Wed, September 16, 2026

موسمیاتی تبدیلی کے لیے حکومت کی سست رفتار پر سپریم کورٹ کا اظہار ناپسندیدگی

موسمیاتی تبدیلی کے لیے حکومت کی سست رفتار پر سپریم کورٹ کا اظہار ناپسندیدگی

اسلام آباد :سپریم کورٹ میں موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے اتھارٹی کے چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی میں سست روی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے اس بات پر سخت ریمارکس دیے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک اہم مسئلہ ہے، اور حکومت کو اس پر چیتے کی رفتار سے کام کرنا چاہیے، لیکن وہ کچھوے کی چال چل رہی ہے۔

جسٹس امین الدین نے خیبر پختونخوا سے فیصل امین کو اتھارٹی کا رکن نامزد کیے جانے پر تنقید کی، کیونکہ فیصل امین وزیراعلی کے بھائی ہیں، جس سے سیاسی تعلقات کا تاثر ملتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ چیئرمین کی تعیناتی کے لیے تین مرتبہ اشتہار دیے جا چکے ہیں، لیکن پہلے دو اشتہارات کے دوران شارٹ لسٹ ہونے والے افراد دوہری شہریت کے حامل نکلے۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ اگر پہلے اشتہارات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تو یہ کیوں ہوا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ صوبوں سے اتھارٹی کے ممبران تعینات ہو چکے ہیں، جن میں خیبر پختونخوا سے فیصل امین اور بلوچستان سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر شامل ہیں۔ تاہم، جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ اتھارٹی کے رولز کب تک مکمل ہوں گے؟

سماعت کے دوران عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

ٹیگز: