Wed, September 16, 2026

پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کو غیر قانونی اسلحے کی رسائی کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا

پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کو غیر قانونی اسلحے کی رسائی کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا

نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان میں دہشت گردوں کو جدید اسلحے تک رسائی کو خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ پاکستانی مستقل مندوب، عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد افغانستان میں کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں اور ان کے پاس غیر قانونی اسلحہ و گولہ بارود کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جو پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ "پاکستان کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہ ان جدید ہتھیاروں کو پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک میں سمگل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اسلحہ انہی ذخائر سے آ رہا ہے جو غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے تھے۔"

انہوں نے کہا کہ ان ہتھیاروں کا استعمال مختلف دہشت گرد گروہ، جیسے داعش، تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ پاکستان میں عوامی مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے لیے کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں بے گناہ پاکستانی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان حکام پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنے بین الاقوامی وعدوں کو پورا کریں اور دہشت گرد گروپوں کی اسلحے تک رسائی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں میں موجود اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، اور اس مسئلے کو حل کرنا عالمی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔

ٹیگز: