برسلز : یورپی یونین نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اور اس کے ججوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو آزادانہ طور پر کام کرنے دینا ضروری ہے تاکہ دنیا میں انصاف قائم رکھا جا سکے۔
یورپی کمیشن کی صدر اورسلا وان ڈیر لائن نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ آئی سی سی بڑے جرائم میں ملوث مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لاتی ہے اور متاثرہ افراد کو آواز دیتی ہے، اس لیے اسے کسی دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت ملنی چاہیے۔
امریکہ نے حال ہی میں آئی سی سی کے چار اہلکاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں دو وہ جج بھی شامل ہیں جنہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف ممکنہ گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے عمل میں حصہ لیا تھا۔ باقی دو جج افغانستان میں امریکی فوج کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کا حصہ تھے۔
یورپی کمیشن کی ترجمان انیتا ہیپر نے ان پابندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین عدالت اور اس کے عملے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا نے بھی آئی سی سی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ مظلوموں کے حق میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، نہ کہ طاقت کی۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں، اس کے باوجود عدالت کی کارروائی پر ردِعمل ظاہر کر رہے ہیں۔