کیا آسان ہوتا ہے کسی باپردہ عورت کے لیے نا محرم مردوں کے ہجوم کے آگے ہاتھ جوڑنا؟ کیا آسان ہوتا ہے مردوں کے بھرے مجمعے میں سر سے ڈھلکتا دوپٹہ سنبھالتے کسی عورت کا ایک ایک کے پیر وں میں گِر جانا؟ ہمارے معاشرے میں کسی کی داڑھی کو ہاتھ لگا کر التجا کرنا اتنا ہی معتبر ہوتا ہے جتنا سر پہ قرآن اٹھانا یا سر کی چادر اتار کر اگلے کے قدموں میں رکھ دینا، کسی کی بہن بیٹی قدموں میں آ بیٹھے تو غیرت مند قتل معاف کر چھوڑتے ہیں، پھر اتنے کٹھور اتنے سنگدل اتنے بے رحم کیسے ہو گئے وہ سب؟ اس عورت نے اس بھرے مجمعے میں ہر وہ حیلہ اور حجت تمام کر چھوڑا جو ہمارے معاشرے میں کوئی بڑے سے بڑا گناہ معاف کروانے کی سکت رکھتا ہے ، آخر وہ چاہتی کیا تھی؟ اتنی بے چارگی سے بھیڑیوں کے اس جْھنڈ سے مانگ کیا رہی تھی؟ فقط راستہ۔۔۔۔ ایمبولینس گزرنے کا راستہ۔۔۔۔ ایک ماں جس کے بیمار بچے کو وینٹیلیٹر کی ضرورت تھی، وہ صرف کوئٹہ تک جانے کا راستہ مانگ رہی تھی، اور پھر وہاں بیچ سڑک کے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر احساس مر گیا، اور تڑپتی بلکتی بیچاری ماں کا بچہ سیاسی مفادات کی خاطر انسانیت کے درجے سے گرے ہوؤں کو ایک الوداعی نظر دیکھ کر آنکھیں موند گیا۔۔۔۔۔
جیسے کسی صحرا میں تپتی ریت پہ کوئی آبلہ پا تشنہ لب دیوانہ آسمان کو امداد کی نظر سے دیکھے اور اس کی نظریں ساکت ہو جائیں۔۔۔ اس بھیڑ میں ویسے ہی میں نے احساس کو مرتے دیکھا۔۔۔۔
یہ ایک دلخراش واقعہ شاید ہر لحاظ سے قابلِ مذمت ہے لیکن شاید اس سے زیادہ قابلِ مذمت یہاں اختر مینگل کی منافقت ہے، جس شخص کی داڑھی چھو کر اس ماں نے لجاجت سے راستہ مانگا وہ بی این پی کی ٹوپی پہنے ہوئے تھا اور جانتے ہیں وہ دھرنا بی این پی کیوں دے رہی تھی؟ سمی دین کی گرفتاری پر اختر مینگل نے ایک ٹویٹ کیا ۔
’’جناب زرداری اور شریف صاحب، میں کبھی نہیں بھولوں گا جب مریم نواز اور فریال تالپور کو سرِ عام رسوا کیا گیا، تب ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے۔ کیونکہ ہمارے لیے عزت سب سے پہلے ہے، اور عورتوں پر حملہ ہماری آخری حد ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کی عزت پر سیاست سے بالاتر ہو کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن آج میری بیٹیاں سڑکوں پر دوپٹے کے بغیر گھسیٹی جا رہی ہیں، اور آپ نہ کہ خاموش بنے بیٹھے ہیں بلکہ اس گناہ میں برابر شریک ہیں۔ میں یہ کبھی نہیں بھولوں گا … یہ ایک بلوچ کا وعدہ ہے‘‘۔
کوئی مینگل صاحب سے پوچھ کر بتائے گا کہ ان کی غیرت اس وقت کہاں مر گئی تھی جب ایک عورت مردوں کے آگے ہاتھ جوڑتی رہی اور اسے صرف اس لیے راستہ نہیں دیا گیا کہ پارٹی کا زور نہ ٹوٹ جائے؟۔ ان کی غیرت ہمیشہ دہشتگردوں کی آلہ کاروں کی گرفتاری پہ ہی کیوں سر اٹھاتی ہے؟ اب کوئی یہ کہے کہ ماہ رنگ کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے نہیں تو اس کا ‘‘کاں چٹا ہے’’ بی این پی کے دھرنے میں بی ایل اے کے پرچم کا لباس پہنے عورتیں شامل ہوئی ہیں، اور پوری دنیا نے دیکھی ہیں، اور بات اگر بلوچ غیرت تلک آ ہی گئی ہے تو ہمیں وہ روتا بلکتا بوڑھا کیوں نظر نہیں آتا جس کی جوان بیٹی سر پہ قرآن اٹھائے کھڑی ہے اور وہ براہمداغ بگٹی کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ آپ کے چالیس کے قریب لوگ ہمارے گھر میں گھسے ہیں ، ہماری عورتوں کو مارا ہے، تم کو نواب اکبر بگٹی کی سفید داڑھی اور اس قرآن کا واسطہ ہے ہم پر رحم کرو ہم یہ علاقہ چھوڑ جائیں گے۔ ہم من حیث القوم جانور ہیں ، ہم درندہ صفت ہیں، ایک طرف فیصل آباد میں شوہر کو رسیوں سے جکڑ کر بیوی کے ساتھ زیادتی کا بیہمانہ کیس سامنے آتا ہے تو دوسری طرف ایک حادثے کی صورت میں ڈیرہ غازیخان سے راولپنڈی جانے والی ڈائیو کی بس میں آگ لگ جاتی ہے، ڈرائیور مدد کو چلا رہا ہے، سٹیرنگ اور ڈیش بورڈ کے درمیان پھنسے اس دیہاڑی دار مزدور کے بدن کو آگ کی لپٹیں جوں جوں جھلسا رہی ہیں، وہ چلا رہا ہے، مدد کو پکار رہا ہے اور عوام کھڑے موبائل سے ویڈیو بنا رہے ہیں،جیسے کسی کوڑھ میں مبتلا بوڑھے کی نظر لہو رستے ناسور میں کلبلاتے کیڑے پہ پڑے اور وہ کرب کی گہرائیوں میں ڈوب کر مالک سے ایک آخری سوال کرے کہ کیا میں تیرا بندہ نہیں؟ اور دنیا سے آنکھیں موند لے۔۔۔اور ایک بار پھر میں نے احساس کو مرتے دیکھا ہے۔ ہم سے اپنی نظروں کے سامنے التجا کرتی ماں کا سپوت نہیں بچایا گیا ، ہم سے بس میں جھلستا انسان نہیں بچایا گیا لیکن۔۔۔۔۔ لیکن ہمارے دلوں میں فلسطین کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہے، ہم جا کر کے ایف سی کے شیشے توڑیں گے، کوکا کولا کی بوتلیں مالِ غنیمت کی مانند چرا لائیں گے، اور آکر فیسبک اوروٹس ایپ پر اسرائیل کو بد دعائیں دیں گے اور پیر پسار کر سو جائیں گے، ہم سجدے میں سر رگڑ رگڑ محراب بنائیں گے اور ہمیں جب جب جہاں جہاں موقع ملے گا ہم اگلے کا حق بھی کھائیں گے، ہم رشوت بھی کھائیں گے، ہم جیتے جی اپنے بیمار نادار غریب رشتہ داروں کے گھر کبھی پھل کی ٹوکری نہیں دے سکیں گے کبھی دوائیوں کے اخراجات نہیں اٹھائیں گے ہاں وہ مر گئے تو قبر پہ پھول ٹوکریاں بھر بھر چڑھائیں گے، ہماری مسجدوں میں بچوں کے ساتھ زیادتی ہوگی تو سارا الزام شیطان پر ڈال کر چپ سادھ لیں گے کیونکہ’’ہم ایک مردہ قوم ہیں‘‘۔ ہمارے ڈاکٹر دو گھنٹوں سے پڑے سرد بے جان وجود کو چار ٹانکے لگا کر وارثوں کو آپریشن کی پرچی تھما کر آنکھوں میں امید کے دیے ٹمٹما کر کہیں گے ہم نے اپنی پوری کوشش کی، ہمارے افسران اے سی کی خْنکی میں سوٹ پہن کر سرکاری دفتر میں پیزے اور پاستے اڑائیں گے جب کہ نادار سائل تپتی دھوپ میں لکڑی کی کرسی پہ گھنٹوں صاحب کی فراغت کا انتظار کرے گا، یونہی کوئی بدمست ہمارے کسی خواجہ سرا کو سرِ عام پیٹ ڈالے گا سر مونڈ دے گا اور ہم بس دیکھتے رہ جائیں گے کیونکہ ہمارے دلوں میں اگر کوئی جذبہ نہیں بچا تو وہ صرف اور صرف ’’احساس‘‘ کا جذبہ ہے کہ ہم سب نے باجماعت احساس کو مرتے دیکھا ہے۔