دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا کردار ملے جو ایک وقت میں کسی سپر پاور کا محبوب مجاہد بھی ہو اور کچھ برس بعد اسی کے لیے سب سے بڑا دشمن بھی۔ اس کردار کا نام ہے اسامہ بن لادن۔ ایک ایسا شخص جسے کبھی ’’جہاد کا ہیرو‘‘ قرار دیا گیا، جس کی مالی اور نظریاتی خدمات سے سی آئی اے نے فائدہ اٹھایا، لیکن وقت کے ساتھ وہی شخص امریکہ کے لیے دہشت گردی کی علامت بن گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر اسامہ بن لادن کو سی آئی اے نے بنایا کیوں، استعمال کیسے کیا، اور پھر مٹا کیوں دیا؟۔
1979 میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو امریکہ کو سرد جنگ کے تناظر میں ایک موقع نظر آیا۔ سی آئی اے نے اسلامی دنیا کے مجاہدین کو منظم کرنے، تربیت دینے اور مالی مدد فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کا مقصد واضح تھا: افغانستان کو سوویت یونین کے لیے ویتنام بنانا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ بنایا گیا اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغان جہاد کی سرپرستی ریاستی پالیسی بن گئی۔
انہی دنوں سعودی عرب کا ایک نوجوان، کروڑ پتی تاجر کا بیٹا، اسامہ بن لادن بھی افغانستان پہنچا۔ وہ مال و دولت، نظریاتی جوش اور مذہبی جذبے کے ساتھ جہاد میں شریک ہوا۔ لیکن یہ محض ایک شخص کی ذاتی وابستگی نہیں تھی۔ سی آئی اے نے اس کے مالی نیٹ ورک، تعمیراتی صلاحیتوں اور عرب نوجوانوں میں اثر و رسوخ کو پہچانا۔ اسامہ نے عرب دنیا کے ہزاروں نوجوانوں کو افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کیا۔ سی آئی اے کے لیے وہ ایک قیمتی اثاثہ تھا… ایک ایسا شخص جو امریکی مفادات کے لیے مذہبی جذبے کے ساتھ جنگ لڑ سکتا تھا۔
اگرچہ امریکہ ہمیشہ اس بات سے انکار کرتا رہا کہ اسامہ بن لادن کو براہِ راست فنڈ کیا گیا، لیکن حقیقت ہے کہ اسامہ کا نیٹ ورک سی آئی اے کے منصوبے "آپریشن سائیکلون" سے جڑا ہوا تھا۔ سی آئی اے نے پاکستان کے ذریعے اسلحہ، تربیت، فنڈز
اور پروپیگنڈہ مشینری فراہم کی۔ اسامہ کا کردار ایک منتظم اور رابطہ کار کا بن گیا۔ وہ مجاہدین کے لیے تعمیراتی کیمپ بناتا، انہیں وسائل مہیا کرتا، اور عرب دنیا سے فنڈنگ اکٹھی کرتا۔
اسامہ کی تنظیم "مکتب الخدمت" اسی امریکی منصوبے کی پیداوار تھی۔ یہ تنظیم مجاہدین کو وسائل، پناہ اور تربیت فراہم کرتی تھی۔ 1980 کی دہائی میں یہی مکتب بعد میں القاعدہ کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیل ہوا۔ جب 1989 میں روسی افواج افغانستان سے نکلیں، تو امریکہ نے اپنی سرد جنگ کا مقصد حاصل کر لیا۔ واشنگٹن نے نہ صرف افغانستان بلکہ ان تمام مجاہدین کو بھی فراموش کر دیا جنہیں وہ "فریڈم فائٹرز" کہتا تھا۔ پاکستان کو بھی تنہا چھوڑ دیا گیا۔ اسامہ بن لادن نے اس غداری کو ذاتی اور نظریاتی سطح پر محسوس کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ امریکہ نے اسلام کے نام پر لڑی گئی جنگ کو محض اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔
روس کے جانے کے بعد اسامہ نے امریکی پالیسیوں پر کھلے عام تنقید شروع کر دی۔ جب پہلی خلیجی جنگ میں امریکہ نے سعودی عرب میں فوجی اڈے قائم کیے، تو بن لادن کے نزدیک یہ "سرزمینِ حرمین" کی توہین تھی۔ وہ اب ایک ایسا شخص بن گیا تھا جو اپنے ہی خالق کے خلاف بغاوت کر رہا تھا۔
اسامہ کی امریکہ دشمنی محض مذہبی یا نظریاتی نہیں تھی بلکہ سیاسی ردِعمل بھی تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ امریکہ اسلام کے خلاف صلیبی جنگ لڑ رہا ہے جبکہ امریکہ اسے اپنے مفادات کے خلاف ایک آزاد مزاحمتی علامت سمجھنے لگا۔ 1996 میں جب اسامہ نے "اعلانِ جہاد" جاری کیا تو اس نے واشنگٹن کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ 1998 کے کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارتخانوں پر حملے کے بعد اسے عالمی دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ اسی لمحے سی آئی اے نے فیصلہ کر لیا کہ اسامہ اب ایک اثاثہ نہیں بلکہ خطرہ ہے۔ 2001 میں نائن الیون کے حملوں نے یہ فیصلہ حتمی بنا دیا۔ امریکہ نے اسامہ کو دنیا کا سب سے مطلوب شخص قرار دے دیا۔ وہی شخص جسے کبھی "مذہبی جنگجو" کے طور پر سراہا گیا تھا اب "دہشت گردوں کا سردار" کہلایا۔
پاکستان کے لیے یہ ایک نازک موڑ تھا۔ وہی افغان جہاد جس کے ذریعے پاکستان نے عالمی طاقتوں میں مقام بنایا، اب اسی کے اثرات دہشت گردی، شدت پسندی اور بدامنی کی شکل میں واپس آ رہے تھے۔ امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی بنا دیا، لیکن درحقیقت یہ جنگ پاکستان کے اندرونی امن اور خودمختاری کے لیے زہر بن گئی۔
امریکی پالیسیوں میں سب سے بڑا تضاد یہی تھا کہ وہ خود دہشت گردی کی بنیاد ڈال کر اسے ختم کرنے کے دعوے دار بن گئے۔ اسامہ کی کہانی دراصل اس منافقت کی علامت ہے۔ ایک وقت میں اسے ’’فریڈم فائٹر‘‘ کہا گیا، بعد میں ’’شیطان‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے اپنی سرد جنگ کی حکمتِ عملی کے لیے مذہب کو استعمال کیا اور پھر انہی لوگوں کو مٹا دیا جنہوں نے اس کے لیے لڑائی لڑی۔
2011 میں ایبٹ آباد آپریشن کے دوران اسامہ کی ہلاکت کا دعویٰ محض ایک شخص کے قتل کا دعویٰ نہیں تھا بلکہ ایک علامت کا خاتمہ تھا۔ امریکہ نے اپنے ماضی کے گناہوں کو چھپانے کے لیے اس کہانی کا اختتام خود لکھا۔ اسامہ کی لاش سمندر میں پھینکنے کا فیصلہ بھی اسی سوچ کا عکاس تھا … وہ دنیا سے نہ صرف اس شخص کو بلکہ اس کی علامت، اس کی سوچ اور اپنی شراکت داری کی تاریخ کو مٹا دینا چاہتے تھے۔
پاکستان کے لیے اس کہانی کا سبق یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی جنگوں میں کسی بھی ملک یا نظریے کو آلہ کار بننے سے صرف وقتی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ آخرکار، وہی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہیں۔ افغانستان کے جہاد سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی۔
اسامہ بن لادن کی کہانی ایک شخص کی نہیں بلکہ ایک عالمی سیاسی کھیل کی کہانی ہے … ایک ایسا کھیل جس میں مذہب، طاقت اور مفاد کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر انسانیت کو قربان کیا گیا۔امریکہ نے اسامہ کو پیدا کیا، اسے استعمال کیا، اور جب وہ آزاد سوچنے لگا، تو اسے ختم کر دیا۔ یہی سی آئی اے کی سیاست کا المیہ ہے … جب مہرہ بادشاہ بننے لگے تو کھیل ختم کر دیا جاتا ہے۔