Wed, September 16, 2026

غزہ جنگ بندی کے لیے حماس، اسرائیل اور امریکا کے درمیان مذاکرات، پہلا دور مکمل

غزہ جنگ بندی کے لیے حماس، اسرائیل اور امریکا کے درمیان مذاکرات، پہلا دور مکمل

شرم الشیخ: غزہ میں جاری دو سالہ جنگ ختم کرانے کے لیے حماس، اسرائیل، امریکا اور ثالث ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مصر کے شہر شرم الشیخ میں مکمل ہوگیا۔ بات چیت کا دوسرا دور آج پھر ہوگا۔

مذاکرات میں حماس کے وفد کی قیادت سینئر رہنما خلیل الحیہ نے کی، جب کہ امریکہ کی طرف سے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شریک ہوئے۔ قطر اور مصر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

ذرائع کے مطابق حماس نے واضح کیا کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل سے غزہ سے انخلا اور اس کی ٹائم لائن مانگ رہی ہے۔ حماس نے ساتھ ہی 6 اہم فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں بڑی سطح پر امداد کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ اسرائیل معاہدے پر پوری طرح عمل کرے۔

دوسری طرف، اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال صرف یرغمالیوں کی رہائی پر بات کرنے کو تیار ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج کا فوری انخلا ممکن نہیں بلکہ پہلے ایک بفر زون بنایا جائے گا، اور مزید انخلا حماس سے ہونے والے معاہدے پر منحصر ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کو جلد رہا کرایا جائے تاکہ بات چیت آگے بڑھ سکے۔ اس وقت یرغمالیوں اور سیاسی قیدیوں کی فہرستوں پر بات ہو رہی ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے مذاکرات کاروں کو جلد نتائج لانے کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کیا تو اسے "مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا"۔

ذرائع کے مطابق آج ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور میں مزید اہم معاملات زیر بحث آئیں گے، مگر فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح اختلافات موجود ہیں۔

ٹیگز: