ایک وقت تھا جنگیں ہتھیاروں سے لڑی جاتی تھیں، لیکن یہ طرز لڑائی اب موبائل فون میں آ گئی ہے یعنی جدید دور کی ڈیجیٹل وار، ڈیجیٹل دور نے جہاں دنیا کو باہم جوڑ دیا ہے، وہیں اس نے نئی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دی ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ ایسے عوامل بھی جنم لے رہے ہیں جو معاشرتی استحکام، قومی سلامتی اور ریاستی نظم و نسق کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔انہی عوامل میں سے ایک بڑا مسئلہ غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کا بے قابو استعمال ہے۔ بظاہر یہ چھوٹا سا ٹول عام صارف کو محض ’’آن لائن آزادی‘‘ دیتا دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ پاکستان کے ڈیجیٹل نظام، سماجی ڈھانچے، نوجوان نسل، معیشت، آگاہی، نفسیات اور قومی سلامتی کے لیے ایک منظم اور ہمہ گیر خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ وی پی این بذاتِ خود کوئی غلط چیز نہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر، مالیاتی ادارے، تحقیقاتی تنظیمیں اور بہت سے پروفیشنل پلیٹ فارمز اسے سکیور کمیونیکیشن کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جب یہی ٹیکنالوجی بغیر اجازت، غیر قانونی طور پر، یا حساس مقاصد کے لیے استعمال کی جائے تو یہ ایک ہتھیار بن جاتی ہے ایسا ہتھیار جس سے نہ صرف معلوماتی ماحول مسخ ہوتا ہے بلکہ ملک کی سماجی و سیاسی سمت بھی متاثر ہوتی ہے۔پاکستان کی اکثریتی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے یہی طبقہ غیر قانونی وی پی اینز کے منفی اثرات کا سب سے بڑا شکار بھی ہے۔ وی پی این استعمال کر کے نوجوان ایسے مواد تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جو پاکستان کے قانونی، مذہبی اور سماجی اصولوں سے واضح طور پر متصادم ہوتا ہے۔ اس میں غیر اخلاقی مواد، جوا، تشدد پر مبنی ویڈیوز، انتہا پسندانہ بیانیے، غلط معلومات اور فیک نیوز شامل ہیں۔ ایسی معلومات ذہنی نشوونما، فیصلہ سازی اور کردار سازی کو بری طرح متاثر کرتی ہیں، جس سے معاشرتی بگاڑ اور الجھنیں جنم لیتی ہیں۔غیر قانونی وی پی اینز کا سب سے منفی پہلو یہ ہے کہ یہ صارف کو مکمل گمنامی فراہم کرتے ہیں۔ جب انسان خود کو بے نام و نشان محسوس کرے تو وہ ہراسگی، بدتمیزی، بلیک میلنگ، کردار کشی، نفرت انگیزی اور سائبر فراڈ جیسے جرائم میں ملوث ہونے سے نہیں ہچکچاتا۔ پاکستان میں آن لائن ہراسگی اور سائبر بدمعاشی کے بڑھتے کیسز اسی رجحان کا ثبوت ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے جب تک صارف کی اصل شناخت نہ جان سکیں، تب تک کسی بھی جرم کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
غیر رجسٹرڈ وی پی اینز صارفین کو تمام پابندیوں سے آزاد کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسے صارفین عالمی پروپیگنڈہ نیٹ ورکس، غیر مصدقہ ذرائع، سیاسی گمراہ کن مہمات اور فیک نیوز پلیٹ فارمز تک بارہا رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف عوامی ذہنوں کو پراگندہ کرتا ہے بلکہ ریاستی اداروں پر سے اعتماد ختم کرتا ہے، معاشرتی تقسیم پیدا کرتا ہے اور سیاسی پولرائزیشن میں اضافہ کرتا ہے۔ملک میں ڈیجیٹل لرننگ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، مگر غیر ذمہ دارانہ وی پی این استعمال تعلیمی نظام کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ طلبا ایسے غیر مصدقہ، ممنوعہ یا غیر ضروری مواد تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جس سے ان کی توجہ بٹتی ہے اور تعلیم کاک4 معیار متاثر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ریاست جن محفوظ اور مصدقہ پلیٹ فارمز کو فروغ دینا چاہتی ہے، وہ اپنی افادیت کھو بیٹھتے ہیں۔
وی پی اینز کا استعمال انتخابی ادوار، حساس سیاسی ماحول اور ریاستی بحرانوں میں خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔ گمنام اکائونٹس کی مدد سے پروپیگنڈا، جھوٹے بیانیے، سوشل میڈیا ٹرینڈز اور نفرت انگیز مہمات چلائی جاتی ہیں جو نہ صرف جمہوری عمل کو متاثر کرتی ہیں بلکہ سیاسی استحکام کو بھی چیلنج کرتی ہیں۔ ریاستی بیانیہ کمزور ہوتا ہے، عوامی اعتماد گرتا ہے اور معاشرے میں بے چینی بڑھتی ہے۔غیر قانونی وی پی اینز ملکی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ ان کے ذریعے صارفین ٹیکس چوری، پائریٹڈ سافٹ ویئر، غیر لائسنس یافتہ ای۔سروسز، اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے احکامات کو بائی پاس کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مقامی صنعت، آئی ٹی سیکٹر، ڈیجیٹل بزنسز اور کنٹینٹ کری ایٹرز مالی نقصان کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ عمل پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔
بدترین خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب غیر قانونی وی پی اینز کو دہشت گرد گروہ، بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس، اور انتہا پسند تنظیمیں استعمال کرتی ہیں۔ وہ اپنی سرگرمیوں کو چھپانے، پراپیگنڈہ پھیلانے، نئی بھرتیاں کرنے اور مالی لین دین کے لیے وی پی اینز کا سہارا لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹی ٹی پی، آئی ایس کے پی، بی ایل اے، بی ایل ایف جیسی تنظیمیں اسی تکنیک سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں اورڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ جب ریاست کا ڈیجیٹل ریڈار کسی صارف کا سراغ نہ لگا سکے تو قومی سلامتی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ ریگولیٹری ادارے، پی ٹی اے، ایف آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آن لائن نگرانی، مالیاتی ٹریکنگ اور ڈیجیٹل جرائم کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کر رہے ہیں، لیکن غیر قانونی وی پی اینز ان کی کوششوں کو غیر موثر بنا دیتے ہیں۔ جب ڈیجیٹل فٹ پرنٹ چھپ جائے تو نہ سائبر قوانین نافذ کیے جا سکتے ہیں، نہ مالی فراڈ روکا جا سکتا ہے، اور نہ ہی معلوماتی نظام پر کنٹرول برقرار رہتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف پابندیوں اور جرمانوں سے حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے تین بڑی حکمتِ عملیاں ضروری ہیں: نوجوانوں اور والدین کو وی پی این کے خطرات سے باخبر کرنا، صرف رجسٹرڈ اور مصدقہ وی پی اینز کے استعمال کی اجازت دینا، غیر قانونی وی پی این استعمال کرنے والوں اور فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا۔ غیر قانونی وی پی اینز محض ایک سافٹ ویئر نہیں بلکہ پاکستان کے سماجی تانے بانے، قومی یکجہتی، آن لائن ماحول، نوجوانوں کی تربیت، معاشی ترقی اور ریاستی سلامتی کے لیے ایک ہمہ گیر خطرہ ہیں۔ اگر ان پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں ہمارا ڈیجیٹل مستقبل بگڑ سکتا ہے۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ فرد، معاشرہ اور ریاست سب مل کر ایک محفوظ، ذمہ دار اور شفاف ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد رکھیں۔ پاکستان زندہ باد۔