Thu, September 17, 2026

پہچان

پہچان

جو اپنے آپ کو پہچان گیا وہ دنیا کو جان گیا۔
آغاز … خوابِ ہستی
جب پہلی بار شعور کی آنکھ کھلی، تو دنیا کسی خواب کی مانند محسوس ہوئی…
ایسی خواب جس میں ہر شے بولتی ہے، ہر رنگ بات کرتا ہے، ہر خوشبو کوئی پیغام لیے چلتی ہے۔
گل و صبا، رنگ و نور، سب گویا کسی خاموش مکالمے میں شریک تھے۔
مجھے لگا جیسے میں کسی حسین راز کے قریب آ گیا ہوں، مگر جوں جوں میں قریب جاتا،
معلوم ہوتا کہ جس کو میں ‘‘دوسرا’’ سمجھ رہا ہوں، وہ تو میں خود ہی ہوں۔
جو رخ میں نے غیر میں تلاش کیے، وہ میرے ہی باطن کے نقوش نکلے۔
یہ ہستی … ایک فریب ناک آئینہ تھی،
جس میں میں اپنے ہی عکس کا تعاقب کر رہا تھا،
اور خود سے ہی ناآشنا تھا۔
سُکر … لذتِ وصلِ آغاز
پہلے پہر کی محبت ایک مدہوشی تھی…
ایسا وجد، جہاں دل کسی نغمے کا ہم آہنگ بن جاتا ہے،
جہاں ہر سانس میں سرور ہوتا ہے اور ہر لمحہ روشنی میں لپٹا ہوتا ہے۔
یہ کیفیت ایسی تھی جیسے سب کچھ مکمل ہو چکا ہو،
جیسے وصل حاصل ہو گیا ہو،
اور اب کچھ اور باقی نہ ہو۔
مگر اسی لذت کے پس پردہ ایک لطیف دھوکہ چھپا ہوا تھا…
وہی مٹھاس، آنے والے ہجر کی تلخی کا پہلا ذائقہ تھی۔
محبت کی یہ سرمستی دراصل زوال کی پہلی سیڑھی تھی۔
صحو … انکشافِ حقیقت
پھر ایک دن جیسے کوئی پردہ ہٹ گیا۔
حقیقت نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
’’جس کو تم نے وصل جانا، وہ فقط ایک سایہ تھا۔
ایک عکس، جو تمہارے اپنے وجود سے پیدا ہوا،
اور تمہارے ہوش میں آتے ہی مٹ گیا۔‘‘
میں چیخ اٹھا…
’’یہ عشق ہے؟ یا فقط ایک خواب؟
جس کا جسم نہیں، صرف خیال ہے؟‘‘
دل نے کہا:
’’تو خود بھی تو ایک خیال ہی ہے۔
جسے تو ’میں‘ سمجھ رہا ہے،
وہ مظہر ہے، اصل نہیں۔
اصل تو ابھی باقی ہے…
ابھی باقی ہے وہ آگ، جو خودی کو راکھ کر دے گی۔‘‘

فنا… انکارِ خودی
پھر مجھے فنا کے سپرد کر دیا گیا۔
نہ وہ نیند تھی، نہ موت…
بلکہ ایک شعوری آگ،
جو سب کچھ جلا کر رکھ دیتی ہے:
یادیں، رشتے، نام، پہچان…
سب ایک ایک کر کے جھلس گئے۔
میری ’’میں‘‘ … جو ہمیشہ مجھے عزیز تھی…
ایک افسانہ نکلی، ایک تمثیل، ایک سایہ۔
اور جب سب کچھ جل چکا،
تو صرف راکھ بچی۔
مگر وہ راکھ،
سچائی کا پہلا بیج بن چکی تھی۔
بقا … ظہورِ ذات
جب سب کچھ مٹ چکا…
تب وہ ظاہر ہوا۔
نہ آواز میں، نہ روشنی میں،
بلکہ خاموشی میں۔
ایک ایسی ذات،
جو ازل سے ہے،
ابد تک رہے گی۔
نہ وقت کی اسیر، نہ مکان کی محتاج…
بس ’’ہے‘‘۔
دل شکستہ تھا، مگر وہی ظرف بن گیا،
جس میں اب عکس نہیں،
محض ’’وجود‘‘ جھلکتا تھا۔
یہی ’’بقا‘‘ تھی…
فنا کا مقدس صلہ۔
وحدت … محوِ دوئی
اور تب میں نے جانا کہ
’’میں‘‘ اور ’’تُو‘‘ … یہ سب واہمے تھے۔
ہر جدا تصور،
ہر فاصلہ،
ہر جدائی…
بس ایک ظاہری ترتیب تھی۔
حقیقت میں،
سب کچھ ایک ہی تھا:
نہ عاشق رہا، نہ معشوق،
نہ طلب، نہ حاصل…
بس عشق باقی رہا،
اور عشق میں بھی فقط ’’وہ‘‘۔
خاموشی … اصل اظہار
اب اگر کوئی پوچھے:
’’تو نے کیا پایا؟‘‘
تو میں صرف مسکراتا ہوں۔
کیونکہ الفاظ اب کمزور ہیں،
اور صدا بھی بے اثر۔
یہ جو راز ہے…
یہ دل کی دھڑکن میں بند ہے،
اور صرف خاموشی ہی اسے چھو سکتی ہے۔
اب میرا اظہار،
میری خاموشی ہے۔
کہ وہی سکوت…
سب سے بلند صدا ہے۔
نکتۂ عارفانہ
اے راہروِ عشق،
اگر تْو نے محبت کی مٹھاس چکھی ہے،
تو تیار ہو جا فنا کی تلخی کے لیے…
کیونکہ بقا،
محض اسی تلخی کے بعد کی
وہ خاموش راحت ہے،
جہاں نہ ’’میں‘‘ رہتا ہے،
نہ ’’تُو‘‘ …
بس ایک مقدس سناٹا ہوتا ہے…
ایسا سناٹا جو ’’ھُو‘‘ کہنے سے پہلے
سب کچھ کہہ چکا ہوتا ہے
(جاری ہے)

ٹیگز: