Wed, September 16, 2026

ایلومیناتی ٹولہ اور دنیا میں جنگوں کی  داستان: ڈاکٹر مجاہد کامران سے اکتسابِ فکر 

ایلومیناتی ٹولہ اور دنیا میں جنگوں کی  داستان: ڈاکٹر مجاہد کامران سے اکتسابِ فکر 

پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کی تحقیقی اور انتظامی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا ہے۔ اپنی غیر معمولی فکر اور منفرد طرز احساس کی بدولت مجاہد کامران صاحب کو ہمیشہ بہت سے چیلنجز کا سامنا بھی رہا ہے جن سے ایک عام مدرس یا محقق کاپالا نہیں پڑا کرتا۔ گزشتہ دنوں پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال بٹ نے جم خانہ گجرات میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کی اہمیت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا لیکن ابھی فقط اتنا کہے دیتا ہوں کہ بٹ صاحب بڑے آدمی ہیں اور ملک کے بڑے لوگوں کا کٹھ کسی نہ کسی طرح کروا ہی لیتے ہیں۔ خیر بعد ازاں ڈاکٹر غلام علی کے طفیل خاکسار کو پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کی کتاب "جنگِ عظیم اول، اصل کہانی کیا ہے " موصول ہوئی۔ اس کتاب نے ڈاکٹر مجاہد کامران کی عالمی مسائل اور دنیا کے معاشی ، سیاسی اور معاشرتی نظاموں کے حوالے سے تحقیق اور نظریے کو سامنے رکھ دیا۔ یہ کتاب جنگ عظیم سے کہیں زیادہ جدید اور مابعد جدید دنیا کے تشکیلی عناصر، محرکات اور اغراض و مقاصد کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ 
میں نے گزشتہ ماہ "صیہونیت کی مبادیات" کے عنوان سے پانچ کالمز لکھے تھے جن میں میں نے ذکر کیا تھا کہ صیہونیت کو صرف یہودی مذہب سے جوڑنا اس کی غلط تعبیر ہے اور اسرائیل کی ریاست اس کا ک±ل سرمایہ نہیں ہے۔ میں نے کچھ مخفی سوسائٹیز کا ذکر کیا تھا اور ارتکاز دولت کے خواہاں، دنیا کے وسائل پر قابض کچھ گروپس اور سوسائٹیز کی طرف اشارہ کیا تھا جو دنیا کے مالیاتی نظام ،فیشن، لائف سٹائل، غالب مذہبی رجحانات حتیٰ کہ تعلیمی نظام اور سماجی ڈھانچوں کا بھی تعین کرتے اور انھیں عام کرتے ہیں۔ اس کے لیے بطور آلہ کار بڑے بڑے سیاستدانوں، گروہوں اور ریاستوں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ میری کم مائیگی یہ رہی کہ میں نے مجاہد کامران صاحب کی یہ کتاب نہیں پڑھی تھی اور نہ ہی اس سطح کی تحقیق میری نظر سے گزری تھی۔ بد قسمتی سے آپ جب بھی " صیہونیت " کے حوالے سے کچھ تلاش کرنے لگتے ہیں تو ہمارے ہاں کچھ مذہبی نوعیت کی کتابیں سامنے آتی ہیں جو یہودیت کو گمراہ کن مذہب اور صیہونیت کو مذہبی لحاظ سے مخالفت اور جہنمی گروہ ثابت کرنے تک اختتام پذیر ہو جاتی ہیں۔یعنی ہمارے اکثر دانشور سیاسی اور معاشی نظاموں کے محاکمے کی قابلیت ہی نہیں رکھتے یا دانستہ اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کم از کم ہم نظام کے عوامل، اسباب اور ان کے نتائج سے مجموعی طور پر اس فورس کو شناخت کر سکتے ہیں جو دنیا کی مادی تاریخ میں معاشی غارت گر اور استعمار کی غیر مرئی قوت کی طرح ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ڈوچرٹی اور میک گریگور کی کتاب " ہڈن ہسٹری"، اےجے پی ٹیلر کی کتاب " دی آریجن آف دی سیکنڈ ورلڈ وار" ، پریپارٹا کی کتاب Conjuring Hitler: how Britain and Americal made the Third reich.
کوئگلی کی کتاب " ٹریجڈی اینڈ ہوپ" لیو لیون زاگامی کی کتاب " ایک ایلومیناتی کے اعترافات " جیسی بیسیوں کتابوں کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا ہے اور پختہ تحقیقی انداز اپناتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر تاریخی حقائق کا تجزیہ کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کیسے ایڈم وائس ہاپٹ سے شروع ہونے والی تحریک نے چہرے تبدیل کیے۔یہ کیسے سوسائٹی آف دی ایلیکٹ بنی۔ مٹھی بھر لوگوں کے مقتدر حلقے نے دنیا کی تقدیر لکھنے کا کام کیسے شروع کیا۔اس ٹولے کا انکشاف سب سے پہلے پروفیسر کوئگلی نے کیا تھا۔ یہ مقتدر طبقات بیانیے پر کنٹرول رکھتے ہیں، بڑے پبلشنگ اداروں اور میڈیا پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ نظامِ زر کے ساتھ جنگوں کے مالک بھی یہی ہیں۔ اس کتاب نے ایلومیناتی صیہونی خاندانوں کو (جنھیں بین الاقوامی بنکار کہا جاتا ہے) کو ایکسپوز کیا گیا ہے۔ دیکھیے نئی دنیا میں عظیم جنگوں کی وجہ الف لیلوی عیاشیوں کے گرویدہ ، دل پھینک رنگیلے شاہ ایڈورڈ ہفتم جیسے لوگ بنتے ہیں اور اس کے فنانسر یہودی بنکار راتھس چائلڈ خاندان اور سر ارنسٹ کیسل (یہی کیسل ایڈوینا ماو¿نٹ بیٹن کا نانا تھا ) عالمی تباہ کاری میں دلالی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ جنگی داستانیں کلاسیکی اساطیری داستانوں سے زیادہ تحیر انگیز ہیں۔ ان کہانیوں کے گورے کردار ماضی بعید کے ٹھکرائے ہوئے کرداروں سے زیادہ مکروہ اور مردود ہیں۔ یہ حرص، ہوس اور لالچ میں فراعین سے آگے کھڑے ہوتے ہیں اور کئی پشتوں پر مبنی اپنی حماقت اور جہالت کو ذہنی فضلے سے تیار کردہ نظامِ زر کی بدولت انسانیت کے سر پر انڈیل دیتے ہیں۔ 
اس ٹولے نے رہوڈز کی دولت استعمال کر کے دنیا کی اہم شخصیات اور سیاست دانوں کو خریدا۔ ان کے قبضے میں آنے والے اخبارات میں ٹائمز ، پال مال گزٹ، ڈیلی نیوز ، ڈیلی کرانکیل، ویسٹ منسٹر گزٹ اور ڈیل میلی وغیرہ بھی شامل ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کی راہ ہموار کرنے کے لیے لٹریچر پر بھی دھاوا بولا گیا۔ بینکرز کے اس ٹولے نے ایسی کہانیاں اور ناول لکھوائے جن میں جرمن کو ایک خطرناک اور بے رحم قوم ثابت کیا گیا۔
جنوبی افریقہ میں سونے کی دریافت کے بعد ٹرانسول میں ہماری مہذب اور گوری ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح برٹش ساو¿تھ افریقہ کمپنی بٹھائی گئی۔ اس کمپنی نے سفاکیت کی نئی تاریخ رقم کی اور سادہ اور آزادی پسند لوگوں کی کھالوں اور ہڈیوں پر اپنے مشینی انقلابات کی بنیاد رکھی۔
ایک تحریر میں میں نے جدید سائنسی علوم پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ زیادہ تر ٹیکنالوجی اور علوم استعمار کی ایجاد ہیں اور انھیں استبدادی قوتوں کی ضروریات کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انسانیت کے لیے تخریبی زیادہ ہیں اور تعمیری کم۔
مجاہد کامران صاحب نے آغاز میں ہی میکسم گن کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس سمت اشارہ کیا۔ یہ بندوق جنگ عظیم اول میں مشین گن کی ایجاد کا موجب بھی بنی۔ وہ کہتے ہیں کہ پیرس میں ایجادات کی ایک نمائش میں امریکی یہودی ہرام میکسم کو کسی نے کہا اگر تم امیر بننا چاہتے ہو تو کوئی ایسی ایجاد کرو جو یورپی قومیں ایک دوسرے کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کریں۔ غالباً میکسم گن اسی تجویز کے زیر اثر ایجاد کی گئی۔ آج بھی اینگلو امریکی اسٹیبلشمنٹ اس طبقے کے قائم کردہ تھنک ٹینک اور خفیہ ٹیم کے اشارے پر چلتی ہے۔ (جاری ہے) 

ٹیگز: