گزشتہ ہفتے قصور کے قریب ایک فارم ہاؤس میں منعقدہ مشاعرے میں جانا ہوا۔ کوئی ٹکٹ نہیں تھا۔ فری انٹری تھی۔ ایک دوست شاعر نے مجھے ساتھ چلنے کو کہا۔ لاہور سے ہم دونوں مغرب کے بعد نکلے اور قصور کے قریب واقع فارم ہاؤس پہنچ گئے جہاں مشاعرہ منعقد کیا گیا تھا۔ فارم ہاؤس کے لان کو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ سٹیج پر پھولوں کی عین ولیمے والی سیج تھی جس پر پانچ چھ افراد پھنس پھنسا کر بیٹھ گئے تھے۔ سامنے ایک بڑے گول دائرے میں حاضرین محفل بھی تشریف فرما تھے۔ تھوڑی دیر مشاہدے کے بعد اندازہ ہوا کہ حاضرین بھی غزل بردار، مستند یا مسترد شعرا کرام ہی ہیں۔ انھیں بڑی تعداد میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ یعنی جو پہنچ سکتا ہو پہنچ جائے۔ مجھے اس صورت حال سے یاد آیا ریلوے بازار کے پرانے لنڈے کی بعض دکانوں پر ایسا مال جو فروخت کے قابل نہ رہا ہو، دیوار پر اس نوٹ کے ساتھ لگا دیا جاتا تھا " جسے پورا آئے، لے جائے"۔ سو اس چڑیا گھر میں بھی جو پہنچ سکتا تھا پہنچ گیا۔ شعرا کے ہمراہ کچھ گلوکار، جگت باز، بھانڈ اور بازی گر بھی شامل تھے۔ یعنی ایک شاعر کے بعد کسی گلوکار کو اور اس کے بعد کسی بھی کرتب کے لیے کسی بازی گر کو دعوت دی جا سکتی تھی۔
منتظمین صاحبِ ذوق لوگ تھے اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ لان کے سامنے ہی بار بی کیو کا انتظام کیا گیا تھا۔ تازہ گوشت منگوا کر سیخوں پر سجا رکھا تھا۔ جیسے ہی کوئلوں کے دھوئیں کے ساتھ بار بی کیو کی خوشبو ہوا کے جھونکوں میں شامل ہوتی ہوئی شاعروں تک آتی، داد میں ایک آدھ "واہ" کا اِضافہ ہو جاتا تھا۔ ہم پہنچے تو شاعری کی برسات جاری تھی۔ بعض جوانوں نے جوشِ خطابت کے تمام گْر اور بلند خوانی کی آخری سطح بروئے کار لاتے ہوئے شعر داغے۔ اس کی حکمت ہمیں کچھ یوں سمجھ آئی کہ بھئی نئے دور میں سڑکوں پر رکشوں اور گاڑیوں کے شور کی وجہ سے شاعر نرم اور شگفتہ لہجے میں شعر پڑھنا چھوڑ چکے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ آواز کسی رکشے کی آواز کے نیچے دب جائے اور قاری پر شعر کھل نہ سکے، بس اسی لیے شعر کم از کم اتنا زور دار ضرور پڑھا جائے کہ کوئی رکشہ خواہ سائلنسر اتار کر بھی آ جائے، شعر کی آواز کو دبا نہ سکے۔
کچھ خواتین نے "داد" میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ داد بھی فن کارانہ پرفارمنس شمار کی جاتی ہے اور اگر آپ بے تکان داد دے سکتے ہیں تو آپ ہر مشاعرے کی ہر دلعزیز شخصیت تصور کیے جا سکتے ہیں۔ شاعرات نے دلچسپ غزلیں پیش کیں۔ البتہ نئے دور نے جو ڈائٹنگ کا فیشن پیدا کر دیا ہے اس کی وجہ سے کسی نہ کسی مصرعے کا وزن کم ہو جاتا تھا۔ لیکن بعض ذہین شاعرات نے اس کا حل بھی تلاش کر لیا تھا۔ وہ ایسے اشعار کو گنگنا کر یا ترنم سے پیش کر رہی تھی جن میں " ہو ہو ہو، ہا ہا ہا" یا پھر "ہممم" کو لمبا کر کے وزن برابر کیا جا سکتا ہے۔
کچھ سینئر حضرات نے پرانی بیاضیں کھنگال کر اپنے سکول دور کی غزلیں پیش کیں اور عوام کی سہولت کے لیے وہ ساتھ ساتھ تشریح بھی کرتے جاتے تھے۔ ناظمِ محفل کی کارکردگی بھی خاصی دلچسپ تھی۔ حضرت نے کیا پر تکلف نظامت فرمائی۔ صرف تلفظ، لہجے اور فقروں کی درستی کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو کوئی بھی ان کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے گا۔ قبلہ نے رفیع الدین سودا کے قصیدوں سے سارے مبالغہ آمیز مضامین محفل میں موجود شعرا کو دعوت دینے پر صرف کر دیئے۔ کبھی کبھار ایسی شان بیان کرنے لگتے تھے کہ سیدھے سادے شاعر پر چنگیز خان ہونے کا گمان ہونے لگتا تھا۔ ایک گلوکار کی شان بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا "دل شیشے سا نازک، گردے شبنم جیسے حساس، اور آنکھیں رنگوں کی قوسِ قزح لیے ہوئے ہیں"۔۔۔۔
سب سے زیادہ حیرت انگیز عجائبات مشاعرے کے آخری حصے میں دیکھنے میں آئے جب صدرِ محفل سے پہلے والے دو بڑے بڑے شعرا کرام نے اچھل کود کے ساتھ کچھ بے وزن اشعار پیش کیے۔ صدرِ محفل نے جھوم جھوم کر نہ صرف داد دی بلکہ مزید دو چار کی فرمائش بھی کر دی۔ میرے خیال سے شعر کو اگر اچھل کود کے ساتھ زوردار اور دھماکہ خیز بنانا مقصود ہو تو کچھ ہتھیار یا اوزار کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً مذکورہ محفل میں اگر شعر کے ساتھ چمٹا، نقارہ یا طنبورہ بھی بجایا جاتا تو شعر دل پر زیادہ لگتا۔ اور اگر جذبہ کی شدت قابو میں نہ رہے تو توپ چلا کر بھی یہ کام انجام دیا جا سکتا ہے۔
ہمارے ادبی ذوق کے زوال کی علامات میں مشاعروں کو سرکس بنا کر پیش کرنا بھی شامل ہے۔ اگر شعر و ادب کے ذریعے بھی اعلیٰ افکار اور ارفع فنی کمالات پیش نہیں کیے جا رہے تو یہ مظاہرہ کہاں دیکھنے کو ملے گا؟ مشاعرے کو صرف سستی شہرت کا وسیلہ بنانا اور سوشل میڈیائی مواد میں اضافے کا ذریعہ سمجھنا افسوس ناک ہے۔ ادبی سنگتوں، انجمنوں اور حلقوں کے منتظمین کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں ان افراد پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو بطور صدر یا مہمان خصوصی ہار پہن کر سٹیج پر سج سنور کر بیٹھتے ہیں۔ بے وزن شاعری پر جھومنا بہت ضروری بھی ہو تو کم از کم اپنا کلام ایسا ضرور پیش کریں جس سے اعلیٰ ادبی ذوق کی نشو نما کی جا سکتی ہو۔ تا کہ مشاعرہ سننے اگر کوئی غیر شاعر غلطی سے آ ہی جائے تو اسے روایتی سٹیج ڈرامے اور ادبی محفل کے معیار میں فرق ضرور محسوس ہو۔ آخر میں ظفر اقبال کے دو اشعار دیکھیے
لب پہ تکریمِ تمنائے سبک پائی ہے
پسِ دیوار وہی سلسلہ پیمائی ہے
پھر سرِ صبح کسی درد کے در وا کرنے
دھان کے کھیت سے اک موجِ ہَوا آئی ہے