Wed, September 16, 2026

ماہ رنگ لانگو اور نوبل پیس پرائز 

ماہ رنگ لانگو اور نوبل پیس پرائز 

اب تک دیکھا گیا ہے کہ نوبل پیس پرائز کے ممکنہ امیدوار چنتے وقت دنیا بھر میں امن، محبت اور فلاح انسانیت کی مثالیں قائم کرنے والے افراد کو ہی اس معزز ایوارڈ کے لئے نامزدگی کے اہل سمجھا جاتا رہا ہے، مگر اس سال ہم ایسے افراد کی نامزدگی بھی دیکھ رہے ہیں کہ جن کی سرگرمیاں اپنے ہی وطن کے خلاف اور مہذب دنیا کی طرف سے اعلان کردہ اور کالعدم قرار دیئے گئے دہشت گرد مسلح گروہوں کی حمایت رہی ہیں، تو ایسا کوئی بھی فعل دنیا کے ممتاز ترین ایوارڈ کے مقصد اور نیک نیتی کے خلاف گردانا جائیگا۔ اس سال کی فہرست میں ایک ماہ رنگ لانگو نامی خاتون کا نام شامل ہونا کسی مذاق سے کم نہیں۔ کیونکہ اب تک اس خاتون کے ملک اور قوم دشمن افعال، تعلقات اور ہمدردیاں اسی وطن میں موجود عالمی سطح پہ کالعدم قرار دیئے گئے مسلح دہشت گرد گروہوں کے ساتھ ہیں۔ یقینا" ایسی کسی بھی نامزدگی سے عالمی سطح پہ دہشتگردی کو کسی بھی صورت میں تسلیم کرنے کا انتہائی غلط اور منفی پیغام جائیگا۔ اس سے دنیا میں یہ تاثر بھی جائیگا کہ کوئی چاہے دہشت گردوں کی حامی ہو اور اپنے ہی ملک اور قوم کے دشمنوں کے ساتھ کھڑی ہو، وہ بھی امن کی علمبردار کہلا سکتی ہے۔ درحقیقت تو ایسی نامزدگی ہی دنیا کے اس معزز ایوارڈ اور اب تک اسے حاصل کرنے والوں کی توہین سے کم نہیں۔ 
ماہ رنگ لانگو کون ہے اور اس کی دنیا میں امن و محبت یا فلاح انسانیت کی کون سی خدمات ہیں کہ اسے نامزد کیا گیا ہے آئیے اس پہ کچھ روشنی ڈالتے ہیں۔ موصوفہ ایک ایسے خاندان سے ہے جس کا براہ راست تعلق بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) جیسی کالعدم دہشت گرد تنظیم سے ہے۔ لوکل و انٹرنیشنل میڈیا اور اس خطے کے باسیوں کے مطابق اس کا باپ عبدالغفار لانگو اسی دہشت گرد تنظیم کا سرکردہ رہنما تھا اور اس کی تمام مسلح سرگرمیاں اپنے ہی وطن پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف تھیں۔ اس کا ایک دوسرے دہشت گرد گروہ کے ہاتھوں قتل بھی آپسی چپقلش اور طاقت کے حصول کی لڑائی کی وجہ سے ہوا تھا۔ باپ کے قتل کے بعد کئی سال کی خاموشی کے بعد کچھ عرصہ قبل ایک دم ماہ رنگ لانگو نے اپنے والد کی موت کو ایک آزادی پسند کی شہادت کے طور پر پیش کرنا اور 
اس کے دہشتگردی کے افعال کو جائز ٹھہرانا شروع کر دیا۔ ایک اجرتی قاتل جس نے پاکستان دشمن ممالک سے ڈالروں کی خاطر دہشت گردی کی مسلح کارروائیوں میں سیکڑوں بے گناہ، نہتے اور معصوم ہم وطنوں کو قتل کیا اس خاتون نے اسے ہیرو بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ 
پھر بات صرف یہاں پہ ہی نہ رکی بلکہ اسی ماہ رنگ لانگو نے اپنے باپ کی قبر پر عالمی سطح پہ کالعدم قرار دی گئی دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کا پرچم لہرا کر واضح پیغام دیا کہ اس کا امن سے کوئی واسطہ نہیں اور وہ اپنے باپ کے دہشتگردی والے راستے پر چلنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اب اس کو نوبل پیس پرائز کے لئے نامزد کرنے والوں سے پوچھنا ہے کہ کیا اس کا یہ فعل کسی بھی طور پر پرامن یا انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہے یا یہ ایک دہشت گرد تنظیم کی سر عام حمایت کے مترادف ہے؟ مہذب دنیا کی نظر میں تو یہ خاتون ایسے افعال سے ایک خود مختار، ایٹمی قوت مملکت پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
پھر وقت کے ساتھ ساتھ اسی ماہ رنگ لانگو کے جلسوں میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی سر عام حمایت اور دہشت گردی کے واقعات کی مدح سرائی ایک اور سنگین مسئلہ اور الزام ہے۔ وہ بار بار ان کالعدم دہشتگرد تنظیموں، جن میں اب اس کے باپ کے نام سے منسوب کالعدم تنظیم مجید بریگیڈ بھی شامل ہے، ان تنظیموں کی مسلح کارروائیوں کو جائز قرار دے کر ان کے گھناو¿نے دہشتگردی کے افعال، جن کے نتیجے میں سیکڑوں بے گناہ لوگ مار دیئے گئے ہیں، کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ بے شک یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ آپ دہشت گردوں کی حمایت میں کھل کر کھڑے ہو جائیں۔ ایسے دہشتگرد جو نہ صرف اپنے ملک کی سالمیت کے خلاف ہیں بلکہ عالمی امن کے بھی دشمن ہیں۔ اب یہاں ایسے افراد کا نوبل پیس پرائز کے لئے نامزد ہونے سے عالمی سطح پر بھی ایک انتہائی خطرناک پیغام جانے کی امید ہے کہ دہشت گردوں اور دہشتگردی کی حمایت کرنا، ہم وطنوں کو قتل کرنا یا ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کرنا، عالمی امن اور اقوام عالم کے لیے قابل تعریف عمل ہے۔ لیکن کیا نوبل پیس پرائز کے لئے نامزدگی کی یہی پیشگی شرائط ہیں؟ یقینا نہیں وہ شرائط اس خاتون امیدوار کے خطرناک ایجنڈے کے برعکس ہیں اور اگر وہ برعکس ہیں تو پھر ایسی متنازع نامزدگی ہی کیوں؟ ۔
یہاں یہ کہنا بھی ہرگز غلط نا ہو گا کہ ماہ رنگ لانگو نامی خاتون کی سرگرمیاں قطعی سیاسی یا سماجی نوعیت کی نہیں ہیں بلکہ وہ واضح طور پر ملک دشمن ایجنڈے اور دہشتگردوں کی حمایت کرتی ہیں۔ اس کے کئی بیانات اور افعال مملکت پاکستان اور پچیس کروڑ عوام کی قومی سلامتی کے خلاف ہیں۔ وہ مسلسل اپنی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف برسر پیکار دشمن طاقتوں کا آلہ کار بن کر دہشتگردی کو تقویت دے رہی ہے، جو کہ نا صرف پاکستان کے قانون اور آئین کے تحت ایک ناقابل معافی جرم ہے بلکہ عالمی سطح پہ بھی سنگین جرم قرار پاتا ہے۔ 
ایک ایسی خاتون جس نے کبھی لوکل یعنی ملکی یا عالمی سطح پہ دہشت گردی کے خلاف سخت موقف نہیں اپنایا اور جس نے ہمیشہ اپنے ملک کی سلامتی کو نظرانداز کیا، تو پھر ایسی خاتون کن بنیادوں پہ نوبل پیس پرائز کے لئے اہل ہو سکتی ہے؟ یاد رہے کہ ماہ رنگ لانگو کی حمایت اور دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں اس کی مثبت رائے عالمی سطح پر بھی ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر ایسے افراد کو عالمی سطح پر پذیرائی دی جائے گی تو اس سے دیگر نوجوانوں اور معاشرتی گروپوں میں یہ غلط پیغام جائے گا کہ دہشت گردی اور ملک دشمنی کو عالمی سطح پر کسی شخص یا گروہ کے بنیادی حق کے طور پہ تسلیم کیا جا سکتا ہے اور بلا شبہ یہ بات عالمی امن کے لئے انتہائی نقصان دہ ہو گی۔ اب یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب موصوفہ کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مضبوط تعلقات اور اس کے منفی خیالات ہی اسے اس ایوارڈ کے لئے ناقابل قبول بنا دیتے ہیں تو پھر ایسی نامزدگی کو نام اور کام دیکھتے ہوئے ہی رد کیوں نا کر دیا گیا؟۔
آخر میں نوبل پیس پرائز کمیٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے یہی کہنا ہے کہ ماہ رنگ لانگو جیسی خاتون کی نوبل پیس پرائز کے لئے نامزدگی کی حمایت کرنا جہاں ایک انتہائی ناپسندیدہ قدم ہوگا۔ اب بھی وقت ہے کہ اس منفی سوچ کی حامل اور دہشتگردوں کی حمایتی خاتون کا نام لسٹ سے نکال کر ادارہ اپنی نیک نامی بحال کرے۔

ٹیگز: