گزشتہ دنوں مجھے ایک مشاعرے کا کارڈ ملا۔ بغور دیکھنے پر معلوم ہوا شعرا میں میرا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ دیگر دو تین درجن شعرا میں نئے پرانے، پیر و جوان، محمود و ایاز سبھی شامل تھے۔ منتظمین نے غالباً فرط جذبات میں ایک مرحوم شاعر کا نام بھی شامل کر لیا تھا۔ اس قسم کے مشاعرے کا انعقاد اگر زبردستی کسی تعلیمی ادارے میں نہ کیا جائے اور سامعین کو جبراً حاضر نہ کیا جائے تو سامعین کی تعداد شعرا پر ہی مشتمل ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ کم ہوتی چلی جاتی ہے۔
اسی سال قصور کے قریب ایک فارم ہاؤس میں منعقدہ مشاعرے میں شہزادہ نیئر مشاعرے کی صدارت فرما رہے تھے۔ سامعین میں با وزن اور بے وزن شعرا کی کثیر تعداد شامل تھی۔ کھانے کی فراوانی کے باوجود بعض شعرا کرام اپنا کلام سنانے کے بعد کھسکتے جا رہے تھے۔ حتیٰ کہ صاحب صدارت کو کرسی صدارت خطرے میں محسوس ہونے لگی سو انہوں نے غنیمت جان کر آخر میں چند اشعار سنا کر محفل برخاست کی۔ اسی طرح لاہور کی ایک سرکاری یونیورسٹی کے مشاعرے میں یہی حال دیکھنے کو ملا۔ سعود عثمانی صاحب مشاعرے کی صدارت فرما رہے تھے۔ پانچ چھ درجن شعرا کا کلام سنتے سنتے شعرا کے ساتھ سامعین بھی کھسکنے لگے۔ جب جناب صدر کی باری آئی تو چند افراد ہی ہال میں موجود تھے۔
مجھے ترو تازہ مشاعرے کا کارڈ دیکھ کر کیسپیئن سی کا بوفے یاد آ گیا۔ کیا بہترین اہتمام کیا جاتا ہے۔ دو درجن ڈشیں رکھی جاتی ہیں۔ کھانے والا ہر ایک ڈش سے ذرا ذرا سا چکھ لے لیکن کسی ایک شے کا ذائقہ بھی اثر نہیں کر پاتا۔ ذائقے کے علاوہ کیفیات، احساسات بھی ملے جلے کھٹے میٹھے، جلتے بجھتے رہتے ہیں۔ بعض افراد پلاؤ، قورمہ، متنجن اور کھیر ایک ہی پلیٹ میں انڈیل کر کھاتے ہیں۔ ساتھ گلاب جامن، مچھلی، مرغی، بکرا اور گائے کا گوشت بھی ملا جلا کر استعمال کر لیتے ہیں۔ یہ مرحلہ کثیرالانتخابی پرچہ حل کرنے جیسا ہوتا ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ بوفے نے ہماری صحت کے علاوہ نفسیات پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے اور ہمارے معاشرتی رویے تشکیل دینے میں کھانے پینے کی کثیر الانتخابی عادات کو بڑا دخل حاصل ہے۔ ہمارے بڑے تو کھانے کی رنگ برنگی ملاوٹ کو تہذیب کے خلاف شمار کرتے تھے۔ ایک عزیز جن کا تعلق لکھنؤ سے تھا پاکستان کے سابق صدر ممنون حسین کے گھر کی دعوت کا ذکر کر رہے تھے۔ بتانے لگے کہ ان کا باورچی کئی پشتوں سے انہی کے خاندان میں کام کرتا آ رہا تھا۔ بھئی کھانے کیا بناتا تھا ہندوستانی مسالا جات کی مدد سے پورے دسترخوان کی تہذیب کا اظہار کرتا تھا۔ صدر صاحب نے پلاؤ کی ٹرے آگے کر کے دانے دار قورمے کی تعریف کی پھر کہنے لگے ’’اب چاولوں پر قورمہ نہ ڈال لیجئے گا، دونوں کا ذائقہ مختلف اور ایک دوسرے سے جدا ہے‘‘۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج کل مشاعروں میں بھی بوفے کی خصوصیات دانستہ پیدا کر دی گئی ہیں۔ آپ رومانوی غزلوں کے ساتھ آئٹم غزلیں بھی سن سکتے ہیں۔ پرانی عاشقی کے نئے اور سستے مسائل کے بعد مزاحیہ شاعری حتیٰ کہ جگت بازی سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ بعض شعرا کلام سنانے سے زیادہ کلام پر پرفارم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بعض کی کوشش ہوتی ہے کہ مائیک کے وجود کو یکسر نظر انداز کر کے آواز عوام تک پہنچا دی جائے۔
مشاعروں میں سب سے زیادہ دلچسپی متشاعروں کی ہونے لگی ہے۔ پنجاب کے بعض علاقوں کے متشاعروں کی ویگن ہر وقت تیار رہتی ہے۔ کہیں کوئی مشاعرہ پیدا ہونے کی خبر پھیلی، یہ بھری بھرائی ویگن مبارکباد کے ساتھ آن پہنچی۔
بھئی میر و مرزا کے عہد کے مشاعروں کی تو کیا ہی بات ہے۔ ان کے بعد بھی مشاعروں میں کبھی فیض احمد فیض اور جوش ملیح آبادی کی شاعری اپنے تخلیقی جوہر کے ساتھ انقلابی افکار اور رومانی لب و لہجے کے امتزاج سے ظہور پاتی تھی۔ جوش کے حوالے سے ایک بات کرتا چلوں کہ ڈاکٹر ہلال نقوی نے جوش کی نظم پر جو تحقیقی کام کیا ہے وہ جوش کے فن کو نئے زاویوں سے سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ جوش کے مقام و مرتبے کو سمجھا نہیں گیا۔ ان کے کلام پر معیاری تحقیق و تنقید کم کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
مشاعرے کی روایت میں کبھی کبھی ثروت حسین بھی نظر آتے ہیں۔ زبان کا تخلیقی برتاؤ اور شعر میں معنی آفرینی ثروت کی شاعری کے محاسن میں سے ہے۔ سلیم کوثر، احمد مشتاق، اظہار الحق، سے لے کر شاہین عباس، اختر عثمان، عامر سہیل، سلیم شہزاد اور وحید احمد تک بہت سے شعرا نے مشاعروں میں بھی شاعرانہ وقار کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ فنی جمالیات سے اپنے سامعین کی فنی تربیت بھی کی ہے۔
کچھ شاعر دوست کہتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس نسل کو شعر سنانا ہوتے ہیں جو دیکھ کر اردو پڑھنے سے بھی قاصر ہے۔ نئی نسل کی اکثریت نثر میں کہی گئی ادبی بات تک بھی رسائی نہیں رکھتی۔ اس ضمن میں خاکسار کا سوال یہ ہے کہ نئی نسل کو اس حالت تک کس نے پہنچایا ہے؟ ان کے ادبی ذوق کی نشو و نما کس کے ذمہ تھی؟ کس طبقے نے ان کی ادبی تربیت کرنا تھی؟ شاعری کو فقط مسخرے پن اور انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ بنانے کا سہرا کس کے سر ہے؟ شاعری کو سستی تفریح بنا کر قوم کو اس قابل بھی نہیں چھوڑا گیا کہ نوجوان کسی کلاسیکی، نو کلاسیکی یا جدید شاعر کا کلام پڑھ سکے۔ اوزان، عروض، تلفظ کا تو رونا ہی الگ ہے یہاں تو ٹیلی ویژن چینلز پر غلط املا کے خصوصی اہتمام کے ساتھ خبریں نشر کی جاتی ہیں۔ کم از کم ادب کے سنجیدہ قارئین اور شعر و ادب سے لگاؤ رکھنے افراد، ادبی تنظیموں اور حلقوں کو اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے ورنہ آنے والے دور میں سرکس کا ایک حصہ مشاعرہ بھی ہوا کرے گا۔