کوئی سو سوا سو برس پہلے انگلستان دنیا کا حاکم ہوا کرتا تھا لیکن پچھلی صدی کے پہلے نصف کے دوران دونوں عالمی جنگوں کے بعد اسکی اقوام عالم پر سامراجی گرفت کمزور پڑتے پڑتے ختم ہو کر رہ گئی تو امریکہ اور سوویت یونین کے روپ میں دو ممالک بڑی طاقت بن کر عالمی افق پر ابھرے اور ایک دوسرے کو پچھاڑنے اور برتر طاقت کا عالمی تاثر قائم کرنے کے لئے اگلی نصف صدی تک دست و گریباں رہے۔ امریکہ سوویت یونین کی نسبت زیادہ شاطر نکلا۔ امریکیوں نے سوویت یونین کی معیشت کو ٹارگٹ کیا اور سوویت یونین پر معاشی دباؤ مسلسل بڑھاتے بڑھاتے اسی معاشی بد حالی کے سبب اسے تحلیل کے عمل کے حوالے کر دیا۔
سوویت یونین کیلئے اپنے تاروپود قائم رکھنا دشوار ہوئے تو اس سے 15 ریاستیں آزاد ہو گئیں۔ سوویت یونین ٹوٹا تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ بجائے خود دنیا کا واحد حکمران بن گیا اور طاقت کے خمار میں کئی کمزور مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی۔ جس وقت امریکہ طاقت کے نشے میں خود کو عالمی تنازعات میں بلا جواز الجھا رہا تھا تو ڈینگژیاؤ پنگ کی قیادت میں چین کروٹ لے رہا تھا. طاقت کے نشے میں چور امریکہ نے اسی چینی کروٹ کو درخوراعتناء سمجھا اور چین نے 80 اور 90 کی دہائیوں میں پہلی معاشی انگڑائی لے لی۔
ڈینگ جدید چین کے نمایاں لیڈر بن کر سامنے آئے اور چین خود کو عالمی تنازعات میں الجھاے بغیر آگے بڑھتا رہا تا آنکہ 2012ء میں شی جن پنگ نے چین کو اس معاشی و معاشرتی اور سیاسی و سفارتی جہت سے روشناس کرایا کہ امریکہ کیلئے اسے روکنے کی ایک نہ بن پائی اور چین امریکہ کے اثر سے نکلتا گیا۔ شی جن پنگ نے ڈینگ کے خطوط پر آگے بڑھتے ہوئے چین کو ہر شعبے میں بے مثال ترقی سے ہمکنار کر دیا اور اسی چینی تیز رفتار ترقی و خوشحالی نے امریکہ کیلئے نئے چیلنجز کھڑے کر دیئے۔ڈینگ نے چین کو مرکزی منصوبہ بند معیشت سے زیادہ عالمی مارکیٹ پر مبنی سوشلسٹ نظام کی طرف منتقل کیا جس سے چین عالمی معیشت میں بتدریج سرایت کرتا گیا۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور تجارت اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے شینزین اور ہینان جیسے اکنامک زونز قائم کیے جس سے چینی برآمدات اور انسانی ترقی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
گزشتہ صدی کی طرح اس صدی میں بھی عالمی نظام اور طاقت کا توازن ایک بار پھر تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ چینی عوام اور چین کو روکنا اب امریکہ اور یورپ کے بس کی بات نہیں رہی۔ انسانیت ایک بار پھر امن یا جنگ، مکالمے یا محاذ آرائی اور باہمی فائدے یا اپنے فائدے کیلئے دوسرے کے نقصان کے کھیل کے درمیان انتخاب کے دوراہے پر کھڑی ہے۔ امن و استحکام کی متمنی انسانیت کو کسی بھی فسطائی طاقت کی جانب نہیں دھکیلا جانا چاہئے۔چین نے دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جاپان کی شکست کے 80 سال مکمل ہونے کی یاد میں بیجنگ میں فوجی طاقت کا ایسا پرشکوہ مظاہرہ کیا کہ ہزاروں کلومیٹر دور امریکہ نے اس کی شدت اور حدت محسوس کی۔بیجنگ کے وسیع و عریض تیانمن اسکوائر جسے مجھے کئی بار دیکھنے کا موقع ملا میں ہونیوالی پریڈ میں شی جن پنگ کے ساتھ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن, شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اْن اور وزیراعظم شہباز شریف خصوصی طور پر صف اول میں موجود تھے۔ اس پریڈ میں 26 ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔
چین پرامن اور پائیدار ترقی کے راستے پر گامزن رہنے کیلئے پْرعزم ہے۔ چین تاریخ کی درست سمت پر انسانی ترقی کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مشترک مستقبل پر مبنی انسانی معاشرے کی تشکیل کیلئے کام کرنے کو تیار ہے۔ تیانمن اسکوائر میں کئے جانے والے خطاب کے بعد صدر شی نے کھلی گاڑی میں فوجی دستوں اور جدید ہتھیاروں کا معائنہ کیا جن میں ہائپر سونک میزائل،زیر آب ڈرونز اور ہتھیاروں سے لیس روبوٹ وولف بھی شامل تھے۔ چین نے یوم فتح کی فوجی پریڈ میں پہلی بار اپنی زمینی،سمندری اور فضائی تزویراتی طاقتوں کو سہ جہتی جوہری نظام کے طور پر پیش کیا۔ پریڈ میں مائع ایندھن سے چلنے والے جدید بین البراعظمی اسٹرٹیجک جوہری میزائل ڈی ایف فائیو سی جس کی رینج 20 ہزار کلومیٹر ہے کو پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ دشمن کے دفاعی نظام کی زد میں آئے بغیر ہدف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
بیجنگ نے فضائی دفاع کیلئے استعمال ہونے والے جدید ترین لیزر اور ہائی پاور مائیکرو ویو ہتھیار متعارف کروا دیے ہیں. چین پہلی بار غیر معمولی صلاحیتوں اور ڈیزائن کے حامل جنگی ڈرونز اور بغیر پائلٹ اڑنے والے ہیلی کاپٹرز بھی سامنے لے آیا ہے۔ بیجنگ میں ہونے والی اس پریڈ کی تپش محسوس کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن, شی جن پنگ، اور کِم جونگ اْن بیجنگ میں امریکا کے خلاف سازش کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں دوسری طرف امریکی زیر اثر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کا کہنا ہے کہ چین کی سرکردگی میں ایک نیا عالمی نظام تشکیل پا رہا ہے۔ تیانمن اسکوائر بیجنگ پریڈ نے موجودہ عالمی نظام کو چیلنج کر دیا ہے۔ چین کی سرپرستی میں عالمی سطح پر ہونے والی ہلچل میں یورپ اور امریکا اپنی جیو پولیٹکل طاقت کا مظاہرہ نہیں کر سکیں گے کیونکہ تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے زمینی حقائق کو قبول نہ کرنے والا امریکہ چین کے متعارف کردہ نئے جیو پولیٹیکل، جیو اکنامک اور جیو اسٹریٹیجک ڈاینیمکس کو زمینی حقائق کے برعکس نخوت سے دیکھ رہا ہے۔
تیانجن میں ایس سی او اجلاس کے بعد بیجنگ میں منعقد ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی عظیم الشان فوجی تقریب پر ٹرمپ اور یورپی یونین کی پریشانی بجا لیکن ایسا لگتا ہے جیسے عالمی قیادت کا کھیل امریکہ کے ہاتھوں سے تیزی سے سرک رہا ہے کیونکہ امریکہ چین کے متعارف کردہ نئے ڈاینیمکس کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی پالیسی تبدیل کرنا اپنی توہین اور چین کے ہاتھوں شکست سمجھتا ہے۔ امریکہ اسی بدلتی حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے کہ دنیا جنگوں کی نہیں امن،ترقی اور استحکام کی خواہاں ہے۔ چین کا معاشی و معاشرتی فلسفہ ہی یہ ہے کہ وہ پرامن و پائیدار ترقی میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کا خواہاں ہے۔ زندگی، خوشحالی،امن و امان، احترام اور باہمی قبولیت کے اسی چینی فلسفہ فکر و نظر نے ان تمام ممالک کو چینی حلقہ اثر میں لا کھڑا کیا ہے جو امریکہ کے فسطائی فلسفہ و فکر سے عاجز آ چکے ہیں۔ امریکہ بھی چین کی روش اپنا سکتا ہے لیکن اس کیلئے امریکہ کو اقوام عالم کیلئے بھوک پر تمانیت و آسودگی, بربادی پر ترقی، جبر پر تعاون اور موت پر زندگی کو ترجیح دینا ہو گی۔ امریکہ نفرت ،تعصب، اور تقسیم کی سیاست پر یقین رکھتا ہے جبکہ چین زندگی، محبت،ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کو اجتماعی انسانی ترقی کیلئے لازم قرار دیتا ہے۔