا ہے
مجھ سے عاصی نِگَہ یار میں آجاتے ہیں
(سعود عثمانی)
آیتیں آپ چلی آتی ہیں پیچھے پیچھے
آپ خاموشی سے جس غار میں آ جاتے ہیں
(واجد امیر)
نطق مہکا ہوا رہتا ہے گلابوں کی طرح
ان کے اوصاف جو گفتار میں آ جاتے ہیں
(نسرین سید)
سنگ ہوں، نخل ہوں یا آنکھ میں ٹھہرے ہوئے اشک
سب وہاں موجہءاظہار میں آ جاتے ہیں
(ابوالحسن خاور)
اس مشاعرے میں راقم کی کہی ہوئی نعت بھی شامل ہے جس کی گرہ کا شعر کچھ یوں ہے:
دل ہو جب دہر کے ویرانوں سے بے زار تو ہم
"قریہءمدحتِ سرکار میں آ جاتے ہیں"