Wed, September 16, 2026

وار آن ٹیرف

وار آن ٹیرف

دنیا بھر میں مسلمانوں پر کسی نہ کسی طرح ضرب لگانے کے منصوبے دنیا کے بیشتر ممالک میں بنتے رہتے ہیں ان میں وہ ممالک پیش پیش نظر آتے ہیں جو مسلمانوں کی طاقت سے بلاضرورت خائف رہتے ہیں حالانکہ دنیا میں کوئی ایسا مسلم ملک نہیں جو توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہو لیکن سب کم از کم دنیا سے یہ ضرور توقع رکھتے ہیں کہ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کیا جائے۔
نائن الیون کے خود ساختہ ڈرامے کے بعد ایک جواز تراشا گیا پھر ’’وار آن ٹیرر‘‘ کے بہانے وہ افغانستان پر چڑھ دوڑا، اس کے منصوبے میں پاکستان کو بھی زک پہنچانا شامل تھا لیکن اس وقت کی ملٹری لیڈرشپ نے دانشمندانہ فیصلے کئے یوں پاکستان کو نقصان تو اٹھانا پڑا لیکن پاکستان ایک بڑے نقصان سے بچ گیا جو امریکہ کے خلاف کھڑے ہونے کی صورت میں مکمل تباہی کی شکل میں سامنے آتا۔ منصوبہ یہ تھا کہ پاکستان ساتھ دینے کی حامی نہیں بھرے گا جبکہ اس کی جگہ بھارت ساتھ کھڑا تھا پھر دہشت گردی کی تمام جنگ بھارت کی زمین سے لڑی جانا تھی اور بھارت امریکہ کی خوشنودی کے ساتھ ایک تیر سے دو شکار کر کے بھارتی عوام کو یاد دلاتا کہ سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے ایک خواب کی تعبیر حاصل کر لی گئی ہے۔ اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے بعد کہا تھا کہ وہ مغربی پاکستان کے حوالے سے بھی جلد بھارتی عوام کو ایک خوش خبری سنائیں گی۔ اندرا گاندھی نے اپنے منصوبے پر عمل بھی شروع کر دیا تھا لیکن معاملے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے بروقت اس کا کانٹا نکال دیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب ایک نئی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ ’’وار آن ٹیرف‘‘ ہے۔ اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں، اس کا انجام کیا ہو گا، ٹرمپ کی حکمت عملی کیا ہے۔ اس پر نظر ڈالنے سے قبل کچھ مشہور ضرب المثل پیش ہیں۔ کہتے ہیں جب سانپ کی موت آتی ہے تو اپنے بل سے نکل کر راستے میں آبیٹھتا ہے، چیونٹی کی موت آتی ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں، ہاتھی جنگلی جانوروں میں سب سے زیادہ قوی الجثہ جانور ہے، طاقت میں بھی کوئی اس کا ثانی نہیں، ہاتھی کی عمر اسی برس کے قریب ہوتی ہے، کہتے ہیں ہاتھی کی جب موت آتی ہے تو کبھی کبھار ایک ننھی سی چیونٹی یونہی ٹہلتے ٹہلتے آتی ہے اور ہاتھی کی ناک میں گھس جاتی ہے۔ ہاتھی اسے باہر نکالنے کے لئے لاکھ جتن کرتا ہے مگر کامیاب نہیں ہوتا، چیونٹی اپنی دھن میں مگن باہر کی دنیا سے بے خبر، ہاتھی کی سونڈ میں آگے ہی آگے چلتی جاتی ہے اور ہاتھی کے دماغ تک جا پہنچتی ہے۔ ہاتھی اپنی سونڈ پٹخ پٹخ کر نڈھال ہو جاتا ہے اور موت سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ مشہور ہو جاتا ہے ہاتھی پاگل ہو گیا تھا یوں ڈاکٹروں کی بھی جان چھوٹ جاتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ناک میں بیک وقت متعدد چیونٹیاں داخل ہونے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ امریکہ میں تمام ادارے سی آئی اے، پینٹاگون، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور وائٹ ہائوس متحارب ہیں۔ امریکہ کی تاریخ میں ایسی جنگ، ایسا خلفشار اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آیا۔ ہر ایک ادارہ دوسرے کے اہم کھلاڑیوں کو ناک آئوٹ کرنا چاہتا ہے۔ ای لون مسک متعدد افراد اور اداروں کا مشترکہ حریف ہے، جو اب ٹرمپ انتظامیہ میں مہمان نظر آتا ہے، لگتا ہے اس کا سیاسی کریا کرم کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ایک نیا چلن ہے۔ امیر کبیر افراد اور ان کی دولت کو اپنی الیکشن مہم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اقتدار ملنے کی صورت انہیں نوازا جاتا ہے، کوئی اہم پوزیشن دی جاتی ہے پھر جلد ہی ان سے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ امریکی انتظامیہ میں ای لون مسک اس پالیسی کا پہلا شکار ہو گا۔ ٹرمپ نے ایک موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ ایلون مسک کی فیکٹریاں اور دیگر کاروبار ان کی عدم توجہ کے باعث خسارے میں جا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے انہیں اپنے کاروبار پر توجہ دینی چاہئے گویا ٹرمپ ایلون مسک کو ٹاٹا کر چکے ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے دنیا بھر پر ٹیرف لگانے کا مقصد امریکہ کیلئے دولت اکٹھی کرنا بتایا جاتا ہے لیکن اس پردے کے پیچھے اور بھی بہت کچھ ہے۔ اسی بہانے بعض امریکی ارب پتیوں کے کاروبار کو سہارا دینا بھی مقصد ہے، مثلاً چین پر ٹیرف لگانے سے چین کی تیس ہزار ڈالر میں تیار کردہ الیکٹرک کار امریکہ پہنچ کر ساٹھ ہزار ڈالر کی ہو جائے گی جبکہ امریکہ کے دو کاریں تیار کرنے والے ادارے اپنی الیکٹرک کار چالیس سے پچاس ہزار ڈالر میں فروخت کر رہے ہیں۔ چین پر بھاری ٹیرف نہیں لگایا جاتا تو اس کی اعلیٰ کوالٹی کی کار کم قیمت میں امریکہ میں فروخت ہو تی لیکن اب بھاری ٹیرف کے بعد ملکی کوالٹی کی امریکی کار زیادہ رقم کے عوض خریدنا امریکی عوام کی مجبوری ہو گی۔ یہی معاملہ دنیا بھر کی تیار کردہ دیگر مصنوعات کا بھی ہے۔ جرمنی، برطانیہ، فرانس اور دیگر کئی ملکوں کی متعدد تیار کردہ اشیا امریکہ کی نسبت بہتر اور سستی ہیں جنہیں امریکہ میں سیکنڈ چوائس نہیں بلکہ فرسٹ چوائس کا درجہ حاصل ہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں کئی ارب پتی حالت غشی میں ہیں۔ چند روز کے اندر اندر سٹاک مارکیٹیں کریش ہونے سے پانچ کھرب ڈالر ڈوب چکے ہیں۔ ٹرمپ نے انہیں اپنا پیسہ ٹریژری بانڈ میں لگانے کا مشورہ دیا ہے جسے دنیا میں محفوظ انویسٹمنٹ سمجھاجاتا ہے یوں ٹرمپ کی حکمت عملی کے مطابق اگر بڑی تعداد میں ٹریژری بانڈ فروخت ہوتے ہیں تو ریزرو بنک آف امریکہ شرح سود کم کرنے پر مجبور ہو جائے گاجس کا فوری اثر امریکہ کے عام شہری پر پڑے گا۔ شرح سود کم ہونے سے قسطوں پر گھر اور گاڑیوں کے ساتھ دیگر اشیائے ضرورت خریدنے والوں پر مالی بوجھ کم ہو گا، جس سے آج ٹرمپ کی تیزی سے گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا مل سکتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق اقتدار سنبھالنے سے لے کر آج فقط چند ماہ میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ردعمل میں اس کی مقبولیت میں تیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کا مطلب ہے آج امریکہ میں الیکشن ہو جائے تو ٹرمپ بری طرح شکست کھا جائے گا۔
امریکہ کی اپنی اقتصادی حالت اچھی نہیں ہے۔ بھاری ٹیرف لگا کر اسے فائدے کی جگہ نقصان ہو سکتا ہے۔ چین، برطانیہ، جرمنی، فرانس، ہالینڈ، بھارت، مڈل ایسٹ و دیگر ممالک کے پاس امریکہ سے بڑی مارکیٹ موجود ہے، وہ نقصان میں نہیں رہیں گے۔ پاکستان کے معاشی ارسطو خوشخبری سنا رہے ہیں کہ پاکستان پر بعض دیگر ممالک کی نسبت کم ٹیرف لگا ہے لہٰذایہ ملک پاکستان کی وساطت سے تجارت کر سکتے ہیں۔ یہ سب یہ بھولے ہوئے ہیں کہ اپنا مال پہلے پاکستان پہنچانے میں ان کے اخراجات کیا ہونگے پھر یہ کوئی چند پھیرے بازوں کا کام تو ہے نہیں جو خفیہ خفیہ چلتا رہے گا۔ دنیا پر نظریں رکھنے والوں کی نظر اتنی کمزور نہیں کہ سب کچھ چور دروازے سے ہو جائے۔ جو یہ راستہ اختیار کرے گا اسے مزید سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف امریکہ میں شرح سود کم ہونے سے امریکہ کو اپنے ترپن کھرب ڈالر قرض اتارنے میں آسانی ہو گی لیکن اصل کھیل اب بھی امریکہ میں غیبی ہاتھوں کے کنٹرول میں ہے۔ دیکھنا باقی ہے کوئی چیونٹی ہاتھی کی ناک میں داخل ہو کر کیا کرتی ہے۔

ٹیگز: