ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ کابینہ اجلاس میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دی جانا تھی۔ وزیراعظم شہبازشریف کی وطن واپسی کے بعد ہی اب کابینہ کا اجلاس بلایا جائے گا۔ اس طرح جمہوری تقاضے پورے کرنے کے لئے یہ مسودہ فی الوقت پارلیمنٹ میں پیش نہیں ہوگا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ سابق دور حکومت میں کابینہ کو کیسے ہراہم معاملے میں بائی پاس کیا جاتا تھا۔ فرد واحد کا گھمنڈ ایسا تھا کہ کابینہ میں کوئی رکن رائے ہی نہیں دیتا تھا۔ مگر اب حکومت نے اس اہم ترمیم کے مسودے پر تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے مشاورت تک یہ مسودہ پارلیمنٹ میں نہ لینے کا داشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ گو کہ پیپلز پارٹی اس ترمیم کے بیشتر نکات پر اتفاق پہلے ہی کر چکی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے پیپلزپارٹی کو تمام تحفظات دور کرنے کا یقین دلایا تھا۔ متحدہ کو بھی بلدیاتی بل شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اسی طرح وزیراعظم سے صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کی قیادت میں وفد کی ملاقات بھی ہوئی۔ بلوچستان عوامی پارٹی نے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم ہاو¿س کے اعلامیے کے مطابق شہبازشریف نے صدر استحکام پاکستان پارٹی اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی سربراہی میں وفد کو مجوزہ ترمیم پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر چوہدری سالک کی سربراہی میں ق لیگی وفد کو بھی اعتماد میں لیا۔ یہی تھے جمہوری تقاضے جنہیں باہمی مشاورت سے ہی آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر بلاول بھٹو کی بات کی جائے توپیپلز پارٹی کے چیئرمین کی گفتگو سیاسی عمل اور مشاورت کے ا±س طریقہ کار کی عکاسی کرتی ہے جو جمہوریت کی اصل روح ہے۔
سب سے بڑی اتحادی جماعت، پیپلز پارٹی، نے آرٹیکل 243 میں مطلوبہ ترامیم اور آئینی عدالتوں کے قیام و دائرہ اختیار پر اتفاق کیا ہے۔ ایک بڑے سیاسی فریق کا یہ تعمیری رویہ خوش آئند اور اتحاد کے اندر پختگی کی علامت ہے۔یہ نہایت حوصلہ افزا بات ہے کہ آرٹیکل 243 پر باقی جماعتوں کی جانب سے بھی اتفاق رائے سامنے آ چکا ہے۔ ایک اہم قومی معاملے پر اس یکجہتی کا پیغام بھارت سمیت تمام مخالف عناصرکی نیندیں اڑانے کے لئے کافی ہے۔پاکستان اپنے بنیادی ریاستی امور، خصوصاً دفاع اور کمانڈ کے ڈھانچے پر متحد ہے۔ فیلڈ مارشل کا عہدہ ملک کے بقا کی ضمانت دیتا نظر آ رہا ہے جیسا کہ امریکی صدر سمیت ہر بڑا عالمی لیڈر اس عہدے کا معترف ہے۔ دوسری جانب ایک مخصوص طبقہ بدستور آرٹیکل 243 کی اصلاحات کی مخالفت یا تنقید کر رہا ہے۔ جو یا تو معاملے کی محدود سمجھ بوجھ رکھتا ہے یا پھر اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کے زیرِ اثر ہے۔آرٹیکل 243 کی تفصیلات کے حوالے سے یہ ضروری ہے کہ قومی سلامتی سے جڑے حساس معاملات کو عوامی یا میڈیا مباحثوں میں زیرِ بحث نہ لایا جائے۔ پاکستان میں پارلیمانی کمیٹیوں کا ایک جامع اور واضح نظام موجود ہے جہاں تمام مسودات، تفصیلات اور نتائج کو پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں دیکھا جائے گا۔جب ترمیم پارلیمنٹ کے ارکان کی جانب سے طے پا جائے گی، تو مسلح افواج کو ضروری رہنمائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ نئے آئینی ڈھانچے کی روشنی میں اپنی تنظیمی ساخت کو تشکیل دے سکیں۔ اس سارے عمل کی بنیادی شرط وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور نگرانی ہے، جو پہلے ہی موجود ہے۔جب پارلیمنٹ آئینی رہنمائی فراہم کر دے گی، تو مسلح افواج اور متعلقہ وزارتیں موزوں ترین ڈھانچہ وضع کریں گی۔ یہ ایک ادارہ جاتی عمل ہے اور اس پر عوامی فورمز میں قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے۔ بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کو ”مسلط“ کیا گیا ہے، مگر جس انداز میں اس پر بات چیت اور غور و خوض جاری ہے، وہ خود اس پروپیگنڈے کا بہترین جواب ہے۔ پیپلز پارٹی رہنماو¿ں کی گزشتہ روز کی پریس گفتگو نے اس غلط فہمی کی ہوا نکال دی ہے۔اصلاحات کی ضرورت طویل عرصے سے تسلیم کی جا چکی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اس کے مختلف پہلوو¿ں پر اندرونی طور پر بات کی، اختلافات کی نشاندہی کی اور اتفاقِ رائے کے نکات طے کیے۔ یہی سیاسی عمل کا طریقہ ہے، اجتماعی مباحثہ جو پارلیمانی گفتگو میں قابلِ عمل حل تک لے جاتا ہے۔اٹھارویں آئینی ترمیم اور اس سے جڑے موضوعات جیسے آبادی کے کنٹرول اور یکساں نصابِ تعلیم کے حوالے سے مکمل اتفاقِ رائے ہے کہ اٹھارویں ترمیم کی روح برقرار رہنی چاہیے۔ کسی سیاسی جماعت نے اس کے بنیادی اصولوں پر اعتراض نہیں اٹھایا۔ بعض عملی مسائل، جیسے وسائل کی تقسیم، تعلیم کی صوبائی ذمہ داری، آبادی کے نظم و نسق، اور ضلعی سطح پر مو¿ثر اختیارات کی منتقلی، قابلِ حل ہیں۔ تمام ذمہ دار سیاسی فریق اس بات پر متفق ہیں کہ ان امور پر پیش رفت ضروری ہے۔ کب، کیسے، اور کس ترتیب سے یہ ہوگی، یہ سب جمہوری مشاورتی عمل کا حصہ ہے۔ یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کیا ان معاملات کو این ایف سی ایوارڈ، سی سی آئی اور دیگر موجودہ فورمز کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔اس پورے عمل کا انداز ا±ن عناصر کے لیے بہترین جواب ہے جو کہتے ہیں کہ وقت کم ہے یا گھڑی چل رہی ہے۔ حکومت تمام فریقین سے بات کر رہی ہے، اور عمل انتہائی شفاف اور جمہوری انداز میں آگے بڑھ رہا ہے ایسے میں افواہ ساز فیکٹری اور ملک دشمن عناصر ہمیشہ کی طرح پراپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کی سمت واضح اور مثبت ہے۔ ترقی کا گراف بہتر ہے۔ سفارتی کامیابیاں دنیا دیکھ رہی ہے۔ بھارت کی ابھی تک نیندیں اڑی ہوئی ہیں۔ ایسے میں کسی بھی آئینی تقاضے کو پورا کرنے میں رکاوٹ ڈالنا اور منفی پراپیگنڈا کرنا ملک دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔ اسی طرح بعض لوگ سوشل میڈیا پر دیکھا دیکھی بغیر سوچے سمجھے قیاس آرائیوں کو ہوا دے رہے ہیں ان سے گریز کرکے سازشیوں کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے تاکہ ان افواہ سازوں کے مشن کی تکمیل نہ ہو سکے۔