اسلام آباد / نئی دہلی : بھارتی جریدے 'دی وائر' اور بین الاقوامی مبصرین نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے اپنی کامیاب اور عملی سفارت کاری کے ذریعے بھارت کو عالمی سطح پر بڑی سبقت دے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی تمام تر کوششیں بری طرح ناکام ہو گئی ہیں اور واشنگٹن نے خطے کے اہم معاملات میں اسلام آباد پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
'دی وائر' کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے نئی دہلی کے مقابلے میں اسلام آباد کی تزویراتی (Strategic) اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے۔ بھارتی حزبِ اختلاف نے بھی مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سندھور اور دیگر سفارتی محاذوں پر بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان کی "کامیاب سفارتی مہم" نے بھارتی پراپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔'دی ٹیلی گراف انڈیا' اور عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں بھارت کی توجہ صرف اسلحے کی دوڑ اور اپنی توانائی کی ضروریات تک محدود رہی، وہیں پاکستان نے علاقائی امن کے ایجنڈے کو فروغ دے کر عالمی برادری کا دل جیت لیا ہے۔
عالمی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی متوازن سفارت کاری نے ثابت کر دیا ہے کہ خطے کے استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ناگزیر ہے۔ واشنگٹن کا اسلام آباد پر بڑھتا ہوا انحصار بھارتی سٹریٹجک حلقوں کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ بن گیا ہے، جس سے مودی سرکار کے بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔