اس بات میں بھلا کیا شک ہوسکتا ہے کہ ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے یقین، اپنے شہیدوں کے لہو اور اپنے محافظوں کی قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔ وطن محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، یہ مائوں کی دعائوں، باپ کی امیدوں، بچوں کے خوابوں، بزرگوں کی دعائوں اور شہیدوں کی قبروں کے مجموعے کا نام ہے۔ جب کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو گولیاں صرف فوجیوں کے سینوں کو نہیں چیرتیں بلکہ ہر گھر، ہر گلی اور ہر دل کو زخمی کر دیتی ہیں۔ وطن ِعزیز بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسی ہی ایک آزمائش سے گزر رہا ہے۔ دشمن نے جب دیکھا کہ میدانِ جنگ میں یہ قوم جھکنے والی نہیں تو اس نے بندوق کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈے کو بھی ہتھیار بنا لیا۔ کہیں دہشت گردی کے ذریعے، کہیں نسلی منافرت کے ذریعے، کہیں مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے اور کہیں سوشل میڈیا کی منظم مہمات کے ذریعے پاکستان کے عوام اور ان کی مسلح افواج کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی۔
بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے حالات کو اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان علاقوں میں امن کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں بیرونی مداخلت کے الزامات طویل عرصے سے پاکستانی ریاست کی جانب سے اٹھائے جا رہے ہیں۔ دہشت گرد حملے، خودکش دھماکے، سرحد پار سے دراندازی اور علیحدگی پسند تشدد نے ہزاروں پاکستانی شہریوں، فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں کی جانیں لی ہیں۔ ان سانحات کی سب سے بڑی قیمت وہ مائیں ادا کرتی ہیں جن کی گودیں اجڑتی ہیں، وہ بیوائیں ادا کرتی ہیں جن کے سہاگ اجڑ جاتے ہیں اور وہ یتیم بچے ادا کرتے ہیں جن کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ جاتا ہے۔ یہی وہ منظر ہے جسے ساحر لدھیانوی نے اپنے درد انگیز اشعار میں یوں سمیٹا تھا:
تمہارے گھر میں قیامت کا شور برپا ہے
محاذِ جنگ سے ہرکارہ تار لایا ہے
وہ جس کا ذکر تمہیں زندگی سے پیارا تھا
وہ بھائی نرغہ¿ دشمن میں کام آیا ہے
یہ صرف شاعری نہیں، ہر اس پاکستانی گھر کی داستان ہے جہاں قومی پرچم میں لپٹا ہوا تابوت پہنچتا ہے، جہاں سلامی کی آوازوں کے درمیان ایک ماں کی سسکیاں دب جاتی ہیں اور ایک معصوم بچہ اپنے باپ کی تصویر کو سینے سے لگا کر ساری عمر جینے کا حوصلہ تلاش کرتا ہے۔
بعض لوگ پاکستان کی تاریخ کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں جیسے بلوچستان میں پیدا ہونے والا ہر بحران کسی ایک شخصیت یا ایک ادارے کی وجہ سے وجود میں آیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے مسائل کی جڑیں پیچیدہ سیاسی، سماجی، معاشی اور قبائلی عوامل میں پیوست ہیں۔ 1948ءمیں بلوچستان میں مسلح مزاحمت کا پہلا واقعہ پیش آیا، اس وقت پاکستان کے گورنر جنرل بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری براہِ راست قائد اعظم پر عائد ہوتی ہے؟ یقیناً نہیں۔ ریاست کے ابتدائی برس انتہائی پیچیدہ تھے۔ نئی مملکت کو مہاجرین کی آبادکاری، وسائل کی قلت، سرحدی تنازعات اور انتظامی مسائل سمیت بے شمار چیلنجز کا سامنا تھا۔ کسی ایک تاریخی واقعے کو بنیاد بنا کر بانی پاکستان کی حب الوطنی یا بصیرت پر سوال اٹھانا تاریخ کو سادہ اور غیر منصفانہ انداز میں دیکھنے کے مترادف ہو گا۔ تاریخ کو تعصب کے بغیر پڑھنا چاہیے۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہے، مگر اختلاف اگر نفرت میں بدل جائے، تنقید اگر دشمن کے بیانیے کی تقویت بن جائے اور ریاست کو کمزور کرنا واحد مقصد بن جائے تو پھر یہ صرف سیاسی اختلاف نہیں رہتا بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ بن جاتا ہے۔
پاکستانی فوج کے کردار پر تنقید کرنا ایک الگ موضوع ہے اور ہر جمہوری معاشرے میں ریاستی اداروں پر سوال اٹھانے کی گنجائش موجود ہوتی ہے، لیکن دہشت گردی کی حمایت، تشدد کا جواز پیدا کرنا یا ایسے بیانیے کو فروغ دینا جو دشمن کے مقاصد کو تقویت دے، ایک مختلف معاملہ ہے۔ اسی طرح ہر فوجی کارروائی یا ہر ریاستی پالیسی سے اتفاق ضروری نہیں، مگر یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانی فوجیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ جب ایک سپاہی شہید ہوتا ہے تو صرف ایک فوجی نہیں مرتا بلکہ ایک گھر کا چراغ بجھ جاتا ہے۔ اس کی ماں کے لیے ہر عید ادھوری ہو جاتی ہے، اس کی بیوہ کے لیے زندگی کا ہر دن امتحان بن جاتا ہے اور اس کے بچے اپنے باپ کی انگلی تھامنے کی خواہش دل میں لیے بڑے ہوتے ہیں۔ ان قربانیوں کو محض اعداد و شمار میں تبدیل کر دینا انصاف نہیں۔ ریاستی اور نجی املاک کو نقصان پہنچانا بھی درحقیقت قوم ہی کا نقصان ہے۔ ایک جلایا گیا سکول کسی جنرل کا نہیں بلکہ غریب بچوں کا خواب جلاتا ہے۔ ایک تباہ شدہ ہسپتال کسی افسر نہیں بلکہ مریضوں کی امید چھین لیتا ہے۔ ایک نذرِ آتش کی گئی سرکاری عمارت عوام کے ٹیکس سے تعمیر ہوتی ہے اور ایک جلائی گئی بس یا ٹرین عام شہری کے سفر کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اسی طرح فوجی تنصیبات پر حملے بھی بالآخر قومی دفاعی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں، جس کے اثرات پوری ریاست اور عوام پر پڑتے ہیں۔
وطن سے محبت صرف نعروں کا نام نہیں بلکہ قومی مفاد کو ذاتی اور سیاسی مفاد پر ترجیح دینے کا نام ہے۔ قومیں اختلافات کے باوجود اپنے مشترکہ وجود کی حفاظت کرتی ہیں۔ پاکستان بھی اسی اصول کا تقاضا کرتا ہے۔ بلوچستان ہو، خیبر پختونخوا ہو، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر .... یہ سب ایک ہی جسم کے اعضا ہیں۔ اگر ایک عضو زخمی ہو گا تو پورا جسم درد محسوس کرے گا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے عوام نے ہر بڑے قومی بحران میں اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہو کر پاکستان سے اپنے وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔ زلزلے ہوں، سیلاب ہوں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا سرحدی کشیدگی، پاکستانی عوام اور ان کے سکیورٹی اداروں نے مل کر مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ یہی قومی یکجہتی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔
وطن کی محبت صرف جذبات نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ یہ ذمہ داری ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے شہیدوں کے لہو کی حرمت، اپنے پرچم کی عزت اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو ہر اختلاف سے بلند رکھیں۔ کیونکہ جب وطن محفوظ ہوتا ہے تو اختلاف بھی محفوظ رہتا ہے، آزادی بھی محفوظ رہتی ہے اور آنے والی نسلوں کے خواب بھی محفوظ رہتے ہیں۔ سو پاکستان کی حفاظت کیلئے ہمیں دہشتگردوں کا جہنم کے دروازے تک بھی پیچھا کرنا پڑے تو پاکستانی قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔