اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دوطرفہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کی باضابطہ منظوری دی گئی۔
وزیراعظم نے اجلاس کے دوران کابینہ اراکین کو اپنے حالیہ سعودی عرب، قطر، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اور ملائیشیا کے سرکاری دوروں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ ان دوروں کے دوران باہمی تعاون، سرمایہ کاری، اور علاقائی استحکام سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی۔
کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے رہنماؤں کو دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے پر خراجِ تحسین پیش کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اجلاس میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے زیرِ استعمال 15 ناقابلِ پرواز طیارے (جن میں 8 سیسنا اور 7 فلیچر شامل ہیں) مختلف تعلیمی، تحقیقی اور نمائشی اداروں کو عطیہ کر دیے جائیں گے۔ یہ اقدام اُن نیلامیوں کے بعد اٹھایا گیا ہے جو پہلے کامیاب نہیں ہو سکیں۔
مزید برآں، چار قابلِ پرواز بیور طیارے بدستور ٹڈی دل کے خاتمے کے آپریشنز میں محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے استعمال میں رہیں گے۔
وفاقی کابینہ نے وزارتِ آبی وسائل کی سفارش پر واپڈا کے ڈیموں اور پن بجلی منصوبوں کی حفاظت کے لیے ایک نئی خصوصی سیکیورٹی فورس کے قیام کی اصولی منظوری بھی دے دی۔ اس مقصد کے لیے "واپڈا سیکیورٹی فورس ایکٹ 2025" کے تحت قانون سازی کی جائے گی۔
کابینہ نے مزید اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 2 اکتوبر 2025 اور کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 22 ستمبر 2025 کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔
تاہم، کابینہ نے ہدایت دی کہ آلٹرنیٹ میڈیسنز اینڈ ہیلتھ پراڈکٹس اینلسمینٹ رولز 2014 میں مجوزہ ترامیم پر غور کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جو تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے۔