Wed, September 16, 2026

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، خطے میں نئی دفاعی صف بندی کی بنیاد بن گیا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، خطے میں نئی دفاعی صف بندی کی بنیاد بن گیا

اسلام آباد: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے کے مشترکہ دفاع اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی جریدے بلومبرگ اور آذربائیجان کے جریدے کالیبر کے مطابق معاہدہ تین اہم علاقائی طاقتوں کو ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں جوڑتا ہے، جس میں ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیے جانے کا اصول شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بدلتی ہوئی علاقائی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں نئے شراکت داروں اور علاقائی صف بندیوں کی تشکیل کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

کالیبر کے مطابق پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور فوجی افرادی قوت معاہدے کو اضافی دفاعی وزن فراہم کرتی ہے، جبکہ تینوں ممالک کے درمیان تعاون خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ٹیگز: