امریکہ کے سرکاری تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جو آپریشن ہارڈ بال کا اہم حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بھارتی گینگسٹرذ قتل، اور بھتے کی کارروائیوں میں ملوث ہیں جنکی سرپرستی بھارتی پولیس کر رہی ہے۔ اس جامع تحقیقاتی رپورٹ میں صرف بھارت اور امریکہ نہیں بلکہ مختلف بر اعظموں تک پھیلے ہوئے جرائم کے نیٹ ورک کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور بھارتی گینگسٹرز اور پولیس افسران کے خلاف باضابطہ کارروائی کا بھی اعلان کیا گیا ہے جسے امریکہ نے آپریشن ہارڈ بال کا نام دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق بھارتی گینگسٹر لارنس بشنوئی جو سال دو ہزار پندرہ سے بھارتی جیل میں قید ہے وہ قتل، اغوا، انسانی اسمگلنگ، اور جیل سے بڑے پیمانے پر بھتہ خوری کا غیر قانونی دھندا چلا رہا ہے۔ اسی رپورٹ میں ایک اور مفرور\روپوش گینگسٹر ستیندر جیت المشہور گولڈی برار کا بھی ذکر ہے۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے گولڈی برار نے سال 2023 میں خالصتانی سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ ننجر کے کینیڈا میں قتل کا حکم دیا تھا۔ علاوہ ازیں رپورٹ میں بھارتی ریاست پنجاب کے پولیس افسر کا بھی نام شامل ہے جو لارنس بشنوئی کے لئے بیرون ملک مقیم بھارتیوں سے بھتہ وصولتا تھا۔ اس رپورٹ نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ آج بھارت دنیا کے امن کا دشمن بن چکا ہے۔ پنجاب پولیس کھلم کھلا امریکہ ، کینیڈا فون گھما کر پیسے وصولنے کا کام کر رہی ہے۔ یہ سب بدمعاش غنڈوں کے احکامات کی تکمیل میں کیا جا رہا ہے۔ بھارت کو عالمی دنیا میں اپنا مقام بہتر کرنے کے ساتھ کڑے احتساب کا بھی سامنا یے۔ آپریشن ہارڈ بال رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ لارنس بشنوئی نے سیاسی مقاصد کے لئے قتل کروائے ہیں۔
بھارتی ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والے گینگسٹر لارنس بشنوئی اور گولڈی برار کو دراصل اپنے ہی سکھوں کے خلاف تیار کیا گیا ہے۔ دنیا کے مختلف کونوں میں بسنے والے خالصتان کے سپورٹر سکھوں کو مارنے ، ڈرانے ڈھمکانے اور بھتہ لینے کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے فرنٹ مین یہ غنڈے باقاعدہ طور پر خاص مقاصد کے حصول کے لئے لانچ کئے گئے ہیں۔ وگرنہ ان کے خلاف کارروائی کرنا اور کریک ڈاون کرنا پولیس اور اداروں کے لئے کوئی انہونی کام نہیں ہے۔
امریکہ کینیڈا اور یورپ میں بسنے والے لاکھوں سکھ خالصتان کے حامی ہیں اور وہ بھارت سے اپنی آزادی مانگ رہے ہیں۔ خالصتان تحریک دراصل صرف ایک علیحدگی کی تحریک نہیں ہے۔ یہ سکھوں کی مذہبی اور سماجی شناخت کی ظامن ہے۔
بھارت سکھوں کے درمیان تقسیم پیدا کر کے بھی انکی آواز دبانے سے قاصر ہے۔ بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے خالصتان کی تحریک کو دبانے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ مگر یہ تحریک وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی آئی ہے۔اور اب کئی ممالک کی پارلیمان میں بھی خالصتان کی آواز گونج رہی ہے۔ جسے بھارت گینگ وارز کے ذریعے ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسی نیٹورک کے اہم نام لارنس بشنوئی اور گولڈی برار ہیں جنہوں نے خالصتانی سکھوں کو ٹارگٹ کیا ہے۔
امریکہ نے بھارتی گینگسٹر لارنس بشنوئی اور 36 دیگر افراد پر فرد جرم عائد کر دی ہے اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ آپریشن ہارڈ بال کا اہم مشن بھارتی جیل میں قید لارنس بشنوئی اور مفرور گولڈی برار کو امریکہ لا کر انکے خلاف قانونی کاروائی امریکہ میں کرنے کا اعلان ہے۔ ایسا کرنے سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی مجرمانہ کاروائیوں کا پردہ چاک کیا جا سکے گا جو کافی حد تک ہو چکا ہے۔ کینیڈا میں بھارتی گینگسٹر گولڈی برار پر بھاری بھرکم رقم بھی رکھی گئی ہے۔ بھارتی پولیس افسران نے بدنام زمانہ غنڈوں اور کرمنلز کے لئے کام کر کے اپنے ادارے کی خوب بدنامی کرائی ہے۔
بھارتی ریاست پنجاب کے سکھوں کے مطالبات اور احتجاج بھارت میں کسی دور میں بھی بند نہیں ہو سکے ہیں۔ خالصتان کے خلاف بھارتی سرکار کا ہر حربہ ناکام رہا ہے۔ کرمنلز کا بھی سہارا لے کر دیکھ لیا ہے مگر اب امریکا کے آپریشن ہارڈ بال کا اثر ضرور نظر آئے گا۔