اسلام آباد : امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے اور پاکستان کے 'ثالث' کے طور پر ابھرنے پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ جہاں حکومتی اتحادی اسے پاکستان کی تزویراتی فتح قرار دے رہے ہیں، وہیں اپوزیشن نے بھی اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے اسے عوامی ریلیف سے جوڑ دیا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے دانشمندی اور امن کے لیے غیر متزلزل وابستگی کے ساتھ عالمی قیادت کا مظاہرہ کیا۔بلاول بھٹو نے واشنگٹن اور تہران کی قیادت کو بھی سراہا کہ انہوں نے کشیدگی کے دہانے سے پیچھے ہٹ کر تباہی کے بجائے مذاکرات کا راستہ چنا۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے محتاط انداز میں اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاایران، امریکا جنگ بندی میں جس کسی نے بھی (سول یا عسکری قیادت) اپنا حصہ ڈالا ہے، ہم اسے سراہتے ہیں۔ انہوں نے گلہ کیا کہ حکومت نے پارلیمنٹ یا اپوزیشن کو اس اہم ثالثی کے عمل سے بے خبر رکھا۔
معاشی ثمرات: بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کے بعد عالمی مارکیٹ کے حالات بدلیں گے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف دے۔