پاک افغان سرحد پر گھمسان کی جنگ جاری، پاک فوج کے بہادر سپوتوں غازیوں اور مجاہدوں نے 26 اور 27 فروری کی درمیانی شب پاکستان کے 15 سیکٹروں میں 52 مقامات پر خوارج کے حملوں کی کوششیں نہ صرف ناکام بنادیں بلکہ چند گھنٹوں بعد ہی افغانستان پر جوابی حملوں میں وہ تباہی مچائی کہ افغان رجیم کے ترجمان ناک رگڑنے اور مذاکرات کی دہائی دینے پر مجبور ہوگئے۔ افغانستان کے بے آب وگیاہ پہاڑ پاک فوج کے فضائی حملوں اور بھاری توپ خانے کی گولہ باری سے تھرا اٹھے۔ غاروں اور فوجی چوکیوں میں چھپے خوارج کی لاشیں بکھری پڑی ہیں، بے گورو کفن لاشیں قبروں میں اتارے جانے کی منتظر۔ 45 سال تک پاکستان کا نمک کھانے والے نمک حراموں نے رمضان المبارک کے تقدس کا خیال تک نہ کیا، سحری افطاری کے اوقات میں حملے جاری رکھے، ملک دشمنوں کی سہولت کاری میسر، ”پاسباں مل گئے اعداءکو صنم خانوں سے“ بھارت اسرائیل اور امریکہ کی معاونت، منافقین کی حمایت، 23 ہزار خوارج اور 75 سے 85 ہزار فوج رکھنے والی طالبان رجیم 25 کروڑ کی آبادی والے ایٹمی ملک پاکستان پر حملوں کی غلطی کر بیٹھی۔ ایئر فورس سے محروم، ادھار کے دو چار ہیلی کاپٹروں، کواڈ کاپٹرز، پرانے ناکارہ روسی ٹینکوں اور امریکی فوج کے چھوڑے ہوئے 7 ارب 20کروڑ کے ہتھیاروں پر بھروسہ کرتے ہوئے پاکستان پر چھپ کر وار کرنے والوں کو پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملا۔ پاکستانی فوج نے اینٹ سے اینٹ بجادی، آئی ایس پی آر کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعہ کے روز پریس بریفنگ میں میدان جنگ کی صورتحال اور پاکستانی فوج کی فتوحات کے دستاویزی ثبوت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایبٹ آباد، نوشہرہ اور دیگر شہروں میں ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے۔ تمام کواڈ کاپٹرز گرالئے گئے 135ٹینک، 89 چیک پوسٹیں، ہیڈ کوارٹرز، اسلحہ ڈپو اور فوجی گاڑیاں تباہ کردی گئیں، 18چیک پوسٹوں پر پاکستانی فوج کا قبضہ، قومی پرچم لہرا دیے گئے، 40 بھاری توپیں ناکارہ، 22 چھاﺅنیاں اڑا دی گئیں، تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 350 خوارج جہنم واصل (ہمیشہ اس میں رہیں گے) 600 زخمی پاکستان کے 12 فوجی جوان شہید، 27 زخمی ہوئے۔ پاک فوج نے افغانستان کے وسیع علاقہ پر قبضہ کرلیا، ننگر ہار، کابل، قندھار اور دیگر شہروں پر فضائی حملوں سے خوف وہراس، چھوٹے بڑے شہر تاریکی میں ڈوبے رہے، افغان رجیم کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کے زخمی اور ایک وزیر کی ہلاکت کی اطلاعات، ذرائع کے مطابق ملا عمر کے بیٹے وزیر دفاع ملا یعقوب کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، ملا یعقوب موٹر سائیکل پر فرار ہوتے دیکھے گئے، افغان شہری خوف وہراس کا شکار، کابل میں پاکستان زندہ باد کے نعرے سنائی دیے جس کے بعد خبر پھیل گئی کہ پاک فوج نے کابل پر قبضہ کرلیا ہے۔ سراج الحق حقانی کے مطابق ہفتہ کی رات سحری کے وقت طالبان (خوارج ) کے تمام گروپوں نے پوری قوت سے پاکستانی سرحد پر حملہ کیا تو پاک فوج نے ان کا حملہ پسپا کردیا، واخان جانے والے راستے پر قائم ایئر بیس کو تباہ کردیا گیا۔ ننگر ہار، پکتیا اور پکتیکا کے فوجی ہیڈ کوارٹرز بھی خاک کا ڈھیر بنا دیے گئے، علاقے کے ممالک چین، روس، ایران، ترکیہ، ملائیشیا، برطانیہ، اقوام متحدہ سمیت دیگر ملکوں کی تشویش، ثالثی کی پیشکش، مذاکرات کے جال میں پھانسنے کی کوشش، جواب ملا نوسیز فائر، افغان حکومت کو اب پاکستان اور دہشتگردوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پاک فوج کی پیش قدمی کے بعد افغان رجیم کے خاتمہ کے امکانات ظاہر کیے جانے لگے ہیں، جبکہ افغان عوام کی جانب سے مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان سے جانے والے افغانوں کا کہنا ہے کہ ”شکل مومناں کرتوت کافراں“ ملائی رجیم مسلمان نہیں حزب المنافقین اور شیطان کے پیروکار ہیں۔ اسلام میں نابالغ بچیوں اور جوان لڑکوں کے ذریعہ خود کش دھماکوں، اسکولوں، کالجوں پر حملوِں، عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسرائیل سے ہاتھ ملانے اور جپھی ڈالنے والے مودی سے اسلحہ اور ٹرمپ سے ڈالر لے کر اسلامی ملک پاکستان پر گوریلا حملے کرنے والے ہر گز مسلمان کہلانے کے حقدار نہیں، اب تک 87 بلین ڈالر اور ہر ماہ 10 ملین ڈالر امداد دینے والے امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی فوجی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا افغانستان کے ساتھ پاکستان بہت اچھا کر رہا ہے، میں مداخلت نہیں کروں گا، پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عظیم ہیں میں دونوں کی بہت عزت کرتا ہوں، ہلا شیری مل گئی قطر کی زیر سرپرستی چلنے والا الجزیرہ ٹی وی خوارج کو فریڈم فائٹر قرار دے رہا ہے، ڈیورنڈ لائن کو بھی فرضی کہتا ہے۔ خوارج کی سرپرستی اور مالی امداد کرنے والے دوچار اسلامی ملکوں کو اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے، خوارج طالبان کی شکل میں دجالی، شیطانی لشکر اور زمین پر خدا کا عذاب ہیں ان سے جلد چھٹکارا حاصل کیا جائے اور ان کا مکمل خاتمہ کر کے افغانستان میں اسلام اور پاکستان دوست منتخب حکومت کا قیام خطہ میں امن کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خطہ میںجنگ کے بادل گہرے ہو رہے ہیں، بڑی طاقتیں ایک طرف مذاکرات اور ثالثی کی پیش کشیں کر رہی ہیں جبکہ دوسری طرف امریکا اور اسرائیل نے 700 طیاروں کے ساتھ ایران پر حملہ کردیا ہے۔ خبروں کے مطابق ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای اور صدر پژشکیان کی رہائشگاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ ادھر قطر، سعودی عرب، بحرین، کویت، اردن اور دیگر عرب ملکوں میں قائم امریکی اڈوں پر میزائلوں سے حملے مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں جنگ پھیلنے اور تیسری عالمی جنگ کے خدشات کو ہوا دے رہے ہیں، اللہ اپنا کرم کرے لیکن اپنے دیس میں بھی دشمنوں کے مامے چاچے مختلف پہلوﺅں سے ان کی حمایت اور انہیں تحفظ کی ”شال“ میں محفوظ رکھنے کے درپے ہیں۔ قائد حزب اختلاف دل و جان سے پشتونستان کے حامی ہیں، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور ان کے معاون خصوصی شفیع اللہ جان نے حالیہ جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے خوارج سے مذاکرات کی بات کی جس پرانہیں خاصا لتاڑا گیا۔ پی ٹی آئی اپنے اختلافات میں اتنی الجھی ہوئی ہے کہ اسے پاک افغان جنگ پر بات کرنے کی فرصت نہیں، ڈنڈا فورس، ٹائیگر فورس کے بعد رہائی فورس بھی ڈبہ فورس ثابت ہو رہی ہے۔ طالبات کابل میں خود کش بمباروں کی بھرتیاں کر رہے ہیں لیکن پشاور میں رہائی فورس کے کرتا دھرتا چپ سادھے بیٹھے ہیں، بڑے خان صاحب کی عید سے پہلے رہائی کے اعلانات کرنے والوں کا کھیل ختم ہوگیا۔ کہیں نہیں جا رہے کچھ نہیں ہو رہا، کھچڑی پک رہی ہے، چڑیا لائی دال کا دانہ کوا لایا چاول کا دانہ کسی نے لات مار دی، ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ گئی۔ اب بیٹھی ڈھول بجا، خان کی مخالفت اور منع کرنے کے باوجود علیمہ باجی نے پارٹی پر عملا قبضہ کرلیا وکلا پیچھے رہ گئے فیسیں وصول کرنے میں لگے ہوئے ہیں کسی نے کہا کسی وکیل نے 76 کروڑ وصول کرلیے پتا نہیں کیا ہو رہا ہے۔