10 جون کی گرم ترین دوپہر لیکن سیاسی ورکر جوکسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں ہمیشہ وطن کی محبت میں لبریز ہوتے ہیں ¾یہ جانے بغیر کہ کل اُن کے ساتھ نیا سیاسی معروض کیا کرے گا اپنی سیاسی جماعت کا پرچم سر بلند کرنے کیلئے کچھ نیا کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں ¾ استحکام ِ پاکستان پارٹی کے صوبائی دفتر ¾ اپر مال لاہور میں جمع تھے جہاں مرکزی صدر عبد العلیم خان کی ہدایت پر پارٹی کا دوسرا یومِ تاسیس منایا جا رہاتھا ۔ اس پروگرام کودیکھنے کیلئے دعوت صوبائی سیکرٹری و ایم پی اے شعیب صدیقی کی جانب سے موصول ہوئی اور میں وقت ِ مقررہ پر اس خوبصورت لان میں پہنچ گیا جہاں استحکام پاکستان پارٹی کی مرکزی صوبائی اور ضلعی قیادتیں موجود تھیں ۔ یوم تاسیس کا بنیاد ی مقصداپنے سیاسی کارکنوں کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ ہم نے ایک سال میں کیا کھویا کیا پایا ؟ یقینا یہ سیاسی جماعت کی کارکردگی بھی ہوتی ہے اور سیاسی ورکروں کیلئے وہ میٹریل بھی جس کی بنیاد پر انہوں نے گلی محلہ اور سوشل میڈیا پر اپنی سیاسی جماعت کی ناصرف کارکردگی بتانا ہوتی ہے بلکہ اپنی سیاسی جماعت کا دفاع بھی کرنا ہوتا ہے ۔دو سال میں استحکامِ پاکستان پارٹی نے نہ صرف لاتعداد سیاسی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں الیکشن 2024 ءمیں اُن کے ایم این ایز اور ایم پی اےز کی فتح کے بعد مرکزی اورپنجاب میں صوبائی حکومت کا حصہ بننا تھا بلکہ اس کے علاوہ عبد العلیم خان نے بطور وفاقی وزیر ان گنت کامیابیاں سمیٹیں جن میں پاکستان کی بڑی سٹرکوں اور بین الاقوامی روٹس کے وہ معاہدے شامل ہیں جنہوں نے آنے والے دنوں میں پاکستان کے ٹریڈروٹس میںاہم کردار ادا کرکے پاکستان کی تجارت کو بام ِ عروج پر پہنچانا ہے۔ 50 ارب سے زائد خزانے میں جمع کرانا اور اس ٹارگٹ کو 5 سو ارب تک لے کرجانے کا عہد تو شامل ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بڑی شاہراوں کو محفوط بنانے کے علاوہ ٹراما سینٹر کے قیام کے علاوہ حادثے کی صورت میں ہیلی کاپٹر کی فوری فراہمی بھی شامل ہے ۔ عبد العلیم خان نے سینٹرل ایشیا کی سیاست اور تجارت کے معاہدوں میں بھی اہم کردار ادا کیا اور ہر جگہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سے پہلے وسطی ایشیا کے ممالک میں پہنچ کر اپنے وزیر اعظم کیلئے راہ ہموار کی ۔ مرکزی صدر استحکام ِ پاکستان و وفاقی وزیر عبد العلیم خان موجود ہ سیاسی رجیم میں ایک باکمال انسان ہیں جو بیک وقت لاتعداد سیاسی ¾ سماجی اورانسانی خدمات سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اُسے ایک بار مل لیتے ہیں وہ یقینا اُن کی شخصیت اور انسان دوستی کے قائل ہو جاتے ہیں ۔ عبد العلیم خان کی اعلیٰ ترین خوبی جو مجھے اُن میں دکھائی دی وہ انتہائی مخلص انسان ہے اوردوسروں سے بھی ایسی ہی توقع رکھتا ہے لیکن لازمی نہیں کہ آپ کے خلوص کا جواب بھی آپ کو خلوص کے ساتھ ملے۔ عبد العلیم خان نے تحریک انصاف میں اپنی تمام انرجی ¾ صلاحیتیں ¾ وسائل اور تعلق کسی فطرتی فضول خرچ بچے کی طرح نچھاور کردیئے لیکن جناب علی علیہ سلام کا قول ہے کہ” طاقت اور اختیار ملنے پر لوگ بدلتے نہیں بے نقاب ہوتے ہیں۔“ عبد العلیم خان کو بھی ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ مضبوط اعصاب کے مالک تھے اُنہوں نے سوچا:
دو قدم رائیگاں ہوئے تو کیا
دو قدم اور جستجو کر لو
اُنہوں نے اس بار کسی کی سیاسی جماعت جوائن کرنے کے بجائے اپنی جماعت بنائی اور جیسا کہ میں نے استحکامِ پاکستان پارٹی کے قیام کے موقع پر لکھا تھا کہ ”عبد العلیم خان کواپنی سیاسی جماعت بنانے کیلئے کارکنوں کی بڑی کھیپ تحریک انصاف سے ہی میسر آ جائے گی ۔“سو دوسرے یومِ تاسیس پر جن کارکنوں کی کثیر تعداد کو میں نے دیکھا اُن میں بڑی تعداد تحریک انصاف کے سابقون کی ہی تھی۔پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان کی بے مثل کا میابی کے بعد استحکام ِ پاکستان پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے معرکہ حق کے نام سے لیہ ¾اورخوشاب میں بڑے کنونشن کرکے ثابت کیا کہ پاکستان کے عوام آج بھی اپنے دفاعی اداروں سے محبت کرتے ہیں اور محبت کے اس رشتے کونقصان پہنچانے کی سکت کسی بیرونی ایجنٹ یا اندرونی ہاتھ میں ہرگز نہیں ۔15 جون کو کامونکی میں معرکہ حق کنونشن کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں یقینا استحکامِ پاکستان پارٹی کے ورکروں کی کثیر تعداد شرکت کرکے یہ بات ثابت کردے گی کہ بھارتی جارحیت کو ہر محاذ پر شکت دی جائے گی ۔ اس کے ساتھ ہی سینٹرل پنجاب کے اضلاع میں معرکہ حق کے نام سے کنونشن سیریز کا آغاز ہو جائے گا ۔ یوم ِ تاسیس کے موقع پر برخودار لکی خان نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض بخوبی سرانجام دیئے ۔ ایم پی اے و سیکرٹری جنرل پنجاب شعیب صدیقی نے گزشتہ دو سال کی کارکردگی بارے پارٹی ورکروں کوبتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے اُس وقت استحکام ِ پاکستان پارٹی کی بنیادیں کھڑی کیں جب ہر طرف مایوسی پھیلی ہوئی تھی اور پاکستان کو سری لنکا بنانے کی باتیں ہو رہی تھیں ¾ ایک سیاسی جماعت نے پاکستان کے دفاعی اداروں کے خلاف منظم کمپین لانچ کر رکھی تھی اور انتہا تو اُس وقت ہوئی جب انہوں نے دفاعی اداروں پر حملوں جیسے گھناﺅنے جرم کا ارتکاب کیا ۔ ہم نے نئے عزم کے ساتھ کمرباندھی اور وطن ِ عزیز کی محب وطن سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر وطنِ عزیز کو ملک دشمنوں کی شکنجے سے نہ صرف آزاد کرایا بلکہ ترقی اور اداروں پر اعتماد کے نئے سفر کا آغاز کیا جس میں ہمیں کامیابی ہوئی ۔سابق وفاقی وزیر و صدر پنجاب استحکام پاکستان پارٹی رانا نذیر نے استحکام ِ پاکستان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو عبد العلیم
خان کے ویژن کا مرہون ِ منت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبد العلیم خان نے ہمیشہ ہر موقع پر ہماری راہنمائی فرمائی ہے جس کی وجہ سے ہم نے مشکل حالات میں بہترین نتائج دیئے ۔ سابق صوبائی وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ و مرکزی سیکرٹری جنرل نے تفصیل سے گزشتہ دو سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالنے کے علاوہ مستقبل میں بڑے پیمانے پر ممبر شپ مہم لانچ کرنے کے علاوہ یونین کونسل لیول تک تنظیم کو منظم کرکے بلدیاتی انتخابات میں حیران کُن نتائج دینے کے خبر دی اور آئند ہ جنرل الیکشن میں بڑے پیمانے پر مرکزاورصوبوں میں کامیابی کا دعویٰ کیا ۔ یومِ تاسیس اقلیتوں کے سابق ایم پی اے ہارون گل کے علاوہ استحکام ِ پاکستان پارٹی کے طلباءونگ ¾ یوتھ ونگ ¾ خواتین ونگ ¾ لیبر ونگ ¾ علماءونگ کے علاوہ صحافیوں اور معززین شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ استحکام ِ پاکستان پارٹی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے دفاعی اداروں کی اہمیت اور اِن کے احترام و قربانیوں کے حوالے سے کنونشنز کا انعقاد کرنا چاہیے تاکہ وہ گرد جو ماضی قریب میں اڑائی گئی تھی اُسے مکمل دفن کیا جا سکے۔