Wed, September 16, 2026

پاکستان میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ خسارے کا تخمینہ: قرضوں پر انحصار بڑھنے کا خدشہ

پاکستان میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ خسارے کا تخمینہ: قرضوں پر انحصار بڑھنے کا خدشہ

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے 2025-2026 کے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ خسارے کا تخمینہ 7,222 ارب روپے لگایا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق یہ خسارہ جی ڈی پی کے 5.5 فیصد کے برابر ہوگا۔


موجودہ تخمینوں کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں، دفاع، تنخواہوں، پینشن، سبسڈیز اور دیگر اخراجات کے لیے صرف 2,225 ارب روپے بچیں گے۔ اس صورت حال میں وفاقی حکومت کو اپنے اخراجات پورا کرنے کے لیے قرضوں کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔


صوبوں کے سرپلس کے بعد مجموعی بجٹ خسارے کا تخمینہ 5,862 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 4.4 فیصد کے برابر لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں سے صوبوں کو 8,780 ارب روپے کی منتقلی کے بعد وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 10,331 ارب روپے رہ جائے گی۔


آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ 19,111 ارب روپے ہے، جس میں 15,270 ارب روپے کی ایف بی آر کی ٹیکس آمدنی اور 3,841 ارب روپے کی نان ٹیکس آمدنی شامل ہے۔ تاہم، وفاق کو 8,106 ارب روپے سود کی ادائیگیاں کرنی ہوں گی، جس کے بعد وفاقی حکومت کو باقی اخراجات کے لیے صرف 2,225 ارب روپے دستیاب ہوں گے۔


آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 17,553 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ان اخراجات میں سب سے زیادہ سود کی ادائیگیاں ہوں گی، جبکہ باقی اخراجات میں دفاع، پنشن، تنخواہیں، ترقیاتی بجٹ، سبسڈیز اور گرانٹس شامل ہیں۔

یہ مالی سال وفاقی حکومت کے لیے مالیاتی لحاظ سے چیلنجز سے بھرا ہوا دکھائی دے رہا ہے، اور قرضوں پر انحصار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 
 
 

ٹیگز: