استنبول میں ہونے والے پاک۔افغان مذاکرات کی ناکامی نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو نئی شدت دے دی ہے۔ یہ مذاکرات خطے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، بارڈر تنازعات اور دوطرفہ عدم اعتماد کے خاتمے کے لیے نہایت اہم سمجھے جا رہے تھے مگر کئی روز کی طویل مشاورت کے باوجود کوئی قابل ذکر پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ یوں ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات جذبات اور شکوک و شبہات کے بھاری بوجھ تلے دبی ہوئی فائلیں ہیں جنہیں کھولنا آسان بھی نہیں اور بند رکھنا بھی نقصان دہ ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ استنبول مذاکرات کے ایجنڈے میں دہشت گردی، بارڈر مینجمنٹ، خفیہ تعاون اور پناہ گزینوں کا مسئلہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر یہ مؤقف سختی سے پیش کیا کہ ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہ افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ایسے شواہد بھی پیش کیے جن کے مطابق ٹی ٹی پی کے ٹھکانے مشرقی اور جنوب مشرقی افغان صوبوں کنڑ، نورستان، ننگرہار، پکتیا، پکتیکا اور خوست میں فعال ہیں۔ تاہم افغان طالبان کا جواب وہی روایتی تھا: ’’ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن یہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے جسے پاکستان خود حل کرے۔‘‘ پاکستانی وفد کے لیے یہ جواب ناقابل قبول تھا کیونکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ یہی بنیادی تضاد مذاکرات کی ناکامی کا پیش خیمہ بنا۔
افغان طالبان کے اندرونی حالات بھی اس حوالے سے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے کئی رہنما نظریاتی، قبائلی اور تاریخی طور پر طالبان کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطلب طالبان کے اندرونی دھڑوں، خاص طور پر مشرقی کمانڈروں اور سخت گیر گروہوں کی ناراضی مول لینا ہے جس سے طالبان حکومت عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔ یہی داخلی خوف کابل کو پاکستانی مطالبات کے سامنے مضبوط دیوار بنائے رکھتا ہے۔
افغانستان کے سخت مؤقف کے پیچھے بھارتی سرپرستی موجود ہے۔ بھارت طویل عرصے سے افغانستان میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ سابقہ افغان حکومتوں کے ساتھ اس کے انٹیلی جنس تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں تھے۔ کابل میں تعمیر شدہ بھارتی انٹیلی جنس انفراسٹرکچر، سابق این ڈی
ایس (خاد) کے عناصر کے ساتھ جاری روابط، اور پاکستان سے اس کی سٹرٹیجک دشمنی اس مؤقف کو تقویت دیتی ہے کہ بھارت افغان طالبان کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر پاکستان کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کر رہا ہے۔
دہشت گرد حملوں کی پیچیدگی، سوچی سمجھی پلاننگ، اور سرحد پار پناہ گاہوں کی دستیابی اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ افغانستان کے اندر دشمن قوتیں سرگرم ہیں جنہیں افغانستان کی موجودہ کمزور گورننس بھرپور جگہ مہیا کرتی ہے۔ زیادہ تر حالیہ دہشت گرد حملے سوات، خیبر، باجوڑ، وزیرستان، کوئٹہ اور ژوب کے علاقوں میں افغان سرزمین سے چلائی جانے والی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ حملہ آور پاک۔افغان سرحد کی دشوار گزار پہاڑی پٹی کو استعمال کر کے پاکستان میں داخل ہوتے اور کارروائی کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ اس پورے عمل میں افغان طالبان چشم پوشی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
پاکستان میں ریاستی رٹ کو کمزور کرنا , سی پیک، گوادر اور توانائی منصوبوں کو نشانہ بنانا , علاقائی رابطوں، خصوصاً تاپی (TAPI) اور وسطی ایشیائی راہداریوں کو غیر موثر کرنا , پاکستان پر سیاسی و سفارتی دباؤ بڑھانا , عدم استحکام کے ماحول میں عالمی قوتوں کی دلچسپیوں کو متاثر کرنا جیسے مقاصد کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ یہ مقاصد پاکستان کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور ایک ایسے وقت پر سامنے آ رہے ہیں جب ملک سیاسی اور معاشی دباؤ کا شکار بھی ہے۔ اندرونی طور پر پی ٹی آئی لیڈر عمران خان سیاسی انتشار پھیلانے کی پالیسی پر گامزن ہو کر دہشت گرد گروہوں کو مضبوط کر رہا ہے۔
افغان طالبان ان دہشت گرد گروہوں کو پاکستان پر حملے کرنے سے کیوں نہیں روکتے ؟ اس حوالے سے افغان طالبان کی ہچکچاہٹ کی چار بنیادی وجوہات نمایاں ہیں: اول پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی ہے۔ طالبان اور ٹی ٹی پی دونوں مذہبی طور پر ایک جیسے نظریاتی تصور سے جڑے ہیں۔ دوم انہیں داخلی تقسیم کا خوف دامن گیر ہے۔ طالبان کے اندر مشرقی و جنوبی دھڑوں کے اختلافات کسی بھی سخت اقدام سے مزید بھڑک سکتے ہیں۔ سوم قبائلی و خاندانی روابط بھی ایک بڑی وجہ ہیں۔ سرحد کے دونوں طرف پختون قبائل کے باہمی تعلقات طالبان کے لیے رکاوٹ ہیں۔ پاکستان پر دباؤ برقرار رکھنا افغان طالبان کی مستقل پالیسی بن چکی۔ کابل کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی پر ہاتھ ڈالنے سے پاکستان ان پر مزید دباؤ بڑھائے گا جس سے طاقت کا توازن اس کے خلاف جا سکتا ہے۔
پاکستان میں پالیسی سطح پر یہ سوال اب تسلیم شدہ حقیقت بن چکا ہے کہ اگر طالبان پاکستان کی سکیورٹی تشویش حل نہیں کرتے تو پھر پاکستان کو متبادل آپشنز پر غور کرنا ہوگا۔ اس میں احمد مسعود کے قومی مزاحمتی محاذ سے محدود رابطے , عبدالرشید دوستم کے ازبک دھڑے سے تعلقات ,حکمت یار اور دیگر سابق جہادی رہنماؤں سے سیاسی سطح کی مشاورت , طالبان کے اندر حقانی نیٹ ورک اور دیگر پریشر گروپوں سے رابطے شامل ہیں۔ البتہ اس پالیسی کے خطرات بھی بہت زیادہ ہیں۔ افغانستان کی کسی اندرونی کشمکش میں پاکستان کی شمولیت ماضی کے زخم تازہ کرنے کے مترادف ہوگی۔ اس سے طالبان پاکستان کے کھلے مخالف بن سکتے ہیں، سرحدی تحریک بڑھ سکتی ہے اور افغانستان مکمل خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔
طالبان کے اندرونی اختلافات کوئی راز نہیں رہے۔ قندھاری قیادت، حقانی نیٹ ورک، شمالی کمانڈرز، نظریاتی سخت گیر گروہ اور نسبتاً معتدل طبقہ … سب کے درمیان واضح کشمکش موجود ہے۔ اقتصادی بحران، عالمی تنہائی، خواتین کی تعلیم و کام پر پابندی، بدتر گورننس اور سرحدی تنازعات اس تقسیم کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ حالات ایسے ہی رہے تو طالبان کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ ایک ممکنہ حقیقت بن سکتی ہے۔
مزاحمتی گروہوں کی دوبارہ منظم سرگرمیاں , نسلی بنیادوں پر بڑھتی ہوئی بے چینی ,طالبان حکومت کی کمزور کارکردگی , داخلی اختلافات کا بڑھنا , اقتصادی دیوالیہ پن ,علاقائی قوتوں کی نئی صف بندیاں افغان طالبان کی گرفت کمزور کر رہی ہیں۔ اگر افغانستان دوبارہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں آیا تو سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہو گا… سرحدی بدامنی، پناہ گزینوں کا دباؤ، دہشت گردی میں اضافہ اور علاقائی منصوبوں کی تباہی جیسے خدشات ناگزیر ہوتے جائیں گے۔
استنبول مذاکرات کی ناکامی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے لیے اب روایتی طریقوں سے نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔ اگر اعتماد سازی کے لیے جرأت مندانہ اقدامات نہ کیے گئے تو خطہ ایک طویل اور خطرناک دور میں داخل ہو سکتا ہے جس کے اثرات آنے والے کئی سال تک محسوس کیے جائیں گے۔