اسلام آباد: نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ نے حتمی منظوری کا مرحلہ طے کرلیا۔ کابینہ کے اہم اجلاس میں 18 ہزار ارب روپے سے زائد مالیت کا بجٹ منظور کر لیا گیا، جبکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے تنخواہوں و پنشن میں بالترتیب 6 اور 7 فیصد اضافے کی بھی توثیق کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق بجٹ دستاویزات کو پولیس کی سخت نگرانی میں پارلیمنٹ ہاؤس منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آج شام قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔
بجٹ 2025-26: اہم نکات ایک نظر میں
مجموعی حجم: تقریباً 18,000 ارب روپے
ٹیکس آمدن کا ہدف: 14,131 ارب روپے
نان ٹیکس آمدن: 5,167 ارب روپے
مالی خسارہ: جی ڈی پی کے 5 فیصد کے قریب، یعنی 6,501 ارب روپے
غیر ترقیاتی اخراجات: 16,286 ارب روپے
ٹیکس دائرہ وسیع، مراعات محدود
حکومت نے مالی نظم و ضبط قائم رکھنے اور آمدن بڑھانے کے لیے تمام شعبوں سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس متعارف کرانے کی تیاری مکمل ہے جبکہ ایف بی آر کو محصولات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
وزیراعظم کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں کہا"ملک نے گزشتہ برسوں میں سخت معاشی چیلنجز کا سامنا کیا، عام آدمی اور تنخواہ دار طبقے نے قربانیاں دیں۔ اب وقت ہے کہ معاشی استحکام کے لیے سب متحد ہوں۔