Wed, September 16, 2026

ایلومیناتی ٹولہ اور دنیا میں جنگوں کی داستان

ایلومیناتی ٹولہ اور دنیا میں جنگوں کی داستان

ہم تاریخ کو سمجھے بنا اپنے زمانے کے چلن کو نہیں سمجھ سکتے۔ اسی میں ہم تک پہنچنے والے اجتماعی شعور کے مادی محرکات پوشیدہ ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نئے انسان کی ذہنی ساخت تشکیل دینے والے حالات و واقعات مستقبل کی ضروریات کے تحت دوبارا جنم لے سکتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاصر مسائل کی جڑیں ابھی تک ماضی کے دفن شدہ صندوقوں میں چھپی ہیں جن کی بازیافت ہمیں مسلسل تصادم کے سلسلے سے نجات دلا سکتی ہے۔ میں نے گزشتہ کالم میں ڈاکٹر مجاہد کامران صاحب کی کتاب "جنگ عظیم اول اصل کہانی کیا ہے" کے حوالے دنیا کی مخفی ایلومیناتی سوسائٹیز کے پر ادھوری بات کی تھی۔ آج بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مجھے جون ایلیا یاد آ گئے۔ جون نے جہاں اپنے معاشرے کے جامد وجود پر کڑی تنقید کی وہیں انھوں نے انسان کے عالمی تصور پر کئی سوالات کھڑے کیے جو در اصل نئے انسان کے تعارف پر طنز کرتے ہیں۔ 
جون ایلیا کہا کرتے تھے " یہ دور مارکس آریلیس کا دور نہیں ہے، لکرگس کا دور نہیں، یہ افلاطون کا دور نہیں ہے یہ بونوں کا دور ہے۔ میں بونوں کے عہد میں زندہ ہوں"۔ 
اس بونے دور کے خالق دہائیوں سے قد آور لوگوں کو دباتے اور مارتے آ رہے ہیں۔ اس کی کاشت میں بصیرت آفرینی اور دانش وری کے نا قابل معافی جرم کی سزا سنا کر لوگوں کو انجام تک پہنچایا جاتا رہا ہے۔نتیجتاً عالمی تہذیبی اقدار میں لالچ، خود غرضی، حرس و حوس شامل ہو گئے اور نمائش دنیا کا واحد روحانی مظاہرہ رہ گیا ہے۔ 
گزشتہ ایک صدی میں اگر کوئی فہم و فراست رکھنے والا مشرقی و مغربی سیاستدان دنیا کے سامنے آیا ہے تو بونوں کی دنیا تخلیق کرنے والوں نے اسے یا تو پروپیگنڈے سے ناکام بنا دیا گیا یا پھر قتل کر دیا۔ اس قتل و غارتگری کو ڈرامائی انداز سے حادثاتی رنگ دیا گیا۔ جان ایف کینیڈی اور اس کے بھائی رابرٹ کینیڈی کو پر ہجوم مقام پر مارا گیا۔ جان ایف کینیڈی کا بیٹا جہاز کریش ہونے پر ہلاک ہوا۔ اسی طرح صیہونی معاشی غارتگروں کا مخالف لیری میکڈانلڈ 1983 کے مار گرائے جانے والے جہاز کا مسافر بن گیا۔ با ایں ہمہ سٹیفن مٹفورڈ گڈن سمیت کئی مصنفین نے اپنی کتب میں یہ راز فشاں کیا ہے کہ ربا یعنی سود کا کاروبار کرنے والوں نے ان لیڈروں کو قتل کیا ہے جنھوں نے اس نظامِ ربا کی مخالفت کی تھی۔ ڈیوڈ مارٹن نے اپنی کتاب میں شواہد کے ساتھ ایسی قتل و غارتگری کی نشاندہی کی۔ حیرت انگیز طور پر ان مقتولین کی فہرست میں دو امریکی صدور، ابراہام لنکن اور جان فٹزجیرالڈ کینیڈی بھی شامل ہیں۔ ان دونوں نے یہ جرم کیا تھا کہ محکمہ خزانہ کو یہ حکم دیا تھا کہ ایسے نوٹ چھاپیں جن کے ساتھ سود منسلک نہ ہو۔اس پیش رفت کے ذریعے سے عالمی سرمایہ پرست بغیر محنت کے حاصل ہونے والے اربوں ڈالرز سے محروم ہو جاتے۔ 
صیہونی مالیاتی نظام، دولت کی پیدائش کے انھی طریقوں کو عام کرتا رہا ہے جن سے دنیا کی اکثریتی آبادی کو سودی نظام میں جکڑا جا سکے اور غارتگری اور جارحیت سے دنیا میں تباہی اور احتیاج پھیل سکے۔ پیدائشِ دولت کے ایسے حربوں کو سمجھنے کے لیے ایلومیناتی گروہ کی اسلحہ انڈسٹری کو دیکھیے۔ اس ٹولے کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری اسلحے کی صنعت میں کی گئی۔ دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ ساز نیتھینئل انھی غارتگروں کا پالیسی ساز تھا۔ اس بات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نئے دور کی منصوبہ بندی میں کن ترجیحات کو مد نظر رکھا جا رہا تھا اور عالمی ادارے کن اہداف کو تحفظ دینے کے لیے قائم کیے جا رہے تھے۔ اس ضمن میں بھی ڈاکٹر مجاہد کامران کی تحقیق میں پیش کیے جانے والے تاریخی شواہد اور موجودہ حالات مل کر ان عوامل کی شرح کر دیتے ہیں۔ تفصیل سے گریز کرتے ہوئے میں صرف ایک مثال پیش کرتا چلوں کہ انھی اسلحہ سازوں نے جنگی معیشت کے فروغ کے لیے کرہ ارض کو کس حد تک ناقابلِ رہائش بنا ڈالا ہے۔
اسلحہ ساز کمپنیوں کی فروخت ایک ہزار ارب امریکی ڈالرز تک پھیل گئی ہے۔ حالیہ ایران امریکہ جنگ کے بعد اس میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ مسخروں کی معاونت سے دنیا پر مسلط کی جانے والی جنگ نے تمام ممالک کی توجہ اسلحہ سازی اور اسلحے کی خرید و فروخت پر لگا دی ہے۔ اقوام عالم تباہی کی صلاحیت میں اضافے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتی ہیں۔ اقوام متحدہ کا یتیم خانہ بھی ایلومیناتی گروہ کے مفادات کی پہرے داری سے ہانپنے لگا ہے۔ ہمارے جو مبصرین حالیہ جنگوں کو مختلف ممالک کے درمیان پائی جانے والی سیاسی چپقلشوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں وہ بڑے بھولے بھالے معلوم ہوتے ہیں۔ یہ جنگیں دولت کے نئے پیداواری طریقوں کے رائج ہونے اور ایلومیناتی معاشی غارتگروں کے مفادات کے پورا ہونے تک جاری رہیں گی۔ اس سرکس میں امریکی سیاسی مسخروں کی حیثیت مصنوعی ذہانت سے چلائے جانے والے پیادوں سے بھی کم تر ہے، جو اپنی چال کا فیصلہ خود نہیں کرتے۔ جدید دنیا براہ راست سسٹمز کی جنگوں میں مبتلا ہے، یہ جنگیں کئی پردوں میں مستور رہنے کے بعد اب برہنہ ہو گئی ہیں۔ ہم کسی بھی خطے میں زندگی بسر کر رہے ہوں، دنیا کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام سے بے خبر نہیں رہ سکتے۔
 یہ تاریخی محاکمہ نہایت اہم ہونے کے ساتھ ساتھ حساس بھی ہے۔ صیہونی استعماریت کے اثرات معیشت و معاشرت سے لے کر ہمارے روز مرہ تک سے جڑے ہیں۔ آخر میں میں پروفیسر ڈاکٹر اقبال بٹ اور ڈاکٹر غلام علی کا ممنون ہوں جن کے طفیل ایک اعلیٰ تحقیق میری علمی آبیاری کا باعث بنی لیکن یہ بحث ابھی نا کافی ہے۔ میری خواہش ہے کہ ڈاکٹر مجاہد کامران کی موجودگی میں کچھ مذاکروں اور مکالموں کا اہتمام کیا جائے جہاں ہم پوری دنیا کے سامنے اپنی تحقیق اور حاصلاتِ فکر کو رکھ سکیں۔ 

ٹیگز: