پاکستان اپنی پیدائش یعنی 1947 میں تخلیق کے روز اول سے ہی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ 9 سال تک یہ ملک آئین کے رہا، 1956 میں جو آئین بنا وہ 2 سال کے اندر اندر اپنی موت آپ مر گیا۔ 1958 میں جنرل ایوب خان نے ملک پر مارشل لا لگا دیا گیارہ سال کے بعد ملک پر جنرل یحییٰ خان مسلط ہو گیا۔ اس نے الیکشن کرائے اور پھر خود ہی نتائج کو ماننے سے انکاری ہو گیا۔ اقتدار اکثریتی پارٹی یعنی شیخ مجیب الرحمان کے حوالے کرنے کے بجائے مشرقی پاکستان پر لشکر کشی کر دی، جس کے نتیجے میں بھارت کو براہ راست مداخلت کرنے کا موقع ملا۔ بھارت نے بنگالیوں کو ساتھ ملا کر مغربی پاکستان کے خلاف تحریک کو کامیاب کرانے کی سازشیں کیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اس معاملے کو جس بُرے انداز میں ہینڈل کیا وہ ہماری تاریخ کا ایک شرمناک و المناک باب ہے۔ پاکستان دو لخت ہو گیا گزری صدی میں مسلمانوں کی تین براعظموں تک پھیلی عظیم سلطنت عثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر کھو گئی تھی پھر اس صدی میں دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی تھی لیکن ہماری نالائقیوں کے باعث یہ مملکت بھی دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی، ہم بے سہارا ہو گئے ہمارے حوصلے ٹوٹ گئے۔ یہ سب کچھ اندرونی خلفشار کے باعث رونما ہوا۔ سول بیورو کریسی، میجر جنرل سکندر مرزا اور ایسے ہی سیاستدانوں کی خانہ ساز حماقتوں و سازشوں کے باعث ممکن ہوا تھا، 1947 سے لے کر 1956 تک کے سیاسی حالات کا مطالعہ کریں تو سیاستدانوں اور انگریزوں کی تربیت یافتہ بیورو کریسی کی چیقلش اور چشمک کے باعث ملک کو آئین نہ مل سکا پھر 1956 میں جو آئین ملا اسے میجر جنرل سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کی سازشوں نے چلتا کیا، جمہوریت، آئینی جمہوریت دو سال بھی نہ نکال سکی۔ پارلیمانی جمہوریت کو دفن کر کے جنرل ایوب خان نے 1962 کے خود ساختہ آئین کے ذریعے صدارتی نظام نافذ کر دیا جس کے بطن سے مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان اختلافات نے علیحدگی کی تحریک کو تقویت دی اور بالآخر جنرل یحییٰ خان کے زیر حکمرانی پاکستان دولخت ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کا آئین دیا اجڑے پاکستان کو دوبارہ بسانے کی ایک اچھی کاوش کی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے آئین کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی اس میں ترامیم شروع کر دیں۔ جمہوریت کو فروغ دینے کے بجائے انہوں
نے بھی آمرانہ رویہ اختیار کیا۔ انتخابات میں دھاندلی کے نتیجے میں اپوزیشن اکٹھی ہوئی، تحریک چلی، بھٹو صاحب کی غیر سیاسی اور آمرانہ سوچ کے باعث تحریک نے پُر تشدد صورت اختیار کر لی اور بالآخر فوج کو مداخلت کا موقع مل گیا۔ جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لا لگا دیا جس کا قوم نے والہانہ خیر مقدم کیا۔ 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کی لشکر کشی نے بھی جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کو تقویت دی اور وہ 1988 تک یعنی گیارہ سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ اس دوران بھٹو دور میں شروع کردہ ایٹمی پروگرام مکمل ہوا اور پاکستان عسکری و دفاعی طور پر ایک مستحکم مملکت بنا۔ پھر 1988 یا 1999 گیارہ سال تک سیاستدانوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری رہی، جس میں سول بیورو کریسی غلام اسحاق خان کی شکل میں اور ملٹری بیوروکریسی آرمی چیفس کی شکل میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہے حتیٰ کہ جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر حکومت پر قبضہ کر لیا۔ حیران کن بات ہے کہ بے نظیر بھٹو اور نواب زادہ نصراللہ خان جیسے جمہوریت کے داعیوں نے بھی خوشی منائی۔ جنرل مشرف کے مارشل لا کو سراہا۔ 1988 تا 1999 کے جمہوری ادوار میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا شروع کردہ نیوکلیئر پروگرام جنرل ضیاالحق کے دور میں مکمل ہوا اور نواز شریف کے دور حکمرانی میں 1998 میں پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا۔
2008، 2013، 2018 اور 2024 میں انتخابات ہوئے، ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اس دوران نواز شریف کو ہٹانے، ہرانے اور عمران خان کو جتوانے اور اقتدار میں لانے کی جدو جہد جاری رکھی۔ اسی عرصے کے دوران عمران خان کے خلاف بھی معاملات سامنے آئے، 9 مئی کا سانحہ ہوا۔ پی ٹی آئی اس وقت اپنے کرتوتوں کے باعث زیر عتاب ہے۔ 9 مئی کے حوالے سے اب سزاو¿ں کا عمل شروع ہو چکا ہے تحر یک انصاف شدید پریشانی میں مبتلا ہے، داخلی انتشار بھی عام ہے، عمران خان کی زبان حسب عادت اور حسب سابق زہر اُگلنے میں مصروف ہے۔ تحریک انصاف کے پاس سوائے عمران خان کی رہائی کے کوئی بیانیہ نہیں ہے۔ عمران خان کو سہولیات نہ ملنے کا واویلا ہے، ملاقاتیں نہ کرانے کی چیخ و پکار کے علاوہ انکے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ پاکستان ان کا ایشو ہی نہیں ہے۔ یہ سارے حالات خوشگوار نہیں ہیں، پاکستان 251 ملین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جبکہ نوجوان آبادی کی شرح کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا نمبر ایک ملک ہے۔ ایٹمی صلاحیت رکھنے والے سات ممالک میں شامل ہے، اسی حوالے سے پاکستان تمام کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود ایک انتہائی اہم ملک ہے اسکی اوسط قومی پیداوار 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ گزری 4 دہائیوں کے دوران پاکستان دو عظیم جنگوں کے دوران فرنٹ لائن ریاست کا کردار بھی ادا کر چکا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف افغانوں کی جدوجہد آزادی میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، اس جنگ میں عالم عرب و غرب پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا۔ سوویت یونین کو شکست دینے اور بالآخر عظیم الشان اشتراکی ریاست کے خاتمے کی داستان پاکستان کے کردار کے بغیر نا مکمل سمجھی جائے گی۔ پھر 9/11 کے بعد دہشت گردی کیخلاف امریکی عالمی جنگ بھی پاکستان کے کردار کے بغیر فیصلہ کن نہیں ہو سکتی تھی۔
یہ الگ بات ہے کہ امریکہ یہ جنگ ہار گیا، ہم بظاہر اس کے فرنٹ لائن اتحادی تھے لیکن ہم نے طالبان کی فتح کا جشن بھی منایا۔ بہرحال معاملات اب آگے بڑھ چکے ہیں خطے میں نئی عالمی سیاست جنم لے رہی ہے، نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں، نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ ٹرمپ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اسے ہندوستانیوں کے اجتماع میں لانے والا مودی، ٹرمپ کی پھٹکاروں کی زد میں آ چکا ہے، امریکہ پاکستان کے وارے وارے جا رہا ہے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ پاک بھارت جنگ بند کرانے کے حوالے سے امریکی صدر پاکستان کا ممنون بھی ہے اور اس بات کا کئی بار ذکر بھی کر چکا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان کے مصالحانہ کردار کو دنیا سراہ رہی ہے۔ چین کے ساتھ ہمالیہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی دوستی سی پیک سے بہت آگے جا چکی ہے۔ انڈیا کو دھول چٹوانے میں پاکستان نے جو کچھ کیا وہ انتہائی قابل ستائش ہے لیکن اس میں چین کا خاموش کردار بھلایا نہیں جا سکتا۔ عالمی ہوائی بادشاہ رافیل کا جو حشر جے ایف تھنڈرز نے کیا وہ ناقابل یقین ہے۔ ایرانی صدر پاکستان آ رہے ہیں۔ پاک ایران تعلقات نیا موڑ مڑ رہے ہیں خطے کی سیاست زیرو زبر ہو رہی ہے، نئے حقائق جنم لے رہے ہیں ان میں پاکستان کا مستقبل خاصا روشن نظر آ رہا ہے۔ حالات پاکستان کے موافق ہوتے نظر آ رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری قیادت، سیاسی قیادت درست فیصلے کرے۔ پاکستان کے دور رس مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے، ابھرتے ہوئے نئے حقائق کے تناظر میں ٹھیک ٹھیک فیصلے کرے تو پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔