گذشتہ ہفتے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد تحریک انصاف والوں کا تو ’’ تتے توے ‘‘پر بیٹھناسمجھ آتا ہے لیکن کچھاور نام نہاد اصول پرستوں کی مخالفت سمجھ نہیں آتی اس لئے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کے نوٹیفیکیشن میں چند دن کی تاخیر سے سوشل میڈیا پر جو اودھم مچایا گیا اور جس طرح طوفان بد تمیزی بپا کیا گیا تو اس کے بعد کیا فریق مخالف سے یہ توقع رکھیںگے کہ وہ آپ کو پھولوں کے ہار پہنائے ۔ ماضی میں جن شخصیات کے حوالے دیئے جا رہے ہیں کہ انھیں بھی غدار کہا گیا تو ان پر غداری کے فتوے لگنے کے بعد بھی کیا کسی ایک کی جانب سے بھی ریاست مخالف بیانیہ بنایا گیا تو جواب ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ شہید بینظیر بھٹو تک کسی نے بھی ریاست مخالف سیاست نہیں کی حتیٰ کہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی شہادت پر آصف علی زرداری نے ’’ پاکستان کھپے ‘‘ کا نعرہ لگا کر ریاست مخالف عناصر کو شٹ اپ کال دے دی لیکن اس سے قطع نظر کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کیا کہا اگر ہم اپنے طور پر تحریک انصاف اور بانی کی سیاست کا جائزہ لیں تو دیکھتے ہیں کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں ایک بات اہم ہے کہ اینٹی اسٹبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیٹ سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ جنرل ضیاء کے گیارہ سالہ دور آمریت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف ہر طرح کے فسطائی ہتھکنڈے استعمال کئے گئے لیکن انھوں نے اینٹی اسٹبلشمنٹ سیاست تو کی لیکن کبھی بھی اینٹی اسٹیٹ یعنی ریاست مخالف سیاست نہیں کی ۔ اسی طرح جنرل مشرف کے دور میں مسلم لیگ نواز زیر عتاب رہی لیکن انھوں نے بھی کبھی ریاست مخالف بیانیہ کی سیاست نہیں کی لیکن آج کے کالم میں ہم بانی تحریک انصاف کے ان اقدامات کا ذکر کریں گے کہ جن کا دور پار سے بھی اینٹی اسٹبلشمنٹ سیاست سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو آئین پاکستان کے تحت اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ حزب اختلاف میں رہتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر ڈٹ کر تنقید کرے اور وہ حکومت کو ٹف ٹائم دے لیکن جہاں سے ریاست مخالف حدود شروع ہوتی ہے اس ریڈ لائن کو کراس نہ کریں ۔
پی ڈی ایم حکومت میں پاکستان کو قرض ملنا تھا اور یہ بڑا ہی کٹھن وقت تھا اور پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے واضح امکانات تھے اور اس کا اظہار بانی پی ٹی آئی اس وقت اپنے ہر جلسے میں کرتے اور ساتھ ہی سری لنکا کی مثال دیتے ۔ حکومت کوشش کر رہی تھی کہ کسی بھی طرح ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جائے اور انھوں نے اس کی خاطر اپنی پوری سیاست کو دائو پر لگا دیا لیکن دوسری جانب تحریک انصاف حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین کی بانی کی ہدایت پر پنجاب اور خیبر پختون خوا کے وزرائے خزانہ کو کی گئی آڈیو کال لیک ہوتی ہے جس میں وہ دونوں وزرائے خزانہ کو آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کا قرض رکوانے کی ہدایت کر رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان کے قومی خزانہ میں جانا تھا یا کسی فرد کی جیب میں جانا تھا کہ اسے رکوایا جا رہا تھا تا کہ پاکستان خدا نخواستہ دیوالیہ ہو جائے ۔ اسی طرح موجودہ حکومت کے دور میں بانی کی ہدایت پز تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کوخط لکھ کر پاکستان کو قرض نہ دینے کی درخواست کی اور ملک دشمنی اس حد تک بڑھی کہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ہیڈ آفس پر مظاہرہ بھی کیا گیا ۔ اس کے علاوہ پی ڈی ایم کی حکومت میں بڑی کوشش کے بعد یورپی یونین سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا اسٹیٹس دیا گیا کہ جس سے پاکستان کے ایکسپورٹر کو رعایتی ٹیرف پر یورپین یونین کے ممالک کو اپنا مال ایکسپورٹ کرنے کی سہولت مل گئی لیکن یہاں بھی یورپین یونین کو ہزاروں ای میلز کی گئی کہ پاکستان کے GSP+ اسٹیٹس کو ختم کیا جائے ۔یورپین یونین کو اربوں ڈالر کی ایکسپورٹ ہوتی ہے جس سے پاکستان کی معیشت کو بڑا سہارا ملتا ہے اور اس سے بے روز گاری کے خاتمہ میں بھی مدد ملتی ہے تو اگر یورپین یونین کو برآمدات بند ہو جائیں تو اس سے نقصان پاکستان کی تاجر برادری اور عوام کا ہے نہ کہ نواز شریف ، زرداری یا کسی جنرل کو نقصان ہوتا ۔ دہشت گردوں کے حق میں ہمیشہ نرم رویہ رکھنا اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی مخالفت کرنا ۔اس کے علاوہ مئی 2025میں پاک بھارت جنگ کے دوران کھل کر پاکستان مخالف اور ہندوستان کی حمایت میںتحریک انصاف کی قیادت اور اس کے سوشل میڈیا کا گھنائونی کردار کسے نہیں معلوم ۔ پوری دنیا اور خود ہندوستان اپنے جنگی نقصان کا اعتراف کر رہا تھالیکن تحریک انصاف اور اس کا سوشل میڈیا پاکستان کی فتح مبین کا تمسخر اڑا کر اسے غلط ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔
اب بھی CDF کے نوٹیفیکیشن میں چند دن کی تاخیر کی وجہ سے افواج پاکستان میں جس طرح دراڑ ڈالنے کی ناکام لیکن ملک دشمن کوشش کی گئی اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ بانی کی ہدایت پر تحریک انصاف کی قیادت اور اس کے سوشل میڈیا نے جو ملک دشمن بیانیہ بنایا اس کی مختصر تفصیل بیان کی ہے ۔ اس تمام کا تعلق اگر اسٹبلشمنٹ یا کسی فرد سے ہے تو ہمیں بتا دیں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر DG ISPRٍؐ نے جو کہا اس کی مخالفت کریں گے لیکن اگر جو عرض کیا ہے اس کا تعلق صرف ریاست سے ہے تو پھر ہر محب وطن کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو کچھ کہا اس کی ٍؐ تائید کرنی پڑے گی ۔