Wed, September 16, 2026

مکہ دفاعی معاہدہ: مشرق سے ابھرتا ہوا سورج

مکہ دفاعی معاہدہ: مشرق سے ابھرتا ہوا سورج


روس کے ٹوٹنے کے بعد دنیا کے یک ستونی ہونے کا یہ نقصان ہوا کہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے زمین پر بسنے والوں پر زمین تنگ کر رکھی ہے۔ افغانستان کی جنگ ختم ہوئی تو عراق کو روندتا ہوا امریکہ ہر اُس ملک پرچڑھا دوڑا جو اُس کی طاقت کے رستے میں آیا۔ جنگیں کبھی نظریاتی نہیں ہوتیں، ان کے مقاصد ہمیشہ معاشی ہوتے ہیں بلکہ پرانے معاشی نظام کو ہٹا کر نیا معاشی نظا م لانا ہی حقیقی جنگ ہوتی ہے۔ دنیا کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے جہاں پرانے اتحاد اپنی معنویت، مقصدیت اور وقار کھو رہے ہیں اور ایک نیا اتحاد دنیا کی ہر ریاست کی ضرورت نہ بھی ہو تو امریکہ اور اُس کے حواریوں سے بچنے کیلئے ایک اسلامی اتحاد نا گزیر ہو چکا تھا۔ اللہ رب العزت تخریب کی ہر کوشش سے تعمیر کی کوئی نہ کوئی شکل نکال دیتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں 7 اگست 2026ءکو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والا ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ“ اسی بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی ایک غیر معمولی مگر اہم کاوش ہے۔ نئے معاہدے کا مرکزی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اسے تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا ہے تاہم معاہدے کی عملی تفصیلات اور فوجی ردعمل کا طریقہ کار ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔ یار لوگو ں کا یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر معاہدہ ایران کے خلاف نہیں تو پھر اس کا وقت یہی کیوں ہے؟ جواب شاید معاہدے کے الفاظ سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات میں پوشیدہ ہے۔ 2026ءکی ایران جنگ، خلیج میں میزائل اور ڈرون حملوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات اور آبنائے ہرمز کے بحران نے سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ریاستوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ صرف بیرونی طاقتوں کی چھتری کے نیچے رہنا اب کافی نہیں۔چنانچہ مکہ معاہدہ دراصل ایک ایسے علاقائی دفاعی بندوبست کی طرف قدم معلوم ہوتا ہے جس میں مسلم ممالک اپنی سلامتی کی ذمہ داری میں زیادہ خود کفیل ہونا چاہتے ہیں۔اس معاہدے کا اصل مقصد شاید کسی ایک دشمن کے خلاف جنگ سے زیادہ اجتماعی طور پر اسلام دشمن قوتوں کو جارحیت سے باز رکھنا، دفاعی تعاون، انٹیلی جنس، فوجی رابطہ اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرنا ہے۔ اگر کسی جارحیت کے عزائم رکھنے والے کو پہلے ہی سے معلوم ہو کہ سعودی عرب پر حملہ صرف سعودی حکومت کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ ترکیہ اور پاکستان بھی اس بحران کا حصہ بن سکتے ہیں تو اس سوچ کو سو بار سوچناپڑے گا۔ اس اتحاد کی اصل آزمائش اس وقت ہو گی جب واقعی کسی رکن پر حملہ ہوا تو معلوم پڑے گا کہ کون کہاں کھڑا ہے کیونکہ سیاسی معاہدے اور عملی جنگی ذمہ داری میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے دیگر اسلامی ممالک کا اس فریم آف ورک میں شامل ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے مصر کا نام خصوصی طور پر لیا ہے۔ مصر کی شمولیت اس اتحاد کو ایک نئی جغرافیائی اہمیت دے سکتی ہے۔ اس اتحاد میں موجود ترکیہ اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات تاریخی طور پر موجود رہے ہیں لیکن آج کے حالات میں انقرہ اور تل ابیب کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں، خصوصاً غزہ پالیسیوں کی وجہ سے۔ موجودہ ترک حکومت اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کرتی رہی ہے اس لیے ترکیہ کی موجودگی سے یہ معاہدہ ”اسرائیل کے ساتھ مکمل دشمنی“ کا اتحاد نہیں بن جاتا بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت پسندانہ علاقائی سیاست ہے جہاں ایک ملک بیک وقت مختلف طاقتوں کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات رکھ سکتا ہے۔ پاکستان اس نئے بندوبست کا سب سے دلچسپ اور حساس رکن ہے کیونکہ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست، معاشی شراکت دار اور مذہبی اعتبار سے انتہائی اہم ملک ہے اور دوسری طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے جس کے ساتھ سرحد، تجارت، بلوچستان، توانائی اور علاقائی سلامتی کے معاملات براہِ راست وابستہ ہیں۔ پاکستان کی کامیاب حکمت عملی یہی ہو گی کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو ایران دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دے۔ پاکستان نے اس توازن کو برقرار رکھا تو وہ محض ایک دفاعی اتحاد کا رکن نہیں بلکہ مسلم دنیا کا ممکنہ سفارتی پل بن سکتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ ایران کے ساتھ رابطہ سعودی سلامتی کے خلاف نہیںاور ایران کو یہ باور کرا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی دفاعی شراکت داری تہران کے خلاف جنگی منصوبہ نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن کو عالمی سفارتی طاقت میں تبدیل کر سکتا ہے ۔ مکہ مکرمہ میں ہونے والے اس معاہدے کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت شاید اس کی فوجی طاقت نہیں بلکہ اس کا وہ سیاسی پیغام ہے جو مسلم دنیا اب واشنگٹن، ماسکو یا بیجنگ کی سکیورٹی چھتریوں کے نیچے کھڑے رہنے کے بجائے اپنی اجتماعی سلامتی کا تصور بھی سوچ رہی ہے۔ 
وفاقی وزیر برائے مواصلات و صدر آئی پی پی عبد العلیم خان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں عالم اسلام کو نہ صرف اس عظیم معاہدے کی مبارک باد دی ہے بلکہ انہوں نے پاکستان کی عظیم عسکری حیثیت کوعالم اسلام میں منفرد حیثیت اختیارکرنے پر خراج تحسین بھی پیش کیا ہے۔ عبد العلیم خان نے اس تاریخی معاہدے کی کامیابی پر وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شب و روز محنتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آنے والی نسلیں اس دفاع معاہدے کو نا صرف یا د رکھیں گی بلکہ اس کے ثمرات سے بھی مستفید ہوں گی۔ 
کاش! اس معاہد ے میں یہ بھی شامل کر لیا جائے کہ سعودیہ اور ترکیہ پاکستانی مزدوروں اور ہنر کاروں کو اپنے ممالک میں روزگار کمانے کے زیادہ سے زیادہ مواقع بھی فراہم کریں گے تو پاکستان کے معاشی مسائل کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔پاکستانی عوام کو دفاع کی کوئی فکر نہیں البتہ مہنگائی اور بیروزگاری نے قوم کو مایوسی کے سمندر میں دھکیل رکھا ہے۔ سو گھاس کھا کر ایٹم بنانے والوں کا حق بنتا ہے کہ انہیں بہترین زندگی دی جائے۔

ٹیگز: