Wed, September 16, 2026

اسلام آباد معاہدہ امن: ہو جائے گا؟

اسلام آباد معاہدہ امن: ہو جائے گا؟

پاکستان عالمی سیاست میں پہلے ہی ایک مقام رکھتا تھا، اپنی جغرافیائی پوزیشننگ کے باعث اسے خطے کی عالمی سیاست میں ا ہم حیثیت حاصل تھی۔ حالیہ ایران، امریکہ و اسرائیل جنگ میں اسے سفارتی سطح پر بھی نہایت اہم مقام حاصل ہو گیا ہے۔ پاکستان تیسری عالمی جنگ رکوانے کا مرکزی کردار بن گیا ہے۔ آج اسے عالمی طاقتوں کی نہ صرف مکمل پشت پناہی حاصل ہو گئی ہے بلکہ پاکستان کے ثالثی کردار کو عرب و عجم نے ہی نہیں بلکہ شرق و غرب نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کو چھوڑ کر پوری دنیا پاکستان کی کامیاب ہوتی کاوشوں کو تحسین کی نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ 200 سے زائد ممالک کی نمائندہ اقوام متحدہ جو نہ کر سکی وہ تن تنہا پاکستان نے کر دکھایا ہے۔ امریکہ، ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا اعلان کر چکا تھا، اس مقصد کے لئے آلات آتش و آہن اور سامان تباہی بھی مطلوبہ مقامات تک پہنچا دیا گیا تھا۔ ایرانی قوم بھی مرنے کے لئے تُل گئی تھی۔ پوری دنیا کسی بڑی تباہی کو رونما ہوتے دیکھ ہی رہی تھی۔ امریکی الٹی میٹم کے ختم ہونے سے 9 منٹ پہلے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے ٹویٹ نے ایک عالمی جنگ کے رکنے کا اشارہ دیا۔ ایران و امریکہ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پانچ نقاطی فارمولے یعنی اسلام آباد اکارڈ پر اتفاق رائے کر کے جنگ بندی قبول کر لی تھی۔ پوری دنیا نے سکھ کا سانس لیا تباہی کی طرف بڑھتی ہوئی عالمی معیشت میں زندگی کے آثار پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ عالمی مارکیٹیں بحال ہونا شروع ہو گئیں۔ آج امریکی وفد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں یہاں اسلام آباد میں موجود ہے جس میں خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف اور امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف بات چیت کے لئے ایرانی پارلیمنٹ کے سپکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔
پاکستان نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا ہے، اس سے پہلے پاکستان اپنی غیرجانبداری ثابت کر چکا ہے اور ایک موثر ثالث کے طور پر فریقین سے اپنا آپ منوا بھی چکا ہے۔ سعودی عرب، ترکی اور ایران عالم اسلام میں قدآور ممالک کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ پاکستان عالم اسلام کی اکلوتی ایٹمی طاقت کے طور پر اپنا مقام رکھتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان عرب و عجم 
کا فاصلہ ہے۔ تہذیبی اور تمدنی اختلاف ہے۔ ترکی و سعودی عرب میں بھی سرد مہری پائی جاتی ہے۔ ایران، ترکی کو ثالث ماننے کے لئے تیار نہیں کیونکہ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، ایسے میں پاکستان ہی ایک ایسی ریاست سامنے آئی جس پر ایران بھی اعتبار کرتا ہے اور امریکہ بھی۔ محمد شہباز شریف، عاصم منیر اور اسحاق ڈار نے انتھک محنت، ذہانت اور خلوص کے ساتھ ثالثی کی جس کی بدولت تیسری عالمی جنگ رکی اور فریقین جو ایک دوسرے کو پتھر کے زمانے تک پہنچانے کے لئے تلے ہوئے تھے، مذاکرات کی میز تک آن پہنچے ہیں۔ اسلام آباد اکارڈ کرنے کے لئے ، پائیدار امن کے قیام کے لئے، پاکستان کے جے جے ہو رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا فریقین کسی پائیدار اور قابل عمل معاہدے تک پہنچ پائیں گے؟ یہ سوال اس وقت عالمی سیاست و صحافت کا انتہائی اہم موضوع ہے۔ اس جنگ کے حوالے سے فریقین کے اپنے اپنے دعوے ہیں۔ اس بارے میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ ایران نے عالمی چودھری امریکہ کی قوت کے سامنے شاندار مزاحمت و مقاومت کا ثبوت دیا ہے۔ امریکہ اور اس کے لے پالک اسرائیل پر میزائل باری اور ڈرون باری کے ذریعے قیامت صغریٰ برپا کی۔ اسرائیل کے ناقابل رسائی ہونے کے تاثر کو زائل ہی نہیں کیا، پاش پاش کر دیا۔ آئرن ڈوم مٹی کا ڈھیر ثابت کر دیا۔ ایک بات طے ہو گئی کہ اسرائیل ناقابل شکست نہیں ہے، اسے صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکی فائر پاور کا خوف بھی ختم کیا۔ امریکہ اپنی تمام تر کاوشوں کے باوجود ایران کو جھکا نہیں سکا۔ رجیم چینج بھی نہیں ہو سکی۔ ایٹمی صلاحیت کا خاتمہ نہیں ہو سکا اور ایران کی حملہ آور ہونے کی صلاحیت بھی جوں کی توں قائم نظر آ رہی ہے۔ بظاہر ایران جنگ میں بچ رہا ہے۔ اس نے امریکی جارحانہ عزائم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے لیکن اسے فاتح نہیں کہا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی و امریکی بمباری نے اس کی جتنی تباہی و بربادی کی ہے اس سے ایران کو جانبر ہونے کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہو گا۔ ایران تباہ و برباد ہو گیا ہے، اس کی کامیابی و فتح کے دعوﺅں کی تائید نہیں کی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے حواریوں و ساتھیوں کے ساتھ جو کچھ ایران نے کر دیا ہے، وہ بھی تاریخی ہے۔ خلیجی ممالک میں قائم تیرہ امریکی فوجی اڈے غیر فعال ہو چکے ہیں۔ عرب اتحادیوں پر خوف و ہراس طاری ہے۔ یو اے ای برباد ہو گیا ہے۔ قطر، کویت، سعودی عرب وغیرھم پریشان ہیں۔ امریکہ کے یورپی اتحادی اسے پہلے ہی خیرباد کہہ چکے ہیں۔ عربوں کی حالت بھی درست نہیں ہے۔ اسرائیل پر قہر خداوندی کی صورت میں ایران نازل ہوا ہے، اس کی تباہی و بربادی طشت ازبام ہو چکی ہے۔ امریکی اہداف حاصل نہیں کئے جا سکے۔ امریکی فتح کے دعوے تسلیم نہیں کئے جا رہے ہیں۔ امریکی عظمت کا بھرم تار تار ہو چکا ہے لیکن ایک بات طے ہو گئی ہے اور وہ ہے پاکستان کی فتح مبین۔ اس جنگ میں پاکستان کسی کے ساتھ نہیں تھا، وہ جنگ کا فریق نہیں تھا نہ اس پر کسی نے حملہ کیا اور نہ اس کی سرزمین کسی پر حملوں کے لئے استعمال ہوئی۔ پاکستان اس جنگ میں مکمل طور پر فریق تھا۔ جنگ کرنے یا کرانے میں نہیں بلکہ رکوانے میں۔ یہ سب کے ساتھ ساتھ صلح کرانے میں پاکستان کو فتح حاصل ہوئی جنگ رکوا کر۔ تیسری عالمی جنگ رکوا کر۔ پاکستان کی اس فتح کو سب نے بلاا کم و کاست تسلیم کر لیا ہے۔ پاکستان کو مبارکبادیں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ شہباز شریف، عاصم منیر اور اسحاق ڈار نے پاکستان کی نمائندگی کا حق کما حقہ ادا کر دیا ہے۔ پاکستان کا روشن چہرہ پوری دنیا پر آشکارہ ہو چکا ہے۔ فریقین اسلام آباد میں بیٹھے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین پر ، پاک سرزمین پر، امن و سلامتی کی سرزمین پر، اسلام آباد میں بیٹھے ہیں امن و صلح کی باتیں کرنے کے لئے، معاہدہ کرنے کے لئے، جنگ نہ کرنے کے عہد و پیمان کرنے کے لئے، ایک سوال پوری دنیا میں پوچھا جا رہا ہے کیا اسلام آباد اکارڈ ہو جائے گا؟۔
ہمارے ایک بہترین دوست ہیں ڈاکٹر نوید الٰہی سینئر بیوروکریٹ رہے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی رکھتے ہیں۔ پردے کے پیچھے بھی دیکھتے رہے ہیں۔ سرکاری معاملات دیکھنے انہیں چلانے و بڑھانے کا سرکاری تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ آج کل ایک بڑے سرکاری ادارے کے بڑے عہدے پر براجمان ہیں جہاں سرکار کے اعلیٰ افسران تربیت حاصل کرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ میں نے ان سے یہی سوال پوچھا کہ کیا امن معاہدہ ہو جائے گا تو کہنے لگے غیب کا علم تو رب کریم کے پاس ہے لیکن عام طور پر جب اعلیٰ سطحی، بہت ہی اعلیٰ سطحی وفود جب میز پر بیٹھتے ہیں تو معاملات پہلے ہی طے ہو چکے ہوتے ہیں،بس دستخط ہونا ہوتے ہیں، جس طرح کے اعلیٰ سطحی وفود امریکہ و ایران سے یہاں آئے ہیں تو مذاکرات کی میز پر اسی لئے بیٹھ گئے کہ معاہدہ ہو جائے۔ ان شاءاللہ پاکستان کی عزت میں اور بھی اضافہ ہو گا۔ امن معاہدہ ہو کر رہے گا، ان شاءاللہ۔

ٹیگز: