دوحہ : وزیراعظم شہباز شریف اور امیرِ قطر کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے نے خطے میں امن کی نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ سے بچانے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امیرِ قطر نے وزیراعظم شہباز شریف کا غیر معمولی تپاک سے استقبال کیا، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔امیرِ قطر نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کو سراہتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے کے استحکام کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مزید جنگ خطے کے مفاد میں نہیں، لہٰذا بین الاقوامی برادری کو جنگ بندی کے لیے پاکستان اور قطر کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر کو اپنے دورہ سعودی عرب اور فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کے حوالے سے بھی اعتماد میں لیا۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سفارتی چینلز کو ہر صورت کھلا رکھا جائے گا۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے اگلے مراحل کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔ علاقائی ترقی کو پائیدار امن سے مشروط کیا جائے گا۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ قطر اور وہاں ملنے والی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے اپنی غیر جانبدارانہ اور مخلصانہ پالیسی سے عرب دنیا کا اعتماد جیت لیا ہے۔ اب دوحہ اور اسلام آباد مل کر ایران-امریکا ڈیل کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک مضبوط بلاک کے طور پر ابھر رہے ہیں۔