گلگت بلتستان کی تاریخ نہایت قدیم، متنوع اور دلچسپ ہے۔ یہ خطہ برصغیر، وسطی ایشیا اور چین کے درمیان ایک اہم گزرگاہ رہا ہے۔ اسی لیے یہاں مختلف تہذیبوں، مذاہب اور سلطنتوں کے آثار ملتے ہیں۔یہاں انسان کی موجودگی ہزاروں سال سے اپنے ہونے کا احساس دلا رہی ہے۔چٹانوں پر کندہ قدیم نقوش ماضی بعید کے معتبر شہادتی ہیں جو بدھ مت اور دیگر قدیم مذاہب کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔زمانہ قدیم میں شاہراہِ ریشم کا حصہ تھا جہاں سے تجارت اور ثقافتی تبادلہ ہزاروں سال تک ہوتا رہا ۔پہلی صدی عیسوی سے یہاں بدھ مت کا غلبہ رہا۔اس دور میں سٹوپے، خانقاہیں اور بدھا کے مجسمے بنائے گئے جیسے سکردو کا مشہور منٹھل بدھا راک جو آج بھی اپنی پوری تابناکیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔گلگت صدیوں تک ایک اہم مذہبی اور تعلیمی مرکز رہا اور دور دراز سے اہل ِ علم اپنی علمی تشنگی مٹانے کیلئے یہاں آتے رہے ہیں ۔ بعد میں یہاں مختلف چھوٹی ریاستیں قائم ہوئیںجیسے بلتستان، ہنزہ، نگر اور گلگت۔14ویں صدی کے بعد صوفی بزرگوں کے ذریعے یہاں اسلام پھیلا جس کا مرکز بلتستان تھا۔اس دور میں مقامی حکمرانوں نے شگر اور خپلو کے قلعے اور محلات بھی تعمیر کیے۔
19ویں صدی میں یہ علاقہ گلاب سنگھ کے زیرِ اقتدار آیاجب تاجدارِ برطانیہ نے 16مارچ 1846 ءکو معاہدہ امرتسرکے تحت کشمیر کو بمعہ انسانوں کے صرف پچھتر لاکھ نانک شاہی میں بیچ دیا تاکہ روسی اثر کوروکا جا سکے ۔بعد ازاں برطانیہ نے یہاں گلگت ایجنسی بھی قائم کی۔ 1947 ءمیں تقسیمِ ہند کے بعد گلگت کے مقامی فوجیوں نے بغاوت کی اور یکم نومبر 1947 ءکو ڈوگرہ حکومت کے خاتمے کے بعد یہ علاقہ پاکستان سے منسلک ہو گیا۔ آغاز میں اس علاقے کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھالیکن 2009 ءمیں اسے باقاعدہ گلگت بلتستان کا نام دے کر محدود خودمختاری دی گئی۔آج یہ علاقہ سیاحت، قدرتی حسن اور شاہراہ قراقرم کی وجہ سے عالمی اہمیت کا حامل ہے۔ گلگت بلتستان قدرتی حسن اور سٹرٹیجک اہمیت کے باوجود کئی سنجیدہ مقامی مسائل کا شکار ہے۔گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبے کا درجہ حاصل نہیں۔یہاں کے عوام کو پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مکمل نمائندگی نہیں ملتی۔علاقہ باضابطہ طور پر کشمیر تنازع کا حصہ سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے آئینی پیچیدگیاں برقرار ہیں۔شدید بجلی کی قلت، خاص طور پر سردیوں میں کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ۔صحت کی سہولیات محدود، بڑے ہسپتال کم اور جدید علاج میسر نہیں۔دور درا ز کے علاقوں میں تعلیم کے مواقع کم ہیں جو یقینا ایک بڑا مسئلہ ہے۔روزگار کے مواقع محدود ہیںاور زیادہ تر انحصار زراعت یا سیاحت پر ہے۔سیاحت موسمی ہونے کی وجہ سے آمدنی مستقل نہیں رہتی۔صنعتی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے۔پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں اکثر لینڈ سلائیڈنگ سے بند رہتی ہیں۔شاہراہ قراقرم اہم راستہ ہے لیکن خطرات سے خالی نہیں۔فضائی سفر بھی اکثر موسم کی خرابی سے متاثر ہوتا ہے۔گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔جس کی ایک بڑی مثال عطا آباد جھیل ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں میں تیزی کی وجہ سے مقامی آبادی متاثر ہورہی ہے ۔زمین کی ملکیت کے واضح قوانین کی عدم موجودگی سے اکثر تنازعات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔معدنی وسائل (سونا، قیمتی پتھر) سے مقامی لوگوں کو کم فائدہ ملتا ہے ۔گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں تاریخ، قدرت اور ثقافت ایک ساتھ ملتی ہیں۔ یہاں کے قلعے، جھیلیں اور پہاڑ جتنے مشہور ہیں اتنے ہی اس کے روایتی کھیل بھی مقامی شناخت کا حصہ ہیں.... خاص طور پر پولو، جو یہاں کے لوگوں کا فخر سمجھا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کی سیاسی ساخت پاکستان کے دیگر صوبوں سے کچھ مختلف ہے۔ اس لیے اس کی اسمبلی اور الیکشن کا طریقہ کار بھی خاص نوعیت رکھتا ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کی کل نشستیں 33 ہیںجبکہ جنرل 24نشستیں عوام کے براہِ راست ووٹ سے منتخب ہوتی ہیںاور خواتین کی مخصوص نشستوںکی کُل تعداد 6 ہے جو پارٹی تناسب سے تقسیم ہوتی ہے۔ 3 ٹیکنوکریٹس کی نشستیں ہیں۔ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے استحکام پاکستان پارٹی کا اہم اجلاس مرکزی صدر عبدالعلیم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ جس میں سینئر پارٹی رہنما¶ں نے شرکت کی ¾ فیصلہ کیا گیا کہ استحکام پاکستان پارٹی گلگت بلتستان کے 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات کی 9 نشستوں پر امیدوار کھڑے کرے گی۔استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی صدرعبد العلیم خان نے گلگت بلتستان الیکشن میں حصہ لینے کا نہ صرف اعلان کردیا ہے بلکہ ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے 20 رکنی پارلیمانی بورڈ بھی تشکیل دے دیا ہے جس میں پارٹی صدر عبدالعلیم خان اور جنرل سیکرٹری خالد محمود ¾عون چوہدری، منزہ حسن، گل اصغر بگھور، سید صمصام علی بخاری، جی جی جمال، رانا نذید احمد،چوہدری ظہیر الدین، چوہدری نوریز شکور، سید رفاقت علی گیلانی، راجہ یاور کمال، مامون جعفر تارڑ، حاجی گلبر خان، راجہ جلال حسین، شمس الحق لون، فتح اللہ خان، محمد شعیب صدیقی، غضنفر عباس چھینہ اور ملک زمان نصیب شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں گلگت بلتستان کے انتخابات کے لئے دیگر سیاسی جماعتوں کے ممکنہ امیدواروں اور ان کے سیاسی لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر مرکزی جنرل سیکرٹری میاں خالد محمود، صدر پنجاب رانا نذیر احمد خان، صدر لاہور ڈویژن ملک زمان نصیب اور میاں تیمور خالد بھی موجود تھے۔ عبد العلیم خان گلگت بلتستان میں الیکشن میں حصہ لینے کی تیاری کئی ماہ سے مسلسل اور تسلسل کے ساتھ سابق گورنر ¾ وزارءاور سابق ممبران
اسمبلی کی آئی پی پی میں مسلسل شمولیت کے ذریعے سے کررہے تھے ۔اس کے علاوہ اہم ملاقاتیں اور جلسوں کا انعقاد بھی کیا گیا ۔ استحکام پاکستان پارٹی گلگت بلتستان کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کیلئے پُرامید ہے۔ عبد العلیم خان بہترین منتظم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی حسِ جمالیات کے حوالے سے بھی خصوصی شہرت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ بہتر منصوبہ بندی اور م¶ثر پالیسیوں کے ذریعے شمالی علاقہ جات کو سیاحت کا خوبصورت ترین مرکز بنانے کے کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔عبد العلیم خان گلگت بلتستان کے عوام کو دیگر صوبوں کی طرح بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کا بنیادی حق سمجھتے ہیں اور اپنی پارٹی کے منشور کے ذریعے اس مقصد کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔استحکام پاکستان پارٹی جلد ہی اپنے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے گی جبکہ تمام امیدواروں کی منظوری پارلیمانی بورڈ دے گا جو حتمی تصور ہو گی۔ استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما¶ں نے پارٹی صدر عبدالعلیم خان کو اس امر کا یقین دلایا کہ گلگت بلتستان کے عوام پارٹی کے منشور پر اعتماد رکھتے ہیں اور7جون کو ہونے والے عام انتخابات میں گلگت بلتستان کے عوام استحکام پاکستان پارٹی کے حق میں بھاری اکثریت سے فیصلہ دیں گے۔2015 ءمیں یہاں مسلم لیگ نون اور 2020ءمیں پی ٹی آئی نے حکومت بنائی تھی ۔مسلم لیگ نون بھی اپنے پارلیمانی بورڈ کا اعلان کرچکی ہے۔دیکھیں اس خوبصورت خطہ زمین کے اقتدار کا ہما کس کے سر پر بیٹھتا ہے۔