اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو عالمی قوانین روندنے پر فخر کرتا ہے اور کسی ملک کی آزادی و خودمختاری کو خاطر میں نہیں لاتا پھر بھی منگل کے روزقطر حملے پر دنیا ششدر ہے کیونکہ تیل کی دولت سے مالا مال یہ امن پسندایسی خلیجی ریاست ہے جو 2012سے امریکی ایما پر حماس دفتر کی نہ صرف میزبان ہے بلکہ طالبان و امریکہ میں مصالحت کرانے کے بعد اب غزہ کے حوالے سے بھی ثالث کا کردار ادا کررہی ہے تاکہ اسرائیلی یر غمالی قیدیوں کو رہاکرایاجاسکے اسرائیل کوقطرقدرتی گیس بھی فراہم کرتاہے مزید اہم بات یہ کہ اِس کے دفاع کاضامن امریکہ ہے اسی لیے قطر پر اسرائیلی حملہ دنیا کے لیے غیر متوقع ہے قطر کے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار ہیں اِس کا دفاعی بجٹ سولہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے چاہے قطر کی فوجی نفری محض بائیس ہزار ہے لیکن جدیدترین ائر ڈیفنس سسٹم اوراپنا ذاتی بحری بیڑا ہے جبکہ اس ملک میں امریکی فوجی اڈے پر بھی مختلف نوعیت کے تباہ کُن ہتھیاروں کے ذخائر ہیں لیکن منگل کے روز دس اسرائیلی طیارے آتے ہیں اور دارالحکومت دوحہ کے وسطی علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں چھ افرا د کو مار کربڑے آرام سے چلے جاتے ہیں نہ صرف قطری ایئر ڈیفنس سسٹم حملے سے لا علم رہتا ہے بلکہ امریکہ بھی خاموش رہتاہے یہ اشارہ ہے کہ سب کچھ امریکی رضامندی سے ہوا ہے ۔
اسرائیل عشروں سے ایران اور اُس کے ہمدردوں سے برسرِ پیکار ہے اِس دوران وہ لبنا ن میں حزب اللہ ،شام میں بشارالاسد،غزہ کی تنظیم حماس اور یمنی حوثیوں کو شدید نقصان پہنچا چکا ایران کے خلاف کارروائیوںمیں نہ صرف افواج کو نقصان پہنچایا بلکہ فضائی حملوں سے اہم ترین رہنماﺅں اور سائنسدانوں کو بھی قتل کردیاجس سے خطہ مسلسل عدمِ استحکام کا شکار تو رہا لیکن امریکی تائید وحمایت اور سعودی قیادت کی طرف سے اعتراض نہ ہونے کی بناپر خطے کے اکثر ممالک خاموش رہے یوں لڑائی مخصوص گروہوں اور علاقوں تک محدود رہی مگر قطر تو ایران کی پراکسی بھی نہیںبلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے کی میزبانی کرنے والے اِس ملک کو نان نیٹو اتحادی کا درجہ حاصل ہے اسی لیے قطر پر حملے کی وجوہات سمجھ سے بالاتر ہیں اِ س حملے نے نہ صرف امریکی اعتماد وساکھ کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے بلکہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حملے کے علاقائی سلامتی کے حوالے سے گہرے مُضمرات ہوں گے۔
قطر نے بظاہر جوابی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے اہم مسلم ممالک سے ساتھ دینے کا مطالبہ کیا ہے مگرجوابی کارروائی کابہت امکان کم ہے اسلامی ممالک میں پاکستان ، ترکیہ ،سعودی عرب ،مصراور ایران سمیت چند ہی ایسے ہیں جن کے پاس طاقتور فوج ہے پاکستان ، ترکیہ اور ایران تو ہتھیاربھی بناتے ہیں لیکن اوآئی سی جیسی تنظیم اتحاد کاموجب نہیں بن سکی اسی لیے عرب ممالک کو جارحیت کا سامنا ہے قطر کے طلب کردہ سربراہی اجلاس میں شامل ممالک اگر یورپی یونین کی طرح اتحاد اور حملے کی صورت میں مشترکہ دفاع کا معاہدہ کر لیں تو بہتر ہے وگرنہ مزید ممالک جارحیت کا نشانہ بن سکتے ہیں جیسا کہ اب ترکیہ کا تذکرہ ہو رہا ہے۔
پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس جوہری طاقت ہے باعثِ اطمینان امر یہ ہے کہ پاکستان اپنی روایتی دفاعی طاقت کا بھی لوہامنوا چکا ہے قطر پر اسرائیلی حملے پر جس ملک نے سب سے سخت اورجاندار ردعمل دیا ہے وہ بھی پاکستان ہے حالانکہ رواں برس مئی میں بھارت سے کشیدگی کے دوران اکثر عرب ممالک کا مشورہ تھا کہ بھارتی کارروائیوں کا پاکستان جواب نہ دے جن میں قطر بھی پیش پیش رہااب قطر کی درخواست پرہی پاکستان نے الجزائر اور صومالیہ کے ساتھ ملکر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کامطالبہ کیا ہے مگر پاکستان کمزور معیشت کی وجہ سے طویل مدتی لڑائی کا متحمل ہو سکے اگر امریکہ اور مغربی ممالک پرعرب ممالک انحصار کم اورڈالر میں تجارت بندکردیں اور پاکستان سے دفاعی ومعاشی تعاون بڑھائیں تو نہ صرف اسرائیلی جارحانہ کارروائیوں کا دندان شکن جواب دینے سے خاتمہ کیا جا سکتا ہے بلکہ عرب ممالک کو اِس صیہونی ریاست کے خوف سے بھی نکالا جا سکتا ہے بصورت دیگر آج دوحہ حملے پر تشویش کا شکاریاد رکھیں مستقبل میں قاہرہ،ریاض یا نقرہ جیسے شہر بھی نشانہ بن سکتے ہیں اسرائیل کا اقتصادی وسفارتی بائیکاٹ نیز تعلقات معمول پر لانے کی عالمی مُہم کو روکناہوگا افسوس قطری قیادت ابھی تک اسرائیل کو قدرتی گیس کی فراہمی روکنے پر غور کررہی ہے ۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع یواف گیلنٹ کاکہناہے کہ اپنے دشمنوں کے خلاف کہیں بھی کارروائی کریں گے وزیرِ اعظم نیتن یاہوکودوحہ حملے پرکوئی پشیمانی نہیں بلکہ وہ قطر پر زور دے رہاہے کہ قطر حماس کے عہدیداروں کو بے دخل کرتے ہوئے جوابدہ بنائے وگرنہ ہم کریں گے اور حملے کا دفاع کرتے ہوئے پاکستان میں دومئی2011 جیسی کارروائی کہا ہے جس میں امریکن نیوی نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کو مار دیا تھا۔
یہاں کئی پہلوبہت اہم ہیں اول سات اکتوبر2023حماس حملے کے بعد سے لیکر اب تک غزہ کو کھنڈر بنانے کے علاوہ اسرائیل سات مسلم ممالک کو نشانہ بنا چکا ہے اِن سات ممالک میں قطرواحدملک ہے جس کا اسرائیل سے براہ راست کوئی تنازع نہیں دوم یوکرین سے آگے بڑھتے ہوئے روس اب پولینڈکو چھیڑنے لگا ہے سوم امریکہ نے وزارت ِ دفاع کا نام جنگ کا محکمہ اور وزیر دفاع کا نام وزیرِ جنگ رکھ لیا ہے چہارم چین نے پہلی بار بڑے پیمانے پر جنگی مشقوں کے ساتھ ملکی ساختہ جدید اور مہلک ہتھیاروں کی نمائش کردی ہے کیا پھر بھی کسی کو شک ہے کہ دنیا ایک نئی عالمگیر جنگ کے دہانے پر نہیں؟ اگر ایسا ہوتا ہے جس کے امکانات ہیں تو یہ انسانیت کی خدمت نہیں دشمنی ہو گی۔
تنازعات کا حل مذاکرات سے ممکن ہے ایسے حالات میں جب حماس کا مذاکراتی وفد امریکی صدر ٹرمپ کی پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہا تھاپر حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل کو امن اور بات چیت سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی اپنے یرغمالیوں کی رہائی چاہتا ہے ۔ قطری قیادت کو مطمئن کرنے کے لیے ٹرمپ کہہ رہے ہیںکہ وہ اسرائیلی حملے سے متفق نہیں سوال یہ ہے کہ جب مطمئن نہیں تو امریکی فوج نے جواب کیوں نہیں دیا؟ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اعتماد میں لیکر حملہ کیا گیا امریکہ کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اُس نے حملے بارے میں قطر کوآگاہ کردیا تھا مگر سوال یہ ہے کہ اگر صرف آگاہ کرنا ہی اُس کی ذمہ داری ہے تو امریکی دفاعی ضمانت کے عوض اربوں ڈالر اِس مسلم ریاست سے کیوں لیے جا رہے ہیں؟ نیز امریکہ اگر قطر کا دوست ہے تو اُس کے ہتھیار اسرائیل کے خلاف کیوں استعمال نہیں ہو سکتے؟ قطر پر حملے کے مضمرات یہ ہیں کہ اب امریکی اعتمادمیں کمی آئے گی دوم قطر کی طرف سے ثالثی کا عمل روکنے سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا عمل تاخیر کا شکار ہو گا یہ تو طے ہے کہ قطر پر حملہ امریکہ و اسرائیل گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے لیکن یہ واقعہ اب دنیا کی تقسیم میں تیزی کا موجب بنے گا اور مسلم دنیا سرعت سے چین، روس اور پاکستان کی طرف مائل ہو گی۔