سوائے تحریک انصاف کے کہ بانی پی ٹی آئی اور تحریک انصاف کی قیادت حقائق کو بڑی اچھی طرح جانتے ہوئے بھی اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے ملکی معیشت میں بہتری کا اقرار نہیں کرتے ورنہ تو پوری دنیا اب اس بات کا اقرار کر رہی ہے کہ پاکستان کی معیشت اس گرداب سے نکل چکی ہے جس میں بانی پی ٹی آئی اسے پھنسا گئے تھے اور انھیں اس بات کا سو فیصد یقین تھا پاکستان خدا نخواستہ دیوالیہ ہو جائے گا اسی لئے وہ اپنی ہر تقریر میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی نہ صرف باتیں کیا کرتے تھے بلکہ انھوں نے آئی ایم کو خط لکھنے ، آئی ایم ایف کے ہیڈ آفس پر احتجاج کرنے اور یورپین یونین کو ہزاروں ای میلز کے ذریعے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم کرانے کی عملی کوششیں بھی کیں لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان کی سیاسی اور ملٹری قیادت کی انتھک کوشش کے بعد خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ پاکستان کی معیشت دیوالیہ ہونے کی صورت حال سے باہر نکل آئی ہے اور اس کے لئے حکمران اتحاد اور خاص طور پر مسلم لیگ نواز نے جو سیاسی قیمت چکائی ہے اس کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی ۔ آئی ایم ایف اگر معیشت کی تعریف کر رہا ہے اور ورلڈ بنک آنے والے دس برس میں اگر پاکستان میں چالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ سٹاک ایکسچینج کا ہنڈرڈ انڈیکس اگر تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ کا ہدف عبور کر کے اب ایک لاکھ پندرہ ہزار کے قریب جا رہا ہے تو یہ سب کسی کی رائے یا سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا نہیں بلکہ وہ حقائق ہیں کہ جن کی تردید نہیں کی جا سکتی اور یہی وجہ ہے کہ ملک میںتین چار سال کے بعد ترقیاتی کام ہو بھی رہے ہیں اور نظر بھی آ رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کی کال کے باوجود بھی جنوری کے بعد فروری کے مہینے میں بھی تین ارب دس کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر کا آنا بھی معیشت میں بہتری میں مددگار ثابت ہو گا ۔پنجاب میں مختلف منصوبوں پر بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ بے شمار منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جو نظر بھی آ رہا ہے ۔ اسی طرح سندھ میں کم سہی لیکن وہاں بھی کام ہو رہے ہیں ۔ اچھی بات یہ ہے کہ پنجاب اور سندھ دونوں جگہ پر حکومتوں نے عوام کو سولر انرجی کے ذریعے بجلی دینے کا کام شروع ہے کہ جس سے عوام کو بجلی کے بلوں میں براہ راست نہیں تو سولر پینل سے حاصل شدہ بجلی کے ذریعے ریلیف مل جائے گا ۔
لیکن اب پاکستان کی معیشت میں مزید بہتری کے امکانات روشن ہو گئے ہیں ۔ ایک اخباری خبر کے مطابق SIFC سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل جو ایک سول ملٹری مشترکہ فورم ہے نے اصولی طور پر28بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے ۔ جن کی مالیت اربوں ڈالر ہے بلکہ ان کا حجم سی پیک سے بھی زیادہ ہے ۔ ان منصوبوں کو خلیجی ممالک کو سرمایہ کاری کے لئے پیش کیا جائے گا جن میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر اور بلوچستان میں ریکوڈک پر کان کنی کے منصوبے شامل ہیں ۔جن منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے اگر سعودی عرب ، قطر بحرین اور یو اے ای جیسے ممالک نے ان منصوبوں کو حاصل کر لیا تو ان کی مالیت 28ارب ڈالر سے زیادہ ہو گی ۔ ابتدائی طور پر ان منصوبوں میں خوراک ، زراعت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، معدنیات ، پیٹرولیم اور توانائی جیسے منصوبے شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ مویشیوں کے فارمز ، دس ارب ڈالر کا سعودیہ کا آرامکو ریفائنری پروجیکٹ ، چاغی میں سونے کی تلاش جیسے میگا پروجیکٹ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ چند ہفتے پہلے امریکی سرمایہ کاروں کا وفد آیا تھا اور امریکی صدر ٹرمپ کی امریکی کانگریس سے اپنے پہلے خطاب جیسے اہم موقع پر کی گئی تقریر میں تعریف کرنا اور اس کے چند گھنٹوں کے اندر امریکی وزیر خارجہ کا پاکستانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ اور اس میں پاکستانی معیشت اور مختلف شعبوں میں تعاون کی باتیں یہ سب بھی مستقبل میں بہتری کے اشارے ہیں ۔
اگر نیت نیک ہو تو قدرت بھی ساتھ دیتی ہے اور رواں ہفتے بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم پراڈکٹس کی قیمتوں میں تقریباََ 15% کمی ہوئی اور قوی امید ہے کہ پندرہ مارچ کو حکومت اس کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بڑی کمی کرے گی ۔ یہ ساری صورت حال اپنی جگہ پر ہے لیکن یہاں ان خدشات کا ذکر کرنا بھی از حد ضروری ہے کہ جو معیشت کی بہتر ہوتی صورت حال سے جڑے ہوئے ہیں ۔ کالم کے شروع میں عرض کیا تھا کہ بیانات کی حد تک ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی پاکستان کو ڈیفالٹ کرنے کی پوری پوری کوشش کی گئی ۔ یہ سب کیوں کیا گیا اس لئے کہ معیشت کی راہ میں جو بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں ان کی موجودگی میں صاف نظر آ رہا تھا کہ معیشت کی بہتری کے لئے جس قدر سخت اور مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے وہ کسی سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں کہ وہ اپنی سیاست کو داﺅ پر لگا کر معیشت کی بہتری کا کام نہیںکرے گی لیکن ایسا ہو گیا تو معیشت کی بہتری کا براہ راست تعلق ملکی سیاست میں استحکام سے ہے اور وہ تمام قوتیں جو ملک کو دیوالیہ کرنے کے در پر ہیں ان کے لئے ملکی معیشت میں بہتری کسی ڈراﺅنے خواب سے کم نہیں ہے اور اسی لئے وہ آنے والے دنوں میں ہر ممکن کوشش کریں گے کہ کسی طرح ملکی سیاست عدم استحکام کا شکار رہے تاکہ ملکی معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑی نہ رہ سکے اور اسی صورت میں ان کی سیاست چمک سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جن کو کبھی سیدھے نام سے نہیں پکارا جاتا تھا اب ان کے در دولت پر مسلسل حاضریاں دی جا رہی ہیں انھیں منانے کے لئے سو سو جتن ہو رہے ہیں اور یہ سب اس لئے کیا جا رہا ہے کہ کیونکہ تنہا پرواز کر کے دیکھ لیا ہے لیکن سب سے مقبول سیاسی جماعت ہونے کے دعوے داروں کی ہر احتجاجی کال بری طرح ناکام ہوئی ہے اس لئے اب دوسروں کو ساتھ ملا کر سیاسی ہلچل کی کوشش کی جائے گی لیکن امید ہے کہ پہلے کی طرح اب بھی ناکامی مقدر بنے گی۔