واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچ چکے ہیں اور آئندہ ایک ہفتے کے دوران فریقین کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پا جائے گا۔ امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں نہ صرف جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی، بلکہ عالمی معیشت اور بحری تجارت کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل 'آبنائے ہرمز' کو بھی جہاز رانی کے لیے دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث ایران کی طرف سے پیغامات کا تبادلہ اچانک معطل کیے جانے پر امریکی صدر متحرک ہو گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے تہران کے اس اقدام کے فوری بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ہنگامی رابطہ کیا اور خطے کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ سفارتی عمل کو بچانے کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیروت اور دیگر لبنانی علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کو فوری لگام دی جائے گی تاکہ ایران کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کی کوششوں کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔