اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ قدرت نے دن کو کام اور رات کو آرام کے لیے بنایا ہے۔ انسانی جسم کی ساخت، فطری تقاضے اور معاشرتی نظم و ضبط بھی اسی اصول کی تائید کرتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً یورپ اور امریکہ، آج جس نظم و ضبط، قانون پسندی اور متوازن معاشی نظام کے حامل ہیں، وہاں تک پہنچنے کے لیے انہیں صدیوں کی مسافت طے کرنا پڑی۔ ان معاشروں نے اپنی صنعتی، معاشی اور سماجی ضروریات کے مطابق قوانین وضع کیے اور پھر ان پر سختی سے عملدرآمد بھی کرایا۔ حالیہ دنوں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان میں کفایت شعاری کے نام پر کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ابتدا میں حکم جاری ہوا کہ رات آٹھ بجے مارکیٹیں بند کر دی جائیں گی، البتہ کھانے پینے کے مراکز، فارمیسیز اور بیکریوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں تاجروں اور عوامی حلقوں کے مطالبہ کے بعد اس فیصلے میں نرمی کی گئی اور مارکیٹیں رات نو بجے تک کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔
اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ پالیسی ساز آج کے کاروباری ماحول کو پرانے پیمانوں سے ناپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی بیکری صرف بیکری ہوتی تھی جہاں کیک، بسکٹ، رسک اور دودھ دستیاب ہوتا تھا۔ آج کی بیکری ایک چھوٹا جنرل اسٹور بن چکی ہے۔ اسی طرح کریانہ اسٹورز پر صرف آٹا، چینی اور دالیں نہیں ملتیں بلکہ سٹیشنری، کھلونے، برقی سامان، گھریلو استعمال کی متعدد اشیا اور بہت کچھ دستیاب ہوتا ہے۔ میڈیکل اسٹورز بھی اب صرف ادویات تک محدود نہیں رہے جبکہ بک اینڈ سٹیشنری شاپس بھی متعدد گھریلو اشیا فروخت کر رہی ہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ صرف کاروباری وسعت نہیں بلکہ معاشی مجبوری بھی ہے۔ بڑھتے ہوئے کرائے، بجلی کے بھاری بل، ٹیکسوں کا بوجھ اور روز افزوں مہنگائی نے چھوٹے تاجر کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ایک ہی دکان میں کئی اقسام کا کاروبار کرے تاکہ اخراجات پورے ہو سکیں۔ ایسے میں اگر کوئی افسر یا مشیر پرانی درجہ بندیوں کے مطابق
کاروبار کو مختلف خانوں میں تقسیم کرکے فیصلے کرے تو یہ زمینی حقائق سے لاعلمی کے سوا کچھ نہیں۔
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی یا چھوٹے پیمانے کے کاروبار پر مشتمل ہے۔ یہاں لاکھوں خاندان دکانوں، چھوٹے کاروباروں اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تجارت سے وابستہ ہیں۔ جب کاروباری اوقات محدود کیے جاتے ہیں تو سب سے زیادہ متاثر یہی طبقہ ہوتا ہے۔ بڑے شاپنگ مالز، بڑے سرمایہ کار اور مراعات یافتہ طبقات کسی نہ کسی صورت اپنے نقصانات پورے کر لیتے ہیں لیکن چھوٹا دکاندار، ریڑھی بان اور متوسط طبقے کا کاروباری شخص براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ مزید حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ کفایت شعاری کا بوجھ ہمیشہ عوام پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے؟ اگر واقعی توانائی کی بچت اور قومی وسائل کے تحفظ کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز سرکاری اداروں اور حکومتی ایوانوں سے ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر سرکاری دفاتر مرکزی ائرکنڈیشننگ کے نظام پر چل رہے ہیں، سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر کوئی واضح قدغن نظر نہیں آتی، ایندھن کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور سرکاری سطح پر ایسی بہت سی آسائشیں موجود ہیں جن کا عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ عام شہری سے کہا جاتا ہے کہ وہ جلدی دکان بند کر دے، بجلی کم استعمال کرے اور قربانی دے، لیکن دوسری جانب حکومتی اور سرکاری اخراجات میں وہ سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی جو عوام سے توقع کی جاتی ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے حالات درحقیقت اس امر کے متقاضی ہیں کہ یہاں کاروباری، صنعتی اور تعلیمی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔ ہمارے ہاں بے روزگاری، غربت اور مہنگائی پہلے ہی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ ایسے میں معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بجائے انہیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں صنعتیں چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں، کاروبار مختلف شفٹوں میں چلتے ہیں اور معیشت کو متحرک رکھنے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بیوروکریسی زمینی حقائق کے برعکس حکومت کو ایسے مشورے دیتی ہے جو مسائل حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوامی ردعمل حکومت کے خلاف جاتا ہے، حالانکہ بعض اوقات منتخب حکومت سے زیادہ ذمہ داری ان مشیروں اور پالیسی سازوں پر عائد ہوتی ہے جو فیصلوں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ جتنے زیادہ پیچیدہ اور مبہم قوانین بنائے جاتے ہیں اتنے ہی زیادہ مواقع ان عناصر کو مل جاتے ہیں جن کے ذمہ ان قوانین پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ جب ایک دکان رات دس بجے تک کھلی رہ سکتی ہے اور دوسری نہیں، جب ایک کاروبار کو استثنیٰ حاصل ہے اور دوسرے کو نہیں، تو تنازعات اور شکایات جنم لیتی ہیں۔ اس صورتحال کا فائدہ اکثر وہ لوگ اٹھاتے ہیں جنہیں نگرانی اور چیکنگ کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ کفایت شعاری کی پالیسی بناتے وقت صرف بجلی کے چند یونٹ یا تیل کے چند لیٹر بچانے کے حساب کتاب تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے معاشی، سماجی اور نفسیاتی اثرات کا بھی جائزہ لے۔ ایک ایسا فیصلہ جو ہزاروں چھوٹے کاروباروں کی آمدنی کم کر دے، بے روزگاری میں اضافہ کر دے اور عوامی بے چینی کو بڑھا دے، اس کے فوائد اور نقصانات کا توازن بھی ضرور دیکھا جانا چاہیے۔
معیشت محض اعدادوشمار سے نہیں چلتی، بلکہ انسانوں سے چلتی ہے۔ کاروبار صرف دکانوں کے شٹر نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے لاکھوں خاندانوں کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اسی لیے کامیاب حکومتیں وہی ہوتی ہیں جو فیصلے کرتے وقت زمینی حقائق کو سامنے رکھتی ہیں، عوامی مشکلات کو سمجھتی ہیں اور ایسے قوانین بناتی ہیں جو سہولت پیدا کریں، مشکلات نہیں۔
کفایت شعاری یقینا ضروری ہے، لیکن اس کا آغاز اوپر سے ہونا چاہیے، نیچے سے نہیں۔ اگر قربانی دینی ہے تو سب سے پہلے حکمران طبقہ اور سرکاری نظام مثال قائم کرے۔ عوام تبھی اعتماد کریں گے جب انہیں محسوس ہوگا کہ بوجھ صرف انہی کے کندھوں پر نہیں ڈالا جا رہا بلکہ ریاست خود بھی اس عمل میں برابر کی شریک ہے۔ بصورت دیگر کفایت شعاری کے نام پر کیے جانے والے ایسے فیصلے عوام کی نظر میں کاروبار دشمنی اور زمینی حقائق سے لاعلمی کے مترادف ہی سمجھے جائیں گے۔