دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر دور میں ایسی شخصیات اور تحریکیں وجود میں آئیں جنہوں نے انسانیت کی خدمت، دین کی ترویج اور علم و شعور کی بیداری کے ذریعے معاشروں کو جہالت، پسماندگی و ظلمت سے نکال کر روشنی اور ہدایت کی راہوں پر گامزن کیا۔ انہی عظیم تحریکوں میں ایک ممتاز اور تاریخی مقام تحریک منہاج القرآن کا بھی ہے۔ تحریک منہاج القرآن کی بنیاد شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے 17 اکتوبر 1980ء کو لاہور میں رکھی۔ یقیناً یہ دن امت مسلمہ کی فکری و روحانی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یوم تاسیس منہاج القرآن محض ایک تاریخی موقع نہیں بلکہ عہد وفا کی تجدید کا دن ہے۔ یہ دن اس عزم کی یاد دلاتا ہے کہ دین اسلام کے حقیقی پیغام کو علم، تحقیق، عمل اور کردار کے ذریعے دنیا تک پہنچایا جائے۔ اس تحریک نے اپنے آغاز ہی سے دین و دنیا کے درمیان توازن قائم رکھنے، انسانیت کی خدمت اور علم و امن کے فروغ کو اپنا نصب العین بنایا۔ تحریک منہاج القرآن نے جدید و قدیم علوم کے حسین امتزاج سے ایک ایسا تعلیمی و فکری نظام قائم کیا جس نے نوجوان نسل میں تحقیق، مطالعہ اور علمی جستجو کا شوق پیدا کیا۔ منہاج یونیورسٹی لاہور، نظام المدارس پاکستان، منہاج ایجوکیشن سوسائٹی، منہاج کالجز، فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پاکستان سمیت دنیا بھر میں قائم اسلامک سنٹرز و تحقیقی ادارے علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ سیرت، فقہ، تصوف، بین المذاہب رواداری، دہشت گردی کے خلاف علمی و فکری دلائل یہ سب منہاج القرآن کے علمی ورثے کی جھلکیاں ہیں۔ شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ امن و رواداری، انسان دوستی اور اعتدال پسندی کا پرچار کیا۔ دنیا بھر میں اسلام کے حقیقی پُر امن اور اعتدال پسند تصور کو اجاگر کیا۔ ان کا فتویٰ دہشت گردی کے خلاف ایک تاریخی و علمی کارنامہ ہے جس نے عالمی سطح پر اسلام کے امن پسند چہرے کو نمایاں کیا۔ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کے تحت یتیم بچوں کی کفالت، بے سہارا افراد کی مدد، میڈیکل کیمپ، امدادی سرگرمیاں اور قدرتی آفات میں خدمت خلق کے منصوبے تحریک منہاج القرآن کے فلاحی کردار کو واضح کرتے ہیں۔ آغوش آرفن کیئر ہوم منہاج القرآن کے انسانیت نواز مشن کی ایک روشن مثال ہے جہاں سیکڑوں بچے، تعلیم، تربیت اور شفقت و محبت کی فضا میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ شیخ الاسلام کی قیادت میں یہ تحریک نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں امر بالمعروف و نہی عن المنکرکے قرآنی فریضے کو ایک منظم اور مؤثر شکل میں انجام دے رہی ہے۔ منہاج القرآن کے مراکز، تعلیمی ادارے، علمی فورمز اور فلاحی ادارے سب اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ تحریک انسانیت کے دکھ درد کو کم کرنے اور قلوب کو ایمان و یقین سے منور کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ 45 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر شیخ الاسلام نے جو پانچ نئی عظیم تصانیف اُمت کے سامنے پیش کیں، وہ صرف علمی کارنامے نہیں بلکہ اصلاحِ امت کا ایک منہاج ہیں۔ ان کتابوں نے دین کی معرفت، سیرتِ مصطفیﷺ کی تعلیم اور قرآن کے فہم کو ایک نئے روحانی و فکری زاویے سے اجاگر کیا ہے۔
1: الروض الباسم من خلق النبی الخاتمﷺ۔ اخلاقِ نبویﷺ پر مبنی چار جلدوں کا یہ شاہکار اس عہد کے بگڑے ہوئے اخلاقی رویوں کے لیے ایک آئینہ ہے۔ شیخ الاسلام نے اس کتاب میں حضورﷺ کی سیرتِ طیبہ کے ان تمام پہلووں کو نمایاں کیا جو انسان کو حسنِ کردار، صبر، عفو اور تحمل سکھاتے ہیں۔ یہ کتاب گویا امر بالمعروف کا پہلا درجہ ہے نیکی کو کردار کے ذریعے فروغ دینا۔
2: الانوار من سیر سید الابرارﷺ۔ سات سو صفحات پر مشتمل یہ ایمان افروز تصنیف امت کو حضورﷺ کی زندگی کے اسلوبِ عمل سے روشناس کراتی ہے۔ یہ کتاب محض تاریخی بیان نہیں بلکہ ایک روحانی تربیت نامہ ہے جو عشقِ مصطفیﷺ کو دلوں میں راسخ کرتی ہے۔ شیخ الاسلام نے اس میں بتایا کہ نیکی کا حکم دینا صرف زبان سے نہیں بلکہ سیرتِ رسولﷺ کے عملی پیغام کو اپنانے سے ممکن ہے۔
3: الفتح الکبیر فی علوم التفسیر۔ علومِ قرآن پر دو جلدوں پر مشتمل یہ علمی تصنیف قرآن فہمی کے میدان میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ شیخ الاسلام نے امت کو یہ سبق دیا کہ اصلاحِ امت کی بنیاد علمِ قرآن پر ہے، نہ کہ اختلاف یا شدت پسندی پر۔ یہ کتاب دراصل نہی عن المنکر کے اس فکری پہلو کی نمائندہ ہے جو جہالت کے اندھیروں کو علم کے نور سے بدلنے کی دعوت دیتی ہے۔
4: تفسیر سورۃ الفاتحہ۔ سات سو صفحات کی یہ عربی تصنیف شیخ الاسلام کی قرآنی بصیرت کا مظہر ہے۔ اس کتاب میں شیخ الاسلام نے بتایا کہ اصلاحِ امت تب ہی ممکن ہے جب بندگی کا شعور قلوب میں اترے، اور یہی اس تفسیر کا بنیادی پیغام ہے۔
5: القول المبین فی تفسیر (ایاک نعبد و ایاک نستعین)۔ صرف ایک آیت پر 450 صفحات کی یہ تصنیف توسل، استعانت اور عبادت کے اسرار کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کرتی ہے۔ شیخ الاسلام نے اس کتاب میں بتایا کہ اولیائ، انبیاء اور صالحین کے وسیلے سے دعا کرنا ایمان کا حسن ہے، شرک نہیں۔ یہ علمی وضاحت اس فکری انحراف کا ازالہ ہے جس نے امت میں تفرقہ پیدا کیا۔
ان پانچوں کتب نے منہاج القرآن کے اس فکری و اصلاحی کردار کو مزید مستحکم کیا ہے جو اس کے قیام کے دن سے واضح ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ان تصانیف کے ذریعے امت کو بتایا کہ علم ہی اصلاحِ معاشرہ کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ اخلاق، محبت اور علم یہی وہ تین ستون ہیں جن پر منہاج القرآن کا پورا نظام کھڑا ہے۔ آج دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں منہاج القرآن کے مراکز قائم ہیں جہاں تعلیم، تحقیق، فلاح اور تربیت کے ذریعے نیکی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن غریبوں، یتیموں اور مستحقین کی مدد کر رہی ہے۔ منہاج یونیورسٹی پاکستان میں تحقیق، مکالمے اور جدید اسلامی سکالرشپ کو فروغ دے رہی ہے۔ منہاج یوتھ لیگ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے نکال کر علم اور خدمت کے راستے پر لا رہی ہے۔ شیخ الاسلام نے اپنی تحریک کے کارکنان کو بارہا یہ نصیحت کی کہ ’’ہماری اصل دعوت کسی شخص، گروہ یا جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ انسانیت کی اصلاح کے لیے ہے۔‘‘ یہی فکر منہاج القرآن کو ہر دوسری تحریک سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ تحریک امت کو قرآن کے اس پیغام سے جوڑ رہی ہے جو انسان کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے۔ تحریکِ منہاج القرآن کا یہ پہلو کہ وہ عملی سطح پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قرآنی فریضے کو نبھا رہی ہے، دنیا بھر کے اہلِ علم کے لیے قابلِ تقلید مثال بن چکا ہے۔ اس کے تربیتی اجتماعات، میلاد النبیﷺ کانفرنسز، درسِ قرآن پروگرام اور علمی سیمینارز نے معاشرے میں فکری بیداری پیدا کی ہے۔
آج ہم دیکھیں تو امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا بحران فکری زوال ہے۔ شیخ الاسلام نے اس زوال کا علاج علم سے کیا، نفرت کا جواب محبت سے دیا اور فرقہ واریت کا توڑ وحدتِ امت کے پیغام سے کیا۔ ان کی تصانیف، تقاریر اور خطابات امت کے دلوں میں ایک نئی روح پھونک رہے ہیں۔ یہی منہاج القرآن کا سب سے بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے امت کو فکر، فہم اور ایمان کی روشنی عطا کی۔ یومِ تاسیس کے موقع پر جب کارکنانِ تحریک ان 45 برس کو یاد کرتے ہیں تو یہ صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی سمت کا تعین بھی ہے۔ یہ تحریک آج بھی اسی جذبے سے رواں دواں ہے جس جذبے سے وہ 1980 میں شروع ہوئی تھی۔ 45 ویں یوم تاسیس کے اس موقع پر ہم شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری، ان کے رفقائے کار، کارکنان اور دنیا بھر میں منہاج القرآن کے وابستگان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کے اخلاص، قربانی، علم وعمل اور خدمت دین کے جذبے نے دنیا بھر میں اسلام کے روشن چہرے کو اجاگر کیا۔ منہاج القرآن کا پیغام واضح ہے کہ علم، امن، محبت اور خدمت انسانیت ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔