Wed, September 16, 2026

پاک افغان جنگ بندی معاہدے کا مستقبل

پاک افغان جنگ بندی معاہدے کا مستقبل

خواجہ آصف ہمارے دفاع کے وزیر ہیں، دبنگ سیاستدان ہیں، اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی سیاست کا بھی خیال رکھتے ہیں اس لئے بزرگی میں بھی جوان رہتے ہیں۔ سیاست میں بزرگی کا فائدہ بھی اٹھاتے ہیں، کھل ڈھل کر بات کرتے ہیں، سیاست پر ان کے تبصرے معلوماتی اور فکرانگیز ہوتے ہیں، بلاجھجک جو چاہتے ہیں سوچتے ہیں کہہ گزرتے ہیں۔ پاک افغان تنازع کے دوران انہوں نے پاکستان کے وزیر دفاع کے طور پر پاک فوج کی کامیابیوں اور کامرانیوں کو بھرپور انداز میں دفاع ہی نہیں کیا بلکہ اجاگر کیا۔ پھر امن مذاکرات میں انہوں نے افغان وزیر دفاع کے ساتھ جو طرز عمل اختیار کیا اس کی گونج سوشل میڈیا پر بھی سنی گئی ہے۔ افغانستان کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا ہے پاکستان تو جنگ بندی کے لئے اس معاہدے سے پہلے بھی تیار تھا ہم بارہا طالبان سے کہتے رہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکیں۔ امریکی 2021 میں یہاں سے نکل گئے تھے لیکن انہوں نے اپنے دشمنوں کا پیچھا کرنا ترک نہیں کیا۔ انہوں نے طالبان کے افغانستان میں ڈرون حملہ کر کے ایمن الظواہری کو ہلاک کیا تھا۔ پاکستان بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہو چکا ہے کہ اپنے دشمنوں پر حملہ کرو، پیچھا کرو اور انہیں ان کی کمین گاہوں میں گھس کر ہلاک کرو چاہے وہ افغانستان میں ہی کیوں نہ ہوں۔ یاد رہے جس طرح بھارت، پاکستان کے ساتھ امن و جنگ بندی کے لئے بھاگا بھاگا امریکی صدر کے پاس گیا تھا ہم نے جب بھارت کاناطقہ بند کیا اور رافیل گرائے، ڈرون گرائے، بجلی کا نظام جام کردیا اور دس مزید ٹارگٹ لاک کر لئے گئے تو بھارت کی سٹی بند ہو گئی تو اس نے ٹرمپ کے ترلے ڈالے کہ ہمیں پاکستان سے بچائو بالکل اسی طرح افغانستان نے کیا۔ پاکستان نے جب افغانستان میں گھس کر حملے کئے تو کابل میں حکمران طالبان کے ہوش ٹھکانے آ گئے اور وہ امن معاہدے کا راگ الاپنے لگے۔ ہم نے جنگ بندی کی ہے اور جو معاہدہ طے پایا ہے اس میں درج شقوں کے مطابق کابل دہشت گردوں کو پاکستان پر حملہ آور ہونے سے روکے گا۔ ٹی ٹی پی ہو یا مجید بریگیڈ اور کوئی بھی اور دہشت گرد گروپ جو پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں انہیں روکنا طالبان کی ذمہ داری ہو گی۔ خواجہ آصف نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردی روکے، جنگ بندی برقرار رہے گی، پاکستان اشتعال انگیزی کا جواب دے گا۔ ویسے جنگ بندی معاہدہ زیادہ دیر تک چلتا نظر نہیں آ رہا ہے کیونکہ ابھی معاہدہ ہوا ہی تھا تو افغان وزیر دفاع نے اس میں کئی ایک تبدیلی کرنے کا کہا۔ بارڈر کی جگہ ، لائن لکھنے کا کہا یعنی وہ ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم ہی نہیں کرتے ہیں یہ قضیہ دہائیوں پرانا ہے سردار دائود کے زمانے میں جب پاکستان کے خلاف مہم چلائی گئی تھی اور پشتونستان کا مسئلہ کھڑا کیا گیا تھا اس میں بھی ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم نہیں کیا گیا تھا افغان حکمران کہتے تھے کہ افغانستان کی سرحدات اٹک کے پل تک ہیں جب پاکستان کہتا تھا کہ ڈیورنڈ لائن تو انگریزوں اور افغان بادشاہ نے مل کر کھینچی تھی اور برٹش انڈیا اور افغانستان کی سرحدات کا تعین افغان بادشاہ کی درخواست پر کیا گیا تھا اس سے پہلے افغانستان کا جغرافیہ ہی کہیں نظر نہیں آتا تھا افغان کہتے ہیں اور یہ جھوٹ ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ زبردستی کیا گیا تھا حالانکہ 1893 میں ڈیورنڈ لائن بین الاقوامی بارڈر کے طور پر تسلیم کی گئی۔ اس معاہدے پر برطانوی سفارت کار ڈیورنڈ اور افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمان خان نے دستخط کئے تھے پھر 1905، 1919 اور 1930 میں افغان حکمران اس معاہدے کی توثیق کرتے رہے۔ اب طالبان کس منہ سے کہتے ہیں کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد نہیں مانتے ہیں۔ ویسے افغانیوں کا کیا کہنا ہے وہ تو پاکستان کو ہی نہیں مانتے ہیں۔ 
پاکستان افغانیوں کے لئے دبئی یا امریکہ کی طرح ہے یہاں انہیں جو سہولیات میسر ہیں، رہنے سہنے اور کاروبار کرنے کی جو سہولیات اور امکانات یہاں میسر ہیں ان کے اپنے ملک میں نہیں ہیں۔ ان کا اپنا ملک تو مدت ہوئی کھنڈر بن چکا ہے ان کے قائدین کے احمقانہ فیصلوں کے باعث افغانستان کھنڈر بن چکا ہے۔ گزری 7، 8 دہائیوں کے دوران کچھ انہوں نے خود آپس میں لڑ جھگڑ کر اور کچھ بیرونی قوتوں نے انہیں برباد کرنے کے لئے، ان کی قوت مزاحمت ختم کرنے کے لئے، یہاں تباہی و بربادی مچائی ہے۔ اب موجودہ حکمران جو نمک حرام ثابت ہو چکے ہیں، اپنے ملک کو مزید تباہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں، ایک طرف اسے اسلامی امارات کہا جا رہا ہے تو دوسری طرف بت پرست بھارت کے ساتھ محبت کی پینگیں چڑھائی جا رہی ہیں۔ دفاعی معاہدہ کہا جا رہا ہے، سفارتخانہ کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ یاد رہے بھارت سرکار طالبان کو دہشت گرد قرار دیتی تھی امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کرطالبان کو کچلنے میں پیش پیش رہی۔ یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ ملا متقی 9 برس کی عمر میں پاکستان آیا یہاں پلا، بڑھا، تعلیم حاصل کی، نام بنایا،، کاروبار کیا، جائیداد بنائیں اب وہ بھارت میں بیٹھ کر کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیتا ہے شرم سے ڈوب مرے۔ ویسے پاکستان نے نمک حراموں کے ساتھ اسی زبان میں بات کرنا شروع کردی ہے جو وہ ٹھیک ٹھیک سمجھتے ہیں۔ انہیں دھکیل کر واپس کھنڈر ملک بھیجا جا رہا ہے ان کی املاک و کاروبار کے ساتھ بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔
ایک اہم بات: طالبان حکومت میں اختلافات کی خبریں عام ہیں، حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے ایک طرف ہیں وہ مرحوم ملا عمر کے ساتھ اپنی وابستگی کا دم تو بھرتے ہیں لیکن موجودہ رجیم کے ساتھ اختلاف بھی کرتے ہیں۔ افغانستان میں متحارب دہشت گرد گروپ موجود ہیں، اگر طالبان نے ان پر قدغنیں لگائیں تو امکان موجود ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مخالفت چھوڑ کر طالبان حکومت کے خلاف ہی اٹھ کھڑے ہوں، کیوں ان میں سے پیشتر کا اوڑھنا بچھونا ہی لڑائی مارکٹائی ہے۔ اسلام تو ایک ڈھال اور آڑ کے طور پر استعمال کرتے ہیں پھر ان گروپوں کو مختلف ممالک کی معاونت بھی حاصل ہے۔ انڈیا جن میں سرفہرست ہے۔ ان کی معاونت کرنے والوں کے اپنے ہی مفادات ہیں۔ جاری صورت حال میں لگتا ہے کہ پاک افغان جنگ بندی معاہدے کا مستقبل تابناک نہیں ہے۔ طالبان دہشت گردوں کے خلاف کچھ کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر پائیں گے۔ اس لئے پاکستان کو خود ہی اپنی سرحدات کا تحفظ کرنا ہوگا۔ دہشت گردوں کے خلاف خود ہی لڑنا ہو گا۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان ان کی منجی ایسے ہی ٹھوکتا رہے جیسے جنگ بندی معاہدے سے پہلے ٹھوک رہا تھا۔ اسی میں پاکستان کی سلامتی مضمر ہے۔

ٹیگز: