آجکل سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پر ایک افریقی مسلمان لیڈر کے چرچے ہیں۔ مغرب کو للکارنے والا ابراھیم ترورے کا تعلق مغربی افریقہ کے ایک چھوٹے سے ملک برکینا فاسو سے ہے۔ برکینا فاسو کا عبوری صدر اِبراھیم تورورے اپنی کم عمری ، بہادری اور اپنے لوگوں کو مغربی تسلط سے آزادی دلانے کے لئے سرگرم ہونے کے باعث بہت مقبول لیڈر بن کر ابھر رہا ہے۔ برکینا فاسو کی آبادی صرف دو کروڑ 30 لاکھ ہے جس کی آبادی کا زیادہ تر حصہ نوجوان نسل پر مشتمل ہے۔ جس کی اوسط عمر 17.7 سال ہے۔ ایک نوجوان آبادی کے ملک کا نوجوان لیڈر جو نہ صرف بہادر ہے بلکہ سیاست کے داؤ پیچ بھی خوب جانتا ہے۔ یہ افریقی ملک سونے، زنک ، کاپر اور دیگر قیمتی دھاتوں کے خزانے سے مالامال ہے، المیہ ہے کہ اس ملک کے باسی دو وقت کی روٹی کو بھی ترستے ہیں۔ وجہ وہی طاقت اور ذاتی مفادات کے لیے قومی مفادات کو بیچنے والے بدعنوان لیڈر ہیں جو کسی بھی قوم کیلئے سب سے بڑی سزا ہیں۔ اپنے ملک میں ایسے اقدامات اور پراجیکٹس کر رہے ہیں جس سے برکینا فاسو کی تقدیر بدلنے لگی ہے۔ افریقہ جیسے بڑے مگر بدحالی کا شکار براعظم میں ایک چھوٹے سے افریقی ملک کا صدر مغرب کی جڑیں ہلانے پر بہت پاپولر ہو رہا ہے۔ فرانس کی کالونی کی حیثیت رکھنے والے برکینا فاسو استعماری قوت سے خود کو آزاد کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ فرانس کو نکل جانے کا حکم دینے والے اِبراھیم تورورے ایک مزدور کے بیٹے ہیں۔ جس کا باپ ملک میں مغربی کمپنی کی ملکیتی سونے کی کان میں کام کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ برکینا فاسو میں سونے کی کانوں پر فرانس، امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی کمپنیوں کا قبضہ ہے، جسے انقلابی لیڈر تورورے نے آتے ہی سرکاری تحویل میں لے لیا ہے۔ وہ سونے کی انڈسٹری میں انقلاب لانے کے لئے پر عزم ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اب سونے کی کانوں میں غیر ملکی فرموں کو اپنی مقامی سرگرمیوں میں سے 15% حصہ برکینا فاسو کو دینا ہو گا۔ اس کے علاوہ برکینابی لوگوں کو سکلز بھی منتقل کرنا ہونگی۔برکینا فاسو اور روس کے درمیان قربتیں بھی بڑھنے لگی ہیں جس نے نہ صرف فرانس بلکہ پورے مغرب کی نیندیں اڑا دی ہیں، تاہم اس حکم کا اطلاق روسی کان کن نورڈگولڈ کمپنی پر بھی ہوگا،جسے اپریل کے آخر میں برکینا فاسو کی سونے کی صنعت میں تازہ ترین سرمایہ کاری کے لیے لائسنس دیا گیا تھا۔ ابراھیم ترورے نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جہاں کچھ سونے کی کانوں کو قومی تحویل میں لیا وہیں لائسنسز بھی منسوخ کر دئیے۔ فرانسیسی فوجی اڈے بند کر دئیے ہیں۔ زرعی اصلاحات کیں اور معیشت میں بہتری آئی۔ ریڈیکل اصلاحات کی بدولت غربت کم ہو رہی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ابراھیم ترورے کی قیادت میں ملک اپنی معدنیات کی دولت سے مستفید ہونے جا رہا ہے جہاں کرپٹ حکمرانوں کے زیر انتظام صدیوں سے غیر ملکی لوٹ مار کر رہے تھے۔ برکینا فاسو نہ صرف اب سونے کی ریفائنری بنا رہا ہے بلکہ تاریخ میں پہلی بار اپنے سونے کے قومی ذخائر کو بھی قائم کر رہا ہے۔سونے اور ہیروں کی لوٹ مار اور افریقیوں کو لہو لہان کرنے والی مغربی ملکیت والی فرموں کو ابراھیم ترورے کے اقدامات سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ آسٹریلیا کے ہیڈ کوارٹر سارما ریسورسز نے 2024 کے آخر میں ایکسپلوریشن لائسنس کی واپسی کے بعد برکینا فاسو کے خلاف ثالثی کی کارروائی بھی شروع کی۔ تورورے آہستہ آہستہ دیگر غیر ملکی ملکیتی کانوں کا کنٹرول سنبھالنے کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے۔ ترورے کی اصلاحات نے نہ صرف افریقہ بلکہ دنیا میں اس کی مقبولیت میں اضافہ کیاہے۔ جس طرح ارجنٹائن کے پاپولر صدر ہاویر مائلی نے ملک میں اسٹرکچرل ریفارمز کر کے ملک کو غربت سے نکالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اسی طرح ابراھیم ترورے بھی اصلاحات کے ذریعے غربت ختم کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ ابراہیم کی اس مقبولیت کے پیچھے سوشل میڈیا کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ ارجنٹائن کے صدر بھی سوشل میڈیا کے بڑے حامی ہے کیونکہ ان کو بھی پاپولر بنانے میں سوشل میڈیا کا بڑا کردار رہا ہے۔ تورورے نہ صرف برکینا فاسو بلکہ پورے افریقہ کی تقدیر بدلنا چاہتا ہے۔ اپنی 2023 کی ایک تقریر میں ابراھیم ترورے نے دیگر افریقی لیڈران کو مخاطب ہو کر کہا تھا کہ سامراج کی جانب سے ڈور کھینچنے پر کٹھ پتلیوں کی طرح ڈانس کرنا بند کریں۔ جس پر فرانسیسی صدر میکرون نے سخت ردعمل دیا۔ فرانس نے روس اور چین کا حوالہ دیتے اس تقریر کو افریقہ کی سابقہ فرانسیسی کالونیوں میں بغاوتوں کو اکسانے، خودمختاری اور نوآبادیاتی استحصال پر منافقانہ طور پر پرانے دلائل کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔
حال ہی میں ترورے نے روس میں دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی پر سوویت یونین کی فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ یادگاری تقریبات میں شرکت کی۔ برکینا فاسو، چین اور روس کا اشتراک بہت سی بڑی طاقتوں کو پریشان کر رہا ہے۔ مغربی طاقتوں نے جس طرح افریقہ ، ایشیا اور خطے کے دیگر ممالک کے وسائل ہتھیانے کے لئے انھیں جنگوں اور دہشت گردی کی آگ میں دھکیلا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ خاص طور پر افریقی ممالک آج بھی ان سے مکمل آزادی حاصل نہیں کر سکے۔ مثال کے طور پر کانگو دنیا کا غریب ترین ملک ہے جس میں ہیرے، سونے ، کوبالٹ اور کاپر کے علاوہ کئی قیمتی دھاتوں کا خزانہ ہے۔ ایک امیر قوم اور وسائل سے بھرپور ملک غریب کیوں ہے اس کے لئے آپ کو ایک ڈاکومنٹری دیکھنی چاہیے ، جس کا نام ہے "Blood Diamond" اس ڈاکومنٹری کو دیکھنے کے بعد یقیناً آپ کے دل سے ہیرے پہننے کی محبت ختم ہو جائے گی، جب آپ کو معلوم ہو گا کہ جو ہیرا آپ خرید کر اپنے گلے میں ڈال رہے ہیں ان پر کتنے افریقی باشندوں کے خون کے چھینٹے گرے ہیں۔ اب افریقہ میں ایک ایسا لیڈر نمودار ہوا ہے جو مغرب کو چیلنج کر رہا ہے، اپنے لوگوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف بغاوت کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ کئی رپورٹس میں اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ابراھیم کو فرانس اور امریکا قتل کرا سکتا ہے کیونکہ ایسے لیڈرز مغربی طاقتوں کے لئے بڑا خطرہ ہیں۔ ایسا لیڈر اقتدار اور کمیشن کی خاطر بڑی
طاقتوں سے غلط معاہدے اور اپنا ملک بیچنے سے انکاری ہوتا ہے۔ اب ہمارے ملک کو ہی دیکھ لیں ، پاکستان میں قیمتی معدنیات اور سونے کے ذخائر ہیں لیکن ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کہاں کھڑے ہیں اس بات کا اندازہ خود لگا لیں۔ کرپٹ حکمرانوں نے پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا۔ چالیس چالیس سال ہم ہر مسلط رہنے کے باوجود کشکول ہاتھ میں اٹھائے بھیک مانگ رہے ہیں۔ملکی معیشت آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی ہے۔ اب امریکا کے ساتھ معدنیات اور تجارت سے متعلق کیا گل کھلایا جا رہا ہے اس بارے کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ پارلیمنٹ میں اب تک اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔ عوام کو جو تھوڑا بہت معلوم ہو رہا ہے تو اس کا ذریعہ محض غیرملکی اخبارات میں چھپنے والی خبریں ہیں۔ سونا اور کاپر اور دیگر قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کے نام پر کیا فراڈ کیا جائے گا عوام کو اس پر نظر رکھنا ہو گی۔ کیونکہ پاکستان میں ابراھیم ترورے جیسا لیڈر نہیں ہے جو ٹیکنالوجی اور مہارت کو پاکستان منتقل کرنے کی بات کرے ، جو اپنی شرائط پر ملک کے وسائل بارے مثبت بات کرے۔ ہم پاکستانی تو آج بھی حکمرانوں کی جانب سے پاور پراجیکٹس میں بھاری کمیشن کی خاطر غیر ملکی کمپنیوں سے غلط معاہدوں کی قیمت آج تک چکا رہے ہیں۔