پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے بعد اپنے اپنے ملک واپس لوٹ گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے اکیس طویل گھنٹوں پر محیط ایک دور کو بھگتا کر پہلے ہی امریکہ واپس لوٹ گئے تھے، تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں یہ عمل کسی نہ کسی صورت جاری رہے گا۔ دونوں ممالک کے نہایت اہم نمائندوں پر مشتمل وفود مذاکرات کیلئے اسلام آباد میں موجود تھے۔ یہ کوئی معمولی مذاکرات نہیں تھے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے سخت کشیدہ ہیں۔ 1979ءکے انقلاب ایران( یعنی کم و بیش 47 برسوں) کے بعد دونوں ممالک میں پہلی مرتبہ اعلیٰ سطحی رابطہ ہوا ۔ اسے خوش قسمتی ہی کہنا چاہیے کہ اس رابطے کا سہرا پاکستان کے سر سجا ہے۔ گزشتہ کئی دن سے محض محاورتاً نہیں ، واقعتا ساری دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی تھیں۔ جب تک امریکی اور ایرانی وفود پاکستان کی سر زمین پر تھے، ساری دنیا کے میڈیا پر پاکستان اور اس کی سول ملٹری قیادت کا نام گونجتا رہا۔
اس قضیے میں پاکستان نے ایک ثالث کا عملی کردار ادا کیا ۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک ایک میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں تھے۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے نمائندوں کو ایک میز پر بیٹھنے پر قائل کیا۔ مذاکرات کے پہلے راﺅنڈ میں وہ موقع بھی آیا جب پاکستان کی شمولیت کے بعد مذاکرات دو کے بجائے سہ فریقی سطح پر ہو ئے۔ اگرچہ فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے ، تاہم اس صورتحال کا حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ ابھی مذاکرات کی میز الٹی نہیں گئی ہے ۔ لہذا مثبت پیش رفت کی امید باقی ہے۔ فریقین کے درمیان آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو جیسے اہم معاملات پر اتفاق رائے درکار ہے، جو فی الحال نہیں ہو سکا ہے۔ اس معاملے میں ایک بڑی رکاﺅٹ اسرائیل بھی ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کے امن اور مذاکرات کی کامیابی میں حائل ہے۔ جنگ بندی کے باوجود لبنان کے دارلحکومت بیروت پر اسرائیل کی جانب سے وحشیانہ بمباری اس امر کی عکاس ہے کہ اسرائیل جنگ اور تنازعات کو مزید ہوا دینا چاہتا ہے۔
امن مذاکرات کے نتائج سے قطع نظر، ان مذاکرات میں سہولت کاری کرنا، پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ ایسی کامیابی جو دنیا کی سیاسی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔ اس سے قبل پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ عارضی طور پر رکوانے میں اپنا مو¿ثر کردار ادا کیا۔ جنگ میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں ۔ کئی ہزار انسان زخمی ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ سمیت ساری دنیا کی معیشت پر اس تنازعے کے اثرات بد مرتب ہو ئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان تک جا پہنچی ہیں۔ اس تناظر میں دونوں ممالک کو جنگ بندی پر قائل کرنا پاکستان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔اس عمل میں پاکستان کو سعودی عرب، چین اور ترکیہ جیسے دوست ممالک کی حمایت بھی حاصل رہی۔ ساری دنیا پاکستان اور اس کی سیاسی اور عسکری قیادت کو کریڈٹ دے رہی ہے کہ اس نے ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑی دنیا کو امن فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ البتہ بھارت اور اسرائیل سخت ناخوش ہیں۔ بھارت کا گودی میڈیا آپے سے باہر ہو کر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے۔ بھارت تو چلیں پاکستان کا ازلی دشمن ہے، تاہم یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ایک انتشار پسند پاکستانی ٹولہ سیاسی بغض میں اس قدر اندھا ہو گیا ہے کہ پاکستان کی عزت و تکریم اس سے برداشت نہیں ہو رہی ۔ پاکستان کی کامیابی پر اس ٹولے کو سانپ سونگ گیا ہے۔ اس گروہ سے جڑے لوگ مخصوص میڈیا سیل کے ذریعے اپنے ہی ملک کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا تو ان کا خیال تھا کہ یہ اپنی طاقت کے زور پر ایران کو زیر کر لیں گے۔ تاہم ان کا اندازہ بالکل غلط ثابت ہوا۔ ساری دنیا نے دیکھا کہ ایران اپنے دفاع کی خاطر حملہ آوروں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی تھی۔ تاہم ایران نے آبنائے ہرمز پر قبضہ کر کے ساری دنیا کی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اپنی جنگی طاقت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ امریکہ تک کو حیران کر دیا۔ اس کے باوجود، یہ صورتحال کب تک قائم رہ سکتی ہے؟ جنگ کوئی ملک جیتے یا ہارے، یہ انسانوں کیلئے فقط تباہی لاتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ کے دوران تقریباً 2100 ایرانی شہریوں کی قیمتی جانیں گئی ہیں۔ مرنے والوں میں 8 ماہ کے بچے سے لے کر 88 سال کے بوڑھے بھی شامل ہیں۔عورتوں، بچوں اور بوڑھوں سمیت 26 ہزار سے زیادہ ایرانی شہری زخمی ہیں۔ جبکہ ایران کے جوابی حملوں سے لبنان، ایراق، اردن، سعودی عرب، قطر ، بحرین، شام ، اومان، یو۔اے۔ای میں ہزاروں شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ درجنوں امریکی اور اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان ملکوں کے ہزاروں شہری زخمی ہوئے ہیں۔
مالیاتی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے اربوں ڈالر جھونکے گئے ہیں۔ امریکی عوام جنگوں میں امریکہ کے اربوں ڈالر ضائع ہونے پر شدید خفا ہیں۔ امریکی عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جنگوں میں امریکہ کی شمولیت سے عوام کو مہنگائی کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں ٹرمپ کے خلاف باقاعدہ احتجاج ہو رہے ہیں کہ یہ اسرائیل کی وجہ سے جنگوں کا حصہ بننے سے باز رہے۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت داو پر لگی ہے۔ ایران کے عوام اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ تاہم اس جنگ سے پہلے ایرانی عوام کمزور معیشت اور ناقابل برداشت مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے۔ حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کی زندگی کو مہنگائی کے طوفان سے نجات دلائے۔ اس صورتحال میں طویل جنگ آخر کون سا فریق چاہے گا۔ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک اور باقی دنیا بھی خطے میں امن کی خواہاں ہے۔ کاش امریکہ اور ایران یہ بات سمجھ سکیں کہ ان کے عوام امن چاہتے ہیں۔
اس سارے منظر نامے میں اس بات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں، جیت پاکستان کی ہوئی ہے۔ پاکستان کو اللہ نے بے پناہ عزت سے نوازا ہے۔ مئی 2025ءمیں پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھا ئی تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ ہر جگہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتا دکھائی دیتا تھا۔ اب پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ یا ایٹمی جنگ سے روکنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس سفارتکاری نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر دیا ہے۔ اس کامیابی کا سہرا یقیناوزیر اعظم شہباز شریف ، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جاتا ہے۔ امید ہے کہ مذاکرات جاری رہیں گے اور کامیاب ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک کو کسی تحریری معاہدے تک پہنچنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ جائیں۔ کیسے ممکن ہے کہ پانچ دہائیوں کی کشیدگی اور تنازعات فقط چند دن میں طے ہو جائیں۔ اگر جنگ بندی طویل ہوجاتی ہے۔ مذاکراتی عمل اور بات چیت جاری رہتی ہے، دونوں فریقین قدم بقدم آگے بڑھتے ہیں اور خطے میں امن قائم رہتا ہے ، تو سمجھیں کہ امن مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔