Wed, September 16, 2026

آزادفلسطین کا قیام اور شرپسند ٹولہ…

 آزادفلسطین کا قیام اور شرپسند ٹولہ…

عالمی وقومی سیاست میں جب بھی کوئی مسئلہ حل کی طرف آتا ہے تو مثبت قوتوں کو نہ صرف راہ ہموار کرنا پڑتی ہے بلکہ ایک مخصوص شرپسند ٹولے پر بھی نظررکھنا پڑتی ہے یہ شرپسند مفاد پرست ٹولے اپنے مخصوس اور مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے حکومتی وقومی فلاحی سوچ کے مقابل آڑے آجاتے ہیں۔ 
عوام عام آنکھ سے اس شرپسند گروہ کے خفیہ مقاصد کو جانے بغیر ان کے بظاہر پرکشش نعروں کے دھوکے میں آجاتے ہیں یہ شرپسند لوگ ہمیشہ ہی کیوں قومی مفاد کی مخالفت کرتے ہیں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ Funded(فنڈڈ) ہوتے ہیں بیرونی اور اندرونی ملک دشمن غیرملکی ایجنڈے پر کارفرما تنظیمیں فوری طورپر متحرک ہوجاتی ہیں جیسے اس وقت یہ تنظیمیں آزاد کشمیر میںمتحرک ہیں اس طرح عالمی منظر میں بھی جب فلسطین کی طویل ترین  خون آلود انتہائی غم زدہ تباہ کن جنگ آزادی اپنے مقصد کے نزدیک ہورہی ہے ایک آزاد فلاحی اسلامی مملکت کا قیام ممکن ہورہا ہے تو یہ منفی گروہ سرگرم ہوگیا اور پاکستان کے واضع مؤقف کو توڑ موڑ کر پیش کررہا ہے۔ 
پاکستان روزاول سے لے کر آج تک اپنے واضع اور اعلانیہ مؤقف پر قائم ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کا حق خودارادیت ملے اور 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ممکن بنایا جائے ۔۔پاکستان اس وقت اسلامی ملکوں کے سربراہ کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ عزت پاکستانی افواج کی انتھک کوشش بھارتی جنگی جنون کی منہ توڑ شکست اور پاکستان کی عظیم الشان فتح کے بعد نصیب ہوئی ہے اور الحمد للہ آج کوئی بھی بڑا عالمی مسئلہ پاکستان کی رائے اور شمولیت بلکہ رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں چند شکست خوردہ سیاسی جماعتوں اور طالع آزما افراد سے یہ برداشت نہیں ہورہا اور وہ پاکستان کے مؤقف جس میں مسئلہ فلسطین کا حل ایک آزاد خودمختار مملکت کی صورت ممکن بنایا جارہا ہے کیا پچاس ہزار سے زیادہ افراد کی شہادت گزشتہ دہائیوں سے بچوں کی خون آلود ننھی لاشیں ختم شدہ ہسپتال سکول گری ہوئی چھتیں ملبے تلے مٹے مرے ہوئے لوگ روز اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھاتے فلسطین کے مظلوم لوگوں کو کسی حل کی طرف نہیں آنا چاہئے۔؟
کیا پاکستان واحد ملک ہے جس نے صدرٹرمپ کے 20نکاتی امن معاہدے کی حمایت کی ہے ؟ پورے عالم اسلام نے تائید کی ہے کہ اب نسل کشی کا سلسلہ ہرحال میں بند کیا جائے۔ 
ایران، ملائیشیا، سعودیہ، مصر، ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر مسلم ممالک کی مشترکہ سوچ اور باعمل کاوشیں ہیں جو آج آزاد فلسطین کا قیام ممکن ہونے جارہا ہے۔ 
منفی پراپیگنڈہ کرنے والے سن لیں کہ نہ پاکستان نے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا نہ اب کرے گا۔ 
مقام شکر یہ کہ اس امن منصوبے کی کامیابی یوں بھی یقینی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرزبھی اس امن معاہدے پرمتفق ہیں اس سلسلے میں ایک واضع روڈ میپ دیا گیا ہے جو ایک پرامن آزادفلسطینی ریاست کے قیام اورکٹے پھٹے اعضاء ادھورے خاندانوں اورٹوٹے پھوٹے گھروں والوں کو قدرے سکون کا سان دلائے گا۔ آج بھی روزانہ کی بنیاد پر غزہ کی خوں رنگ پٹی پر 50سے 80افرادکی بھینٹ چڑھائی جاتی ہے منفی پراپیگنڈہ کرنے والوں کے سینے میں کیا دل نہیں ہے کیا وہ اور بچے مروانا چاہتے ہیں کیا وہ خود اسرائیل کی اندھی بمباری میں مرنے کیلئے تیار ہیں جو معصوم فلسطینیوں کے قیام آزاد مملکت کی راہ میں روڑے اٹکارہے ہیں۔ 
شہادتیں فلسطینیوں کی ہوئی ہیں بچے فلسطینیوں کے شہیدہوئے ہیں ان کے گھروں کی تعمیر، مدتوں بعداداروں کا قیام اجڑی ہوئی بستیوں کی بحالی اور آبادکاری سے بڑاکوئی کام ہوسکتا ہے ؟
اتنے بڑے پرامن منصوبے میں اگر کچھ تحفظات بھی ہوں تو وقت اس کا بھی ازالہ کردیتا ہے پہلے یہ خون آلود جنگ تو بند ہو جو کہ اتنے بڑے مصالحتی ممالک  اسلامی ملکوں کی کاوش 20نکاتی معاہدے اور عالمی طاقتوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ 
اس وقت اس معاہدے کے خلاف بیان دینے والوں کو فلسطین کے جنگی محاذوں اجڑی ہوئی ویران بستیوں میں جنگ لڑنے کیلئے خود جانا چاہئے۔ 
پاکستان کو اگر اللہ تعالیٰ نے سرفراز کیا ہے تو پاکستان نے سب سے پہلے عالمی راہ ہموار کرکے مدتوں کے تکلیفیں آزار مصیبتیں اور اموات کے شکار فلسطینی بھائیوں کیلئے جدوجہد کرکے آزاد فلسطین کی راہ ہموار کی ہے ۔
جو یہ سمجھتے ہیں کہ اتنی بڑی اورطویل جنگ فلسطینیوں کی تباہی اور ان کی نسل کشی بغیر کسی عالمی معاہدے کے رک سکتی ہے وہ یاتو احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں یا پھر مفاد پرستی کے بازار کے تاجر ہیں جو صرف اپنی سیاسی گروہی پرتعیش زندگی کے حصول کی خاطر نہتے معصوم اور بے گناہ فلسطینیوں کی راہ میں روڑے اٹکاکر مزید ظلم اور اسرائیلی استبداد کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ 

ٹیگز: