Wed, September 16, 2026

گلگت بلتستان الیکشن اور جمہوریت

گلگت بلتستان الیکشن اور جمہوریت


گلگت بلتستان کے انتخابات ہو چکے۔ پیپلز پارٹی پہلے نمبر پر رہی۔ دس نشستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی نے پہلی پوزیشن جبکہ مسلم لیگ ن نے 6 نشستوں کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔ وحدت المسلمین نے ایک نشست حاصل کی۔ 5 نشستوں کا نتیجہ روک لیا گیا ہے ان کے کچھ پولنگ سٹیشنوں پر 15 جون کو ووٹنگ ہو گی۔ مسلم لیگ ن کے محمد شہباز شریف نے آصف علی زرداری کو مبارکباد پیش کی اور انتخابات کے عمل میں شاندار کارکردگی دکھانے پر بلاول بھٹو کی تعریف بھی کی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ ”بیٹا کس کا ہے“ اس طرح جیتنے اور ہارنے والے دونوں فریقین نے وسعت قلبی اور بردباری کا مظاہرہ کیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس بات کا امکان موجود ہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر حکومت بنائے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن، دونوں جماعتیں پرانی اور تجربہ کار ہیں۔ دونوں جماعتوں کو حکمرانی اور اپوزیشن کرنے کا وسیع تجربہ بھی ہے۔ دونوں جماعتیں فوجی آمروں کا شکار رہی ہیں۔ دونوں نے فوجی آمریتوں کے ظلم و ستم کو عملاً دیکھا اور بھگتا ہے، جیلیں کاٹی ہیں۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، حکومتیں گرانے کا تجربہ بھی کر رکھا ہے پھر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف میثاق جمہوریت تک پہنچے تھے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ ایک منفرد ڈاکومنٹ ہے جس میں ملک کی دو بڑی جماعتوں نے ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر ملک و قوم کی خاطر، جمہوریت کی خاطر مل جل کر چلنے اور آگے بڑھنے کا عہد کیا۔ ویسے تو پاکستان کی تاریخ میں جہاں فوجی آمروں کے ہتھکنڈوں کا ذکر ہوتا ہے وہاں یہ بات بھی اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ ہر بار قوم لوٹ کر جمہوریت کی طرف آئی۔ پاکستانی قوم نے ہر موقع پر جمہوریت کے لئے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا، اس کے لئے قربانیاں بھی دیں۔ میثاق جمہوریت اسی بات کا تحریری ثبوت ہے جاری نظام جسے پتہ نہیں کیوں ہائبرڈ کہا جاتا ہے، اسی میثاق کی ایک عملی شکل ہے۔ عمرانی فتنے کے تدارک اور ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے دونوں جماعتوں نے اپنی اپنی سیاست کو پس پشت ڈال کر ریاست کو بچانے کے لئے اپنی اپنی سیاست کو پس پشت ڈال کر ریاست کو بچانے کے لئے جس عزم اور ہمت کا مظاہرہ کیا وہ جمہوریت اور ریاست کے ساتھ ان کے بلاشرط اخلاص کا عملی ثبوت ہے۔ ریاست قائم رہے گی، مضبوط ہو گی تو اس میں سیاست کی جا سکے گی۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی اسی فکر و عمل کا مظاہرہ کیا گیا جو قابل ستائش ہے۔بجٹ 2026-27ءلگتا ہے ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔ کچھ معاملات پر حکمران جماعت ن لیگ اور اتحادی پیپلز پارٹی کے مابین اتفاق رائے نہیں ہو پا رہا ہے۔ شہباز شریف نے حکومتی ٹیم کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر زرداری کے ساتھ ملاقات کی، بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی کی تشکیل کردہ کمیٹی اراکین کے ساتھ بھی بجٹ تجاویز پر بات چیت ہوئی۔ پیپلزپارٹی نے بجٹ منظور کروانے کے لئے گرین سگنل بھی دے دیا ہے۔ ساتھ ساتھ بعض نکات پر تکنیکی کمیٹیوں کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔ معاملات طے پا چکے ہیں، اصولی اتفاق کر لیا گیا ہے۔ بس اب چھوٹی موٹی باتوں کی کچھ تفصیلات طے کی جا رہی ہیں، ویسے حکومت کے لئے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ ایک طرف 26 کروڑ عوام ہیں جو معاشی اعتبار سے پستی نہیں بلکہ انتہائی پستی کا شکار ہیں۔ مہنگائی نے انہیں مار دیا ہے۔ نصف کے قریب آبادی خط ِغربت سے نیچے جا چکی ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں انتہائی بلندی تک جا پہنچی ہیں۔ اشیاءضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ بیروزگاری عام ہے، قابل تصرف شخصی آمدنیاں کم ہیں۔ قدر زر میں گراوٹ کے باعث قوت خرید پستی کا شکار ہو چکی ہے۔ ایسے میں حکومت پر سیاسی دباﺅ شدید ہے کہ وہ عامة الناس کی بہتری کے لئے کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ کرے حالانکہ حکومتی وسائل دستیاب نہیں ہیں کہ وہ عامہ الناس کی بہتری کچھ کر سکے۔ دوسری طرف قرض خواہ آئی ایم ایف ہے جو عذاب کی صورت میں مسلط ہے۔ وہ بجٹ کی ایک ایک سطر اور ایک ایک پیراگراف پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ اعداد و شمار پر کڑی نگرانی کرتا ہے۔ وہ اپنے قرض کی واپسی کو یقینی بنانے کے لئے بجٹ کے اعداد و شمار کو اپنے انداز میں توڑتا مروڑتا رہتا ہے۔ اسے عوام کی ہرگز ہرگز پرواہ نہیں ہے، ویسے ہونا بھی نہیں چاہئے کیونکہ اس نے تو الیکشن نہیں لڑنا ہے وہ جو قرض دینے والا ہے، اس کی دلچسپی تو قرض دار سے اپنی رقم بمعہ سود واپس لینے تک محدود ہوتی ہے۔ ہم پر قرض کا حجم بھی بہت بڑھ چکا ہے۔ ہم نے قرض لینے کی بہت سی حدود کراس کرلی ہیں۔ پہلی لائن تو عرصہ ہوا کراس کی جا چکی ہے۔ اب تو شاید ہم ریڈ لائن بھی کراس کرنے کی تیاریوں میں 
ہیں۔ ہم قرض پر سود کی ادائیگی کے لئے بھی قرض لینے پر مجبور ہیں۔ قرض کے جال نے ہمیں بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ ہماری معاشی حالت اچھی نہیں ہے۔ ہم کمزور اور ناتواں ہو چکے ہیں۔ ایسے میں حکومت تو اپنے اتحادیوں کو منانا بھی ایک اہم کام ہے اور حکومت یہ بھی کر کر رہی ہے۔ عوامی دباﺅ بھی خاصا ہے۔ پیپلز پارٹی عوامی ضروریات اور مطالبات کو زبان دیتی نظر آرہی ہے۔ سرکاری ملازمین کے مسائل کو ہی دیکھ لیں سب سے زیادہ آمدن ٹیکس اسی طبقے سے لیا جاتا ہے لیکن جب انہیں کچھ دینے کی باری آتی ہے تو انہیں مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے ن لیگ کا ریکارڈ بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔ پنشنرز کو تو ویسے ہی انسان نہیں سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کے بس میں ہو تو پنشنرز کو ویسے ہی گلا گھونٹ کر ختم کر دے۔ پیپلز پارٹی سرکاری ملازمین کے لئے نرم نہیں بہت ہی نرم گوشہ رکھتی ہے۔ اپنے ادوارِ حکومت میں پیپلز پارٹی سرکاری ملازمین کو آسودہ حال رکھنے کے لئے کھلے دل کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ بہرحال حکومت تمام مسائل سے نمٹ رہی ہے۔ فائر فائیٹنگ کر رہی ہے۔ معاملات اور مسائل روزانہ کی بنیادوں پر حل کئے جا رہے ہیں۔ کوئی معاشی حکمت عملی سامنے نہیں ہے، اس لئے عوام جان لیں کہ ان کے مسائل ایسے ہی رہیں گے، انہیں سکھ کا سانس آنے والا نہیں ہے۔

ٹیگز: