بھارتی جنتا پارٹی اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کا گٹھ جوڑ بھارت کا چہرہ مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ بھارت میں جہاں ہر شعبہ ہندو مسلم، ہندو عیسائی تقسیم کی سوچ رکھنے والوں نے تباہ کر رکھا ہے وہیں شعبہ تعلیم بھی تباہی کی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہے۔ بھارت میں نوجوانوں کا تعلیم حاصل کرنا بھی بھاجپا سرکار نے مشکل کر دیا ہے۔
سال 2014 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پڑھے گا بھارت تو بڑھے گا بھارت کا معروف نعرہ لگایا تھا۔ جو سرو شکشا ابھیان تعلیم تمام تحریک کا ذیلی پروگرام تھا۔ یہ پروگرام کلاس ایک اور کلاس دو کے بچوں کے لیے ابتدائی پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کے جامع پروگرام کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت بھارتی ریاستوں کو 90 ملین ڈالر دئیے گئے تھے۔ نعرہ دلچسپ تو تھا مگر اسکی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سیاسی نعرہ تھا۔ خود نریندر مودی کے دور میں ہی بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے جموں شہر میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلینس میں درس و تدریس کا عمل روک دیا گیا ہے۔
تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے جس کی حفاظت کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ دار ہے۔ مگر مودی راج میں ہندو انتہا پسند تنظیموں نے مسلمانوں سے تعلیم کا حق بھی چھیننا شروع کر دیا ہے۔ میرٹ لسٹوں سے شروع ہونے والا تنازع ہندو مسلمان فساد کی شکل اختیار کر گیا اور میڈیکل بورڈ نے طلبہ کے داخلے روک کر شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج جموں کے مزید داخلوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ گزشتہ سال 2025 میں ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج جموں میں میرٹ پر پچاس میں سے 42 سیٹیں مقبوضہ کشمیر کے ضلع جموں کے مسلمان طلبہ نے حاصل کر لیں۔ بس یہی میرٹ لسٹ وجہ فساد بن گئی۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل اور ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کو یہ بات ہضم نہ ہوئی کہ کشمیری مسلمان طلبہ نمبروں اور میرٹ پر ہندو طالبعلموں سے آگے کیسے نکل گئے۔ انتہا پسند تنظیموں نے کالج کا رخ کیا تو معلوم ہوا یہ داخلہ لسٹ میرٹ پر تیار کی گئی ہے اور اسکا کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں ہے۔ سال 1999 میں قائم ہونے والے ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں داخلے میرٹ پر دئیے جاتے ہیں۔
روزانہ احتجاج ہنگامے کالج میں شور شرابا کیا گیا کہ میرٹ لسٹوں کو تبدیل کر کے مذہبی بنیاد پر ہندو طلبہ کو داخلے دئیے جائیں کیونکہ یہ کالج ماتا ویشنو ویوی مندر ٹرسٹ کے زیر بنایا گیا تھا اس لیے اب صرف ہندو طلبہ کو داخلے دئیے جائیں۔ اس حقیقت کے برعکس کہ کالج سرکاری ملکیت ہے اور قوانین کے مطابق داخلے دئیے جاتے ہیں۔ لڑائیاں، جھگڑے، احتجاج اور مذہبی حساسیت بڑھتی چلی گئی۔ ہندوتوا تنظیموں نے بی جے پی سرکار سے مدد طلب کی اور مسلمانوں کی دشمن بی جے پی سرکار نے ہندو انتہا پسند تنظیموں کا بھرپور دفاع کیا۔ نتیجتاً بھارت کے قومی میڈیکل کمیشن نے کالج کی ایم بی بی ایس ڈگری پروگرام کی منظوری منسوخ کر دی۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ڈپٹی وزیراعلیٰ سریندر چوہدری نے اس اقدام کی کڑے الفاظ میں مذمت کی ہے اور بی جے پی کو کشمیری نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
تصور کریں ایک میڈیکل کالج جہاں کلاسز چل رہی ہوں اور طلبہ اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے خوب محنت کر رہے ہوں۔ وہاں ہندو مسلم تنازع شروع ہو جائے اور روزانہ کی بنیاد پر کالج کر باہر ہندوتوا کے غنڈے احتجاج کریں۔ ایسے حالات میں مسلمان طلبہ ذہنی خوف اور جان کی فکر میں پڑ کے خود کو کس حد تک غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں کالج انتظامیہ کی گورننس اور کنٹرول کی بجائے تعلیم کا قتل کیا گیا ہے۔ وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل اور ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کے ممبران نے کالج بند ہونے پر جشن منایا، مٹھائیاں تقسیم کیں، مبارکبادیں دیں اور اسے ہندو دھرم کی جیت قرار دیا۔ مگر ان کند ذہنوں نے کچھ قابل ذکر حاصل نہیں کیا بلکہ کھو بہت کچھ دیا ہے۔ یہ ہندو مسلمان کی فتح نہیں ہے۔ یہ تمام بھارت کا نقصان ہے کیونکہ اب ہندو طلبہ بھی اس کالج میں پڑھ نہیں سکیں گے۔ یہ جیت تعلیم کی ہے اور نہ ہی انصاف کی۔ یہ ظلم و بربریت بھارت کے ہر تعلیمی ادارے کا گھیراو¿ کرے گا اور ہر طالبعلم کا راستہ روکے گا۔ تعلیم ایک زیور ہے مگر بھارت اس انمول زیور سے بھی محروم ہو رہا ہے۔ بھارتی معاشرے میں جہالت کے کئی روپ موجود ہے۔ کہیں مذہبی انتہا پسندی کی شکل میں جہالت ہے، کہیں پست روایات کی جہالت موجود ہے، کہیں بھوک و افلاس کی وجہ سے جہالت ہے تو کہیں تعلیم کے فقدان کی وجہ سے جہالت ہے۔
آج ’پڑھے گا بھارت تو بڑھے گا بھارت‘ کی بجائے یہ کہنا درست ہو گا کہ جاہل رہے گا بھارت تو جہالت بڑھے گی بھارت میں۔ اسی جہالت کو عام کرنے کے لیے حکومت اور اس کی پالی ہوئی ہندو انتہا پسند تنظمیں سرگرم ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے لڑتے ہیں۔ مگر بھارت میں لوگ میڈیکل کالج بند ہونے کا جشن مناتے ہیں۔ بلاشبہ یہ بی جے پی کے تحت بارہ سال کی کامیابیوں میں سے ایک ہے جو جہالت کو فروغ دینے کی سرپرست ہے۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے یہ سیاہ دن ہے۔ بھاجپا سرکار نے سات دہائیوں سے نہتے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر مہر لگا دی ہے۔ جہاں تعلیمی ادارے کسی سازش کا شکار ہو کر بند ہونے لگیں تو ہر ذی شعور انسان فکر مند ہو جاتا ہے۔ افسوس بھاجپا سرکار کو ملک میں تعلیمی نظام کی رتی بھر بھی پروا نہیں۔ کیونکہ مودی سرکار اس سوچ سے ڈرتی ہے کہ کون پڑھے لکھے نوجوانوں کو سنبھالے گا، کون انہیں روزگار دے گا اور کون ان کو جواب دہ ہو گا۔ بہتر ہے بھارتی نوجوانوں کو تعلیم اور ترقی سے دور رکھا جائے۔