Wed, September 16, 2026

صرف بالغوں کے لئے

صرف بالغوں کے لئے

ہر زمانہ ہر کا روبار کا نہیں ہوتا ہر زمانے میں دو ایک کاروبار کامیابی سے چلتے نظر آتے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں ’’ہنی ٹریپ‘‘ بزنس نے خوب ترقی کی ہے، پورا نظام دہشت گردوں اور فتنہ الخوارج کی سرکوبی میں مصروف تھا لہٰذا اس کاروبار نے خوب پاؤں پھیلائے، شریف آدمی جال میں اس لیے پھنستے رہے کہ وہ تنہا تھے جبکہ انہیں پھنسانے والے گروہ در گروہ تھے حیرت کی بات ہے جسے صنف نازک سمجھتے رہے وہ صنف آہن بن کر مرد آہن کو اپنے اپنے جال میں جکڑنے کے فن میں یکتا نکلی، صنف آہن کے گروہ میں کچھ مرد آہن بھی شامل تھے یوں دونوں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلتے رہے اور ترقی کی منازل طے کرتے رہے۔
گزشتہ دور حکومت میں ڈانس اور پارٹی بزنس کو فروغ حاصل ہوا۔ مرد و زن اس گاڑی کے دو پہیے تھے، دونوں کا کردار ایک جتنا اہم تھا کوئی پہیہ کسی سے چھوٹا نہ تھا کوئی کسی سے بڑا نہ تھا، اس سے پہلے دور حکومت میں گرین چینل بزنس نے ہزاروں خاندانوں کے دلدّر دھو دیئے، پھیرے بازوں نے خوب نام اور مال کمایا، جنرل پرویز مشرف دور میں رئیل سٹیٹ بزنس کا عروج شروع ہوا اور طویل عرصہ تک وکٹری سٹینڈ پر نظر آیا اس کے دائیں ہاتھ پر ٹیلی کمیونیکیشن بزنس اور بائیں ہاتھ پر پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ روف ٹاپ پارٹی بزنس یوں پھیلا نظر آیا جیسے آکٹوپس کسی کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، پیپلز پارٹی کے بے نظیر ادوار میں نو نقد پر کام ہوتا تھا تیرہ ادھار کسی کو پسند نہ تھا، جنرل ضیاء الحق کے زمانہ حکومت میں پیری مریدی اور روحانی رنگ نمایاں رہا گھیردار شلواروں شیروانیوں اور واسکٹوں نے پردے ڈالے رکھے یہ منشیات کی ایکسپورٹ اور کلاشنکوف کی امپورٹ کا زمانہ بھی سمجھا جاتا ہے، اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کا دور حکومت تھا، پاکستان دولخت ہونے کے بعد سنبھلنے کی کوششیں، صنعتیں قومیائی جا چکی تھیں سرمایہ دار ناامید ہو کر ملک چھوڑ گئے، 1974ء میں اسلامی سربراہی کانفرنس پاکستان میں ہوئی جس کے بعد دنیا پاکستان کی طرف متوجہ 
ہوئی حجاز اور خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ کچھ اور اسلامی ملکوں نے پاکستانی ہنرمندوں کے لئے اپنے دروازے کھولے تو زرمبادلہ کی جھلک نظر آئی، حسنِ اتفاق اس دور میں ہماری فلمی صنعت نے خوب ترقی کی اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ ملک میں تفریح کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے، پی ٹی وی آگے بڑھ رہا تھا لیکن بڑی تفریح جس تک ہر خاص و عام کو رسائی تھی وہ فلم ہی تھی، اردو پنجابی میں اچھی فلمیں بننے لگیں اس کے ساتھ ساتھ اچھی انگریزی فلمیں بھی دیکھنے کو ملتی تھیں۔ جیمز بانڈ اور جنگ عظیم کے موضوع پر بننے والی فلموں نے خوب بزنس کیا۔ کبھی کبھار کوئی اچھی لو سٹوری پر بنی فلم بھی لگتی لیکن انگریزی فلم دیکھنے اور سمجھنے والے کم تھے، جبکہ سنیما کا لوئر ہال ان جاہلوں سے بھرا ہوتا تھا جو پوری فلم میں دو چمیاں اور چار جپھیاں دیکھنے آتا تھا، جس فلم کے اشتہار پر لکھا ہوتا تھا کہ یہ صرف بالغوں کے لئے ہے،اس فلم کو دیکھنے کے لئے نابالغ لڑکے اور لڑکیاں جوق در جوق آتے، بلیک میں باکس کی ٹکٹ خریدتے اور ایک ٹکٹ میں دو مزے لیتے نظر آتے، دو گھنٹے کی اس قسم کی فلم میں اصل فلم پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹے کی ہوتی تھی جسے دیکھنے کے لئے فلم بین دور دراز سے آتے تھے، ہفتے میں ایک روز صبح گیارہ بجے کا خصوصی شو ہوتا تھا اس روز کالجوں اور یونیورسٹی میں حاضری کم رہتی تھی، شکایات حد سے بڑھیں تو حکومت نے اس شو پر پابندی لگا دی، ٹوٹا فلم، فلم انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی۔ وی سی آر نے اس پر کاری ضرب لگائی پھر اس پر ضرب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے لگائی۔ حکومت پاکستان نے ستائیس یوٹیوبرز کے چینلز پر پابندی لگا دی ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان چینلز پر ناپسندیدہ کونٹینٹ ناقابل برداشت ہو چکا تھا مارکیٹ میں درجنوں وی پی این دستیاب ہیں ان کی مدد حاصل کر کے ان چینلز تک رسائی حاصل کی جائے گی جس طرح بالغوں کے لئے مخصوص فلموں کو دیکھنے کے لئے بڑی تعداد میں نابالغ حضرات پہنچ جاتے تھے اسی طرح کا معاملہ یہاں ہوتا نظر آتا ہے، ماہرین سرجری کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کا بہتر علاج ہومیوپیتھی ذریعہ علاج نہیں ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے پلیٹ فارم سے گروک نامی میزائل نے ملک بھر کو ہلا کے رکھ دیا ہے، لاکھوں افراد نے ہزاروں سوال پوچھے جن کے جواب ڈیٹا بیس میں موجود تفصیلات کے حوالے سے دیئے گئے، ماہرین سر جوڑے بیٹھے ہیں اس کا کیا علاج کیا جائے پاکستان میں ٹویٹر طویل عرصہ بند رہا ٹرمپ اقتدار میں آیا تو اس کے جان جگر ایلون مسک کی ناراضی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا جس نے وہی کچھ کر دیا جس کی وجہ سے اسے بند کیا گیا تھا اب ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک میں لڑائی ہو چکی ہے دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن چکے ہیں ایلون مسک نے سیاسی میدان میں ٹرمپ کو پچھاڑنے کے لئے نئی سیاسی جماعت بنا لی ہے کچھ عجب نہیں آئندہ مڈٹرم الیکشن یا جنرل الیکشن میں ایلون مسک اپنا امیدوار میدان میں اتار دے اگر ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن خرید سکتا ہے تو یہ کام ایلون مسک اور اس کے دوستوں کے لئے بھی زیادہ مشکل نہیں، اس وقت ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے ایلون مسک کو ناراض کیا جا سکتا ہے، ٹویٹر کو بند کر کے ایک تیر سے دو شکار کئے جا سکتے ہیں گروک کی نسبت ایک نیا عذاب دریافت ہو چکا ہے جس کا فی الحال کوئی توڑ دور دور تک نظر نہیں آتا، یہ ایک ڈیوائس ہے جس کے ذریعے دیوار کے پار ہونے والا سب کچھ اپنے سیل فون کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی سکرین پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھنے کے لئے اب کسی کے بیڈروم یا باتھ روم میں کیمرے فٹ کرنے کی ضرورت بھی نہیں یہ ڈیوائس سیٹلائٹ کے ذریعے اپنا کام کرے گی اور سرکاری غیرسرکاری و نجی پول روز کھولا کرے گی، ہر معاملہ لائیو دیکھا جا سکے گا کوئی اسے روک نہ سکے گا، اب نابالغوں کو یہ کہہ کر چپ نہ کرایا جا سکے گا کہ رات کو ایک پری آتی تھی جس کے ہاتھ میں پھولوں سے بھری ایک ٹوکری تھی اس ٹوکری میں تمہارا نیا آنے والا بھائی یا بہن لیٹا ہوا تھا۔
اب تو نابالغوں کو خبر ہو گی کہ ممی اور پاپا، بادشاہ اور ملکہ، چور اور سپاہی رات بھر کیا کرتے رہے ہیں، آج کا کالم صرف بالغوں کے لئے ہے۔

ٹیگز: