Wed, September 16, 2026

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، آپریشن البدر، ہارڈ سٹیٹ

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، آپریشن البدر، ہارڈ سٹیٹ

قومی سلامتی کمیٹی کا ایجنڈا صرف ڈنڈا، 20 نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد شروع، پاکستان کو سافٹ کی بجائے ہارڈ سٹیٹ بنانے کی ضرورت کا احساس، جے یو آئی سمیت 17 سیاسی جماعتوں کا ایک نکتہ پر اتفاق رائے، دہشتگردی کا خاتمہ۔ خاتمہ کیسے ہو گا؟ سیاستدان و اعلیٰ عسکری قیادت 5 گھنٹے سر جوڑ کر بیٹھی رہی اور حل تلاش کر کے ہی دم لیا۔ جنہوں نے صرف ٹکریں مارنا تھیں انہوں نے بائیکاٹ کر دیا، پہلے ان کیمرا اجلاس میں شرکت کے لیے 14 نام دئیے۔ رات گئے سیاسی کمیٹی کے دو ارکان محمود خان اچکزئی کی مخالفت پر خان کی پیرول پر رہائی کی شرط عائد کر کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ شنید ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ سلامتی کمیٹی اجلاس میں طے پایا کہ حکومت دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے والوں کو مکمل وسائل فراہم کرے گی۔ نیکٹا کو متحرک کیا جائے گا، فوجی عدالتیں بنیں گی، سیاسی جماعتوں میں موجود عسکری ونگ ختم کیے جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈہ کرنے والوں کی گردن ناپی جائے گی۔ دہشت گردوں کو ان کے گھروں، ٹھکانوں، میں گھس کر مارا جائے گا۔ آرمی چیف جنرل حافظ عاصم منیر نے اپنے 50 منٹ کے خطاب میں واضح کر دیا کہ ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا نہیں کوئی تحریک کوئی شخصیت نہیں۔ پائیدار امن کے لیے تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہو گا، ہم کب تک سافٹ سٹیٹ کی طرز پر جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے۔ ہارڈ سٹیٹ بنا کر گورننس کا گیپ پُر کرنا ہو گا، ملک ہے تو ہم ہیں، ہمیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے حالات جو بھی ہوں ہم کامیاب ہوں گے، ان شاء اللہ۔ وزیر اعظم شہباز شریف، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان نے بھی دہشت گردی کے خاتمہ پر اتفاق کیا۔ اتنے سیانوں کے اتفاق کے بعد ایجنڈے پر عملدرآمد شروع ہو گیا جو جانوں کے لیے خطرہ بنے ان کی جان جائے گی۔ جنہیں گرفتاریوں کا خوف ہے سب پکڑے جائیںگے۔ ان کیمرا اجلاس کا دو فقروں میں خلاصہ پارلیمنٹ نے فوج کو این او سی دے دیا کہ ملک دشمنوں کا خاتمہ کریں پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ کریک ڈائون شروع ہو گیا، یاروں کو یقین نہیں آ رہا، پاک فوج نے آپریشن البدر کے تحت افغانستان کے شہروں خوست اور پکیتا پر فضائی حملہ میں دہشتگردوں کی 36 چوکیاں اور خفیہ ٹھکانے تباہ کر دئیے 23 دہشتگرد ہلاک لاشیں بے گور و کفن ہسپتال میں پڑی ہیں۔ ’’نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا‘‘ طور خم سرحد 21 فروری سے بند ہے جس کی وجہ سے افغانستان میں کھلبلی مچی ہے۔ زندگی مشکل ہو گئی۔ ننگر پار سے پاک افغان سرحد کی طرف آنے والے 40 دہشت گردوں کو جہنم رسید کر دیا گیا۔ قرآنی حکم خالدین فیھا (ہمیشہ جہنم کا ایندھن بنتے رہیں گے) 31 مارچ تک افغانوں کو نکل جانے کا حکم، یکم اپریل سے گرفتار کر کے سرحد پار پہنچایا جائے گا۔ سہولت کاروں، اسلحہ اور فنڈز فراہم کرنے والوں کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔ با خبر ذرائع کے مطابق افغان حکومت نے سرنڈر کر کے امریکی ٹیم کو ان کا اسلحہ واپس کرنے پر آمادگی اور 40 ارب ڈالر کی امداد بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔ بھیک مانگنے کی نوبت آ گئی۔ پی ٹی آئی نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر کے گویا پھر ٹرین مس کر دی، اجلاس کے فیصلوں اور اعلامیہ پر اعتراضات، ٹوئٹس، ملک دشمنوں کی کھلے بندوں حمایت، خان نے کہا افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہم کسی آپریشن میں فریق نہیں بنیں گے، تاریک رستوں میں بھٹک گئے ہیں بھٹک رہے ہیں، دشمنی اور کیا ہوتی ہے، خوارج دن کے اجالے اور رات کے اندھیرے میں ملک پر حملہ آور ہیں، بی ایل اے کے ہر بیار مری گروپ، ڈاکٹر اللہ نذر گروپ اور دیگر درجن بھر گروپوں کے سارے کمانڈر افغانستان میں خوارج کی چھتر چھائوں میں بیٹھے ہیں۔ ماہرنگ بلوچ مسنگ پرسنز کا علم بلند کر کے خواہ مخواہ لیڈر بن بیٹھی حالانکہ اس کے والد غفار لانگو باہمی لڑائی میں مارا گیا تھا۔ ماہرنگ بلوچ کو بھارت کی جانب سے سالانہ ایک ارب ڈالر (280 ارب روپے) امداد دی جا رہی ہے۔ خاتون عالمی سازش کا اہم کردار مسنگ پرسنز بہانہ بلوچستان نشانہ، خبروں کے مطابق حالیہ واردات میں اس کے حکم پر کارندوں نے ڈسٹرکٹ ہسپتال کوئٹہ سے جعفر ایکسپریس واقعہ میں ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی پانچ لاشیں چرائیں، حکام نے دو برآمد کر لیں، ماہرنگ بلوچ 3 لاشوں کو لے کر سریاب روڈ پر دھرنا دے کر بیٹھ 
گئی، ٹریفک بحال کرنے کیلئے کارروائی کی گئی اور ماہرنگ بلوچ سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ کسی سے کوئی رعایت نہیں، سوشل میڈیا پر ملک دشمن ٹوئٹس کرنے والوں کی بھی شامت آ گئی۔ آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں بننے والی جے آئی ٹی نے علیمہ باجی سمیت پی ٹی آئی کی پوری قیادت کو طلب کر کے تفتیش کی، علیمہ باجی نے باہر بیٹھے جبران الیاس سے رابطوں کا اعتراف کر لیا۔ گزشتہ دنوں بنی گالہ سے حیدر سعید اور جنوبی پنجاب سے انس نواز نامی یو ٹیومرز کو گرفتار کیا گیا جو جعلی خبروں اور فیک تصویروں سے عوام کو کسی نام نہاد انقلاب پر اکسا رہے تھے۔ جعفر ایکسپریس کے اغوا پر یو ٹیومرز کے جشن نے حکومت کے بیانئے کو تقویت بخشی کہ پی ٹی آئی ملک دشمن یا ملک دشمنوں کی آلۂ کار ہے۔ عوام میں حکومت بیانئے کو قبولیت ملی ہے۔ خان کی مقبولیت 30 فیصد رہ گئی۔ اس کمی میں گنڈا پور کا بڑا ہاتھ ہے۔ اجلاس میں شرکت کے بعد مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے کہا کہ افغانوں کو نہ نکالا جائے بلکہ انہیں پاکستانی شہریت دے دی جائے۔ ’’واہ‘‘ بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو۔ گویا یہ ملک کسی کے باپ یا ماموں کا ہے کہ جس کا جی چاہے لائن میں لگ کر طور خم سرحد پار کرے اور پشاور اسلام آباد لاہور اور کراچی میں منشیات اور اسلحہ فروخت کر کے پوش علاقوں میں رہائش اختیار کر لے۔ گنڈا پور اور ان کے سپریم لیڈر ٹی ٹی پی اور پاکستان میں موجود لاکھوں افغانوں مخبروں اور سہولت کاروں سے محبت ہے انہوں نے پولیس کو حکم دے دیا کہ ٹی ٹی پی حملہ کرے تو پیچھے ہٹ جائیں۔ 11 ہزار دہشتگردوں کے خیبر پختونخوا میں داخلے کی خوشخبری بھی سنائی۔ عمر ایوب نے کہا کہ کے پی حکومت نے خوارج کے خلاف آپریشن کی اجازت نہیں دی۔ مضحکہ خیز بیان اجازت مانگ کون رہا ہے۔ آپریشن ہو رہا ہے عوام فوج کا ساتھ دے رہے ہیں ان کا قومی جذبہ بیدار ہو گیا ہے پشاور کے سینئر صحافی ساجد خان کے بقول پی ٹی آئی نے طالبان کے ساتھ مل کر پورے صوبہ میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کی اور ووٹ لیے لیکن اب عوام نے خوف کے بت توڑ دئیے ہیں وادی تیراہ میں طالبان نے ایک سپاہی کو اغوا کرنے کی کوشش کی تو پورا شہر ہتھیاروں سے لیس ہو کر سپاہی کی حفاظت کے لیے امڈ آیا خوارج بھاگ گئے، کرک، بنوں اور لکی مروت میں بھی عوام نے فوج کا ساتھ دیا۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بائیکاٹ سے پی ٹی آئی قومی دھارے سے باہر ہو گئی دوبارہ آنے کے لیے طویل سفر طے کرنا ہو گا، امریکا نے ٹکا سا جواب دے دیا اسرائیل بھارت اور خوارج کے سوا کوئی حامی و ناصر نہیں طاقتوروں کا کہنا ہے کہ کائونٹ ڈائون ختم، خان پاکستانی سیاست میں تھے اب نہیں ہیں آئندہ بھی نہیں ہوں گے۔

ٹیگز: