Wed, September 16, 2026

امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور انتظامی فیصلوں پر شدید اختلافات

امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور انتظامی فیصلوں پر شدید اختلافات

واشنگٹن : امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی صورتحال پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، امریکا نے غزہ کے لیے قائم کیے گئے سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (CMCC) میں اسرائیل کو کم اہمیت دے کر تمام بڑے فیصلے خود کرنا شروع کر دیے ہیں۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت غزہ میں اسرائیل کے اثر و رسوخ کو کم کر رہی ہے اور اب اہم فیصلے واشنگٹن کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔ یہ تبدیلی اسرائیل کے لیے ایک نیا چیلنج پیش کرتی ہے کیونکہ امریکا غزہ کے انتظام میں اپنی مداخلت بڑھاتا جا رہا ہے۔

امریکا کا یہ اقدام سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت ہو رہا ہے، جس کے مطابق غزہ میں ایک بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) تعینات کی جائے گی۔ اس فورس میں 20,000 فوجی شامل ہوں گے اور اس کا مینڈیٹ دو سالہ ہوگا، مگر امریکا خود اپنی فوجیں نہیں بھیجے گا۔ اس کے بجائے، ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور آذربائیجان جیسے ممالک سے فوجی مدد کی بات کی جا رہی ہے۔

اسرائیل نے ترکی کی افواج کی ممکنہ شمولیت پر اعتراض کیا ہے، اور عرب ممالک بھی حماس سے براہ راست تصادم کے خوف سے محتاط ہیں۔ یہ صورتحال عرب ممالک کے لیے پیچیدہ ہے کیونکہ وہ غزہ میں اسرائیل کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے امریکا کے امن منصوبے کی حمایت کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ حماس کے ساتھ ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے محتاط ہیں۔

اس منصوبے کے تحت، امریکا غزہ کا انتظام فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، بشرطیکہ فلسطینی اتھارٹی اصلاحات کے عمل کو مکمل کرے۔ اس سے فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے، لیکن یہ عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہوگا۔

ٹیگز: